بلوچستان بدامنی کیس ، سپریم کورٹ نے آئی جی کو 10 روذ میں لاپتہ افراد کو پیش کرنے کی ہدایت کر دی

بلوچستان بدامنی کیس ، سپریم کورٹ نے آئی جی کو 10 روذ میں لاپتہ افراد کو پیش ...

  

کوئٹہ(این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے بلوچستان میں امن وامان سے متعلق کیس کی سماعت کے دور ان آئی جی ایف سی کو 10روز میں سات لاپتہ افراد پیش کرنے ¾صوبائی سیکرٹری داخلہ نصیب اللہ بازئی کو ڈیرہ بگٹی میں لگائی گئی بارودی سرنگیں صاف کر نے اور لوگوں کی آزادانہ نقل و حمل کو یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے ایک ہفتے میں رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جائے جس کے بعدمیڈیا اوروکلا علاقے کا دورہ کریں ¾ صوبائی سیکرٹری داخلہ ڈیرہ بگٹی میں آئین کانفاذ نہیں کرسکتے تو سپریم کورٹ کا نمائندہ ڈیرہ بگٹی میں بٹھادیں گے جبکہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ ایف سی پر سنگین الزامات ہیں ¾ لاپتہ افراد کو بازیاب کرائیں ورنہ حکم جاری کرینگے ¾ عدالت کی آئی جی ایف سی سے کوئی دشمنی نہیں ¾ لوگوں کو جوابدہ ہیں ¾ اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتے۔ بلوچستان میں امن وامان اور لاپتہ افراد کے کیس کی سماعت پانچویں روز جمعہ کو بھی چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی سماعت شروع ہوئی تو آئی جی ایف سی میجر جنرل عبیداللہ خان عدالت میں پیش ہوئے چیف جسٹس نے آئی جی ایف سی کو مخاطب کرکے کہا کہ ایف سی پر سنگین الزامات ہیں ہر دو،تین کیس میں ایف سی پر لوگوں کے اٹھانے کا الزام ہے اور اس حوالے سے سیشن جج نوشکی کی رپورٹ بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتاجس پر آئی جی ایف سی نے کہاکہ وہ لاپتہ افراد کے کیسز میں حکومت کے ساتھ تعاون کررہے ہیں اور اس حوالے سے تمام کمانڈنٹس کو احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں وہ لاپتہ افراد کے خاندان کو یقین دلاتے ہیں کہ لاپتہ افراد کی تلاش کےلئے ہر ممکن کوشش کریں گے اور اگر ان کو معلوم ہوتا کہ یہ لاپتہ افراد ایف سی کی تحویل میں ہیں تو وہ انہیں آج ہی لے آتے تاہم چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ اندرونی کہانی جانتے ہیں کہ لوگ ہمارے ملک کے اداروں کے پیچھے پڑے ہیں اورہم نہیں چاہتے ہیں کہ ہماریادارے بدنام ہوں ان کے پاس ایف سی کے حوالے سے شواہد ہیں اگر آپ کی فورس میں موجود چندغلط عناصرظاہرہوں تو آپ کی فورس کی عزت بڑھے گی، آپ اپنے کمانڈنٹس سے کہیں کہ جائیں اور لاپتہ افراد لے کر آئیں ورنہ ہم پانچ منٹ میں آرڈر کریں گے جس پر آئی جی ایف سی کمرہ عدالت سے چلے گئے تاہم کچھ دیر میں عدالت کے طلب کرنے پر دوبارہ کمرہ عدالت میں پہنچ گئے اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ملک کی سلامتی کو بہت سے خدشات لاحق ہیں جس پرچیف جسٹس نے آئی جی ایف سی سے کہا کہ عدالت کی ان سے کوئی دشمنی نہیں مگر عدالت اپنی آنکھیں بند نہیں کرسکتی کیوں کہ وہ لوگوں کو جواب دہ ہے چیف جسٹس نے آئی جی سے کہاکہ ان کے پاس چوائس ہے کہ لاپتہ افراد کو لے آئیں یا وہ کمانڈنٹس کو سزا دے سکتے ہیںاس کے بعد چیف جسٹس نے آئی جی ایف سی کو سات لاپتہ افراد کودس روز میں بازیاب کراکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔سماعت کے دوران وکیل شکیل ہادی نے بتایا کہ مارواڑ میں ایف سی کی چیک پوسٹ کےقریب لوگوں کوماراگیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ گزشتہ روز 9 لاشیں ملیں جبکہ مزید8 مزدوروں کو اغوا کر لیا گیا۔ سیکرٹری داخلہ بلوچستان نے کہاکہ لیویزبہترطریقے سے کام نہیں کررہی جس سے صوبے میں مسائل بڑھے ہیں ۔ چیف جسٹس نے افسروں کے گھرنوکریاں کرنےوالے لیویز اہلکاروں کو فوری واپس بلانے کا حکم دیا۔اس سے قبل چیف جسٹس نے ڈیرہ بگٹی کے حوالے سے صوبائی سیکرٹری داخلہ نصیب اللہ بازئی کو حکم دیا کہ ڈیرہ بگٹی میں لگائی گئی بارودی سرنگیں صاف کی جائیں اور لوگوں کی آزادانہ نقل و حمل کو یقینی بنائیں اس حوالے سے ایک ہفتے میں رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کریں، جس کے بعدمیڈیا اوروکلا علاقے کا دورہ کریں اور اگر وہ ڈیرہ بگٹی میں آئین کانفاذ نہیں کرسکتے تو وہ کریں گے اور سپریم کورٹ کا نمائندہ ڈیرہ بگٹی میں بٹھادیں گے چیف جسٹس نے کہاکہ بلوچستان میں جو صورتحال ہے یہ اگست 2006میں نواب بگٹی صاحب کی شہادت کے بعد سے حالات خراب ہوئے، ہر شخص نواب اکبر خان بگٹی کی عزت کرتا ہے اس موقع پر چیف جسٹس نے صوبائی سیکرٹری داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ بازئی صاحب آپ نے پانچ دن میں سوائے لاشوں کے کیا دیا ہے؟بعد میں امن وا امان کیس کی سماعت چوبیس جولائی تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔

مزید :

صفحہ اول -