زور تھا صرف ایک چیز پر کہ”پیسے کیسے بنانے تھے“ جواب دہی کا تگڑا سسٹم ہوتا تو شاید نہ یہ ملک ٹوٹتا اور نہ ہی ہمارے حالات ایسے ہوتے

 زور تھا صرف ایک چیز پر کہ”پیسے کیسے بنانے تھے“ جواب دہی کا تگڑا سسٹم ہوتا ...
 زور تھا صرف ایک چیز پر کہ”پیسے کیسے بنانے تھے“ جواب دہی کا تگڑا سسٹم ہوتا تو شاید نہ یہ ملک ٹوٹتا اور نہ ہی ہمارے حالات ایسے ہوتے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:شہزاد احمد حمید
قسط:409
 زور تھا صرف ایک چیز پر کہ”پیسے کیسے بنانے تھے۔“ ہاں بھول گیا پیٹرول اور ڈیزل چوری کا بھی بڑا رواج تھا۔ بیچا بھی جاتا اور طاقت وروں کو سپلائی بھی کیا جا تا تھا۔ ٹی ایم او خاں پور اعجاز عتیق پرویز الٰہی کی حکومت کے سابق صوبائی وزیر شفیق کو سرکاری پیٹرول ڈرموں میں لاہور پہنچایا کرتا تھا۔15 لیٹر والی ڈرمی میں 60 لیٹر ڈیزل ڈالنا تو بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ان کے خلاف ایک لمبی چوڑی انکوائری رپورٹ کمشنر نے خود اپنے دستخط سے اتھارٹی(سیکرٹری بلدیات، حکومت پنجاب)کو بھجوائی۔فولو اپ بھی کیا نتیجہ صفر۔ایک روز مجھے کہنے لگے؛”شہزاد صاحب! آپ کا محکمہ سمندر ہے جو چیز پھنکو ڈوب جاتی ہے۔ تیر تا کچھ نہیں۔ میں خاں پور والے کیس میں خود سیکرٹری بلدیات خضر حیات گوندل سے ملا تھا۔ ان تک ہماری رپورٹ پہنچنے ہی نہیں دی گئی تھی۔ دوبارہ میں نے ان کو دی ہوا پھر بھی کچھ نہیں۔“ کمشنر کہہ ٹھیک رہے تھے۔ اگر اس ملک میں جواب دہی کا تگڑا سسٹم ہوتا تو شاید نہ یہ ملک ٹوٹتا اور نہ ہی ہمارے حالات اتنے درگردوں ہوتے۔
تگڑوں سے وصولی؛
 کمشنر نے ان فالو اپ میٹنگز کے بعد ہدایت جاری کیں کہ واجبات کی وصولی تگڑے لوگوں سے شروع کریں کمزور خود ہی دینا شروع کر دیں گے۔ان واجبات کی وصولی کی عجب کہانی بھی سن لیں۔ ٹی ایم اے لیاقت پورکے ایک کروڑ روپے کے زیادہ کے واجبات کی وصولی باقی تھی۔ اے سی / ایڈمنسٹرٹر لیاقت پور نوجوان افسر اور شاید ان کی دوسری پوسٹنگ تھی کو واجبات کی وصولی میں مشکلات کا سامنا تھا۔ ناد ہندگان میں حکمران جماعت کے بہت سے بااثر افراد بھی شامل تھے۔ اے سی نے معاملہ میرے ساتھ ڈسکس کیا۔ میں نے انہیں مشورہ دیا کہ”رات گئے ان بااثر افرد کی دوکانیں سیل کر دیں یہ خود بخود ہی پیسے جمع کرانے لگیں گے اور چھوٹے دوکان دار کرائے کی واجب االادا رقم بغیر کہے ہی جمع کرا جائیں گے۔۔“ انہوں نے جواب دیا؛”میرا لئے ایسا کرنا بھی مشکل ہے۔“یہ ان کا انکار ہی تھا۔ ہم یہ معا ملہ discuss  کرنے کمشنر کے پاس چلے آئے۔ انہوں نے میری بات سے اتفاق کیا اور اے سی سے کہا؛”آ پ اپنا کام کریں باقی میں خود سنبھال لوں گا۔“ایسا ہی ہوا۔ اگلے روز وہ بااثر لوگ مقامی ایم پی اے کو ساتھ لئے کمشنر کے دفتر پہنچ گئے۔ کمشنر نے مجھے بھی بلا لیا اور پوچھا؛”کیا معاملہ ہے۔“ میں نے ساری تفصیل بتا دی۔ کمشنر نے وفد سے کہا؛”یہ میرا فیصلہ ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ آپ کرایہ ادا نہ کریں۔ کل تک  اپنے سارے ڈیوز ادا کر لیں ورنہ ان جائیدادوں کی نئے سرے سے نیلامی کریں گے۔ یہ بھی یاد رکھیں آئندہ سے کرایہ بھی مارکیٹ ریٹس کے مطابق ادا کرناہو گا۔“ وفد میں کچھ لوگوں نے اس بات کوresist کرنے کی کوشش کی اور کچھ نے احتجاج کیا۔ وہ اس زعم میں تھے کہ بااثر اور حکومتی پارٹی سے تعلق رکھتے تھے ہمارا کون کیا کر سکتا تھا۔ کمشنر نے ان کے ارادے بھانپ کر ان سے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا؛”میری آفر اور شرائط آپ کو منظور نہیں تو ان دوکانوں کی الاٹمنٹ نئے سرے سے کر دیتے ہیں۔“ ساتھ ہی اے سی لیاقت پور سے کہا؛”اے سی صاحب؛صبح ان لوگوں کی الاٹمنٹ ڈیفالٹر ہونے کی وجہ سے کینسل کریں اور مجھ سے ان دوکانوں کی نئے سرے سے نیلامی کی اجازت کے لئے نوٹ بھجوائیں۔“کمشنر کا موڈ دیکھ کر وفد کا ہر شخص ٹھنڈا پڑ گیا اور ایم پی اے بولے؛”جناب!یہ 3 دن میں واجب الادا رقم جمع کرا دیں گے۔ اتنی سی رعایت تو دے دیں۔“ ان کی بات مان لی گئی تھی۔ یقین کریں تین دن میں سبھی نے بقایات جات ادا کر دئیے۔ گناہ بخشوانے آئے تھے اور روزے بھی پلے پڑ گئے۔ تگڑوں نے ادائیگی کی تو کمزوروں سے وصولی خود بخود ہی ہو گئی تھی۔پورے ڈویثرن میں کسی کی جرأت نہ ہوئی کی وہ ٹی ایم اے کے بقایاجات ادا نہ کرے۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -