ایران پر ممکنہ نئے امریکی حملے میں کن ہتھیاروں کے استعمال کا امکان ہے؟
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ایک بار پھر فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ اگر امریکا نے واقعی حملہ کیا تو وہ کن ہتھیاروں اور عسکری ذرائع کا استعمال کر سکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ گزشتہ برس ایرانی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملے کو اپنی بڑی فوجی کامیابی قرار دیتی رہی ہے، جس میں امریکی فضائیہ کے بی ٹو بمبار طیاروں نے دنیا کے سب سے طاقتور غیر جوہری بم استعمال کرتے ہوئے ایرانی جوہری مراکز کو نشانہ بنایا تھا، اور اس دوران نہ کوئی امریکی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی کوئی طیارہ تباہ ہوا۔
سی این این کے مطابق اب صورت حال مختلف ہے۔ اس بار ٹرمپ ایران میں سخت گیر حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلنے والے لاکھوں مظاہرین کی حمایت میں ممکنہ حملے کی بات کر رہے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایسا کوئی بھی نیا حملہ گزشتہ سال کے محدود اور ایک وقتی جوہری حملے جیسا نہیں ہوگا، بلکہ اس کا دائرہ کہیں زیادہ وسیع ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مظاہرین کی حمایت میں کسی بھی امریکی کارروائی کا ہدف ایرانی پاسداران انقلاب، بسیج فورس اور پولیس سے منسلک کمانڈ سینٹرز اور سیکیورٹی ڈھانچے ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہی ادارے احتجاجی تحریک کو کچلنے میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر مراکز گنجان آبادی والے علاقوں میں واقع ہیں، جس کے باعث شہری ہلاکتوں کا سنگین خدشہ موجود ہے۔ ایسی ہلاکتیں امریکی مؤقف کو کمزور کر سکتی ہیں اور الٹا اثر ڈال سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بار بی ٹو بمبار طیارے مرکزی کردار میں نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے علاقائی ہیڈکوارٹرز اور فوجی اڈوں کو ٹوماہاک کروز میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جو امریکی بحریہ کی آبدوزوں اور جنگی جہازوں سے ایرانی ساحلوں سے کافی فاصلے پر رہتے ہوئے داغے جا سکتے ہیں۔ ان میزائلوں کی درستگی بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس طریقے سے امریکی اہلکاروں کو خطرہ بھی کم رہتا ہے۔
اس کے علاوہ امریکا جوائنٹ ایئر ٹو سرفیس اسٹینڈ آف میزائل بھی استعمال کر سکتا ہے، جو ایک ہزار پاؤنڈ وزنی گہرائی میں مار کرنے والا وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور تقریباً ایک ہزار کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔ یہ میزائل امریکی فضائیہ کے مختلف جنگی طیاروں اور بمباروں کے ساتھ ساتھ امریکی بحریہ کے طیاروں سے بھی فائر کیا جا سکتا ہے، اور اس کے لیے ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونا ضروری نہیں ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ڈرونز کا استعمال بھی خارج از امکان نہیں، تاہم قریبی فاصلے سے بم گرانے والے پائلٹ بردار طیاروں کا استعمال بہت زیادہ خطرناک سمجھا جائے گا، اس لیے اس امکان کو کم قرار دیا جا رہا ہے۔
عام طور پر مشرق وسطیٰ میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی موجودگی دیکھی جاتی ہے، مگر موجودہ صورت میں قریبی کیریئر ہزاروں میل دور جنوبی بحیرہ چین میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر فوری حملہ کیا گیا تو وہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی فضائی اڈوں سے یا پھر طویل فاصلے سے اڑان بھرنے والے طیاروں کے ذریعے ہوگا۔ گزشتہ برس بی ٹو بمبار طیارے امریکا کی ریاست میزوری سے بغیر رکے ایران تک گئے تھے اور دورانِ پرواز ایندھن بھروایا گیا تھا، اور یہی صلاحیت دیگر امریکی جنگی طیاروں کے پاس بھی موجود ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے اس بار حملہ کیا تو وہ نمایاں، ڈرامائی اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنے والا ہوگا، لیکن اس کا دورانیہ مختصر رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایسے آپریشنز کو ترجیح دیتی ہے جن میں امریکی افواج کے لیے خطرہ کم سے کم ہو اور کارروائی جلد ختم ہو جائے۔
ایک امکان یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکا ایرانی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے، خاص طور پر خلیج فارس میں موجود مراکز نشانہ بن سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ہدف نہ صرف سب سے آسان اور محفوظ ہو سکتا ہے بلکہ اس سے ایران کو درمیانی اور طویل مدت میں شدید معاشی نقصان پہنچے گا، جبکہ بڑے شعلے اور دھواں عالمی میڈیا میں نمایاں کوریج بھی حاصل کر لیں گے۔
