ینگ ڈاکٹر وں کو پنجاب حکومت سے شکایت ہے تو تحریری طور پر آگاہ کریں ہائیکورٹ

ینگ ڈاکٹر وں کو پنجاب حکومت سے شکایت ہے تو تحریری طور پر آگاہ کریں ہائیکورٹ

  

لاہور( نامہ نگار خصوصی ) لاہور ہائیکورٹ نے ینگ ڈاکٹرز ہڑتال کے خلاف دائر درخواست کی مزید سماعت20جولائی تک ملتوی کردی۔ گزشتہ روز حکومت پنجاب نے عدالت عالیہ کے7 جولائی کے احکامات پر عمل درآمد کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جبکہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے وکیل ڈاکٹر باسط نے عدالت میں تحریری بیان داخل کیا اور عدالت کو بتایاکہ ینگ ڈاکٹرز قانون کے مطابق ہڑتال نہیں کرسکتے،اگر پنجاب حکومت تحریری طور پر لکھ کر دے تو پی ایم ڈی سی ہڑتالی ڈاکٹروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے گی ، ینگ ڈاکٹرز نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب حکومت نے انکے خلاف انتقامی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اورعدالتی احکامات کے باوجود معطلیوں، برطرفیوں کے نوٹسز واپس نہیں لیے گئے۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ینگ ڈاکٹروں کو پنجاب حکومت سے کوئی شکایت ہے تو وہ تحریری طور پر عدالت کو آگاہ کریں۔ جبکہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب فیصل زمان نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد کردیا گیا ہے۔ اس موقع پر درخواست گزار نے ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے متعلق جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کی استدعا بھی کی عدالت نے آئندہ سماعت پر فریقین کے وکلا کو حتمی بحث کے لیے طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 20 جولائی تک ملتوی کردی،حکومت پنجاب کی طرف سے عدالت میں متعلقہ نوٹیفکیشنز پیش کئے گئے جن کے مطابق متعلقہ ڈاکٹروں کی برطرفی کو معرض التواءمیں رکھ کر انہیں تنخواہیں ادا کرنے، ڈاکٹروں کے تبادلوں کی معطلی اور شوکاز نوٹسز پر کارروائی روکنے کے حکم نامے شامل ہیں،پنجاب حکومت نے عدالت کو ڈاکٹروں کے سروس سٹرکچر کے لئے کمیٹی کی تشکیل سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ کمیٹی میں سینیٹر اسحاق ڈار، زاہد حامد، ڈاکٹر فیصل مسعود، ڈاکٹر جاویدعمر، میڈیکل ٹیچرزز ایسوسی ایشن کے نمائندگان تحسین ریاض اور امجد، پی ایم اےے کے ڈاکٹر تنویر، ڈاکٹر اظہار اور ڈاکٹر ابرار جبکہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ناصر عباس، ابوبکر اور عامر بندیشہہ کے علاوہ وزیراعلیٰ کے مشیر خواجہ سلمان رفیق، سیکرٹری صحت، سیکرٹری فنانس، سیکرٹری قانون اور سیکرٹری ریگولیشنز شامل ہیں، کمیٹی کا ایک اجلاس ہوچکا ہے جبکہ دوسرا اجلاس آئندہ ہفتے ہوگا، پی ایم ڈی سی نےے اپنے جواب میں کہا کہ ڈاکٹروں کی ہڑتال کے معاملے کو خراب کرنے کی ذمہ دار پنجاب حکومت ہے جس کے عہدیداروں کی عدالت کو سرزنش کرنا چاہیے، حکومت اگر سنجیدہ اقدامات کرتی تو معاملہ اس حد تک نہ بگڑتا، حکومت پنجاب کے وکیل فیصل زمان خان نے ڈاکٹروں کے خلاف حکومت کارروائی روکنے سے متعلق نظرثانی درخواست پر حکم جاری کرنے کی استدعا کی تو فاضل جج نے کہا کہ اس پر جواب طلب کر لیتے ہیں جس پر فیصل زمان نے کہا کہ کسی سے کیا جواب طلب کیا جائے گا؟ جس کے بعد عدالت نے ہدایت کی کہ نظرثانی کی اس درخواست کی مزید سماعت بھی بنیادی رٹ درخواست کے ساتھ 20جولائی کو ہوگی۔

مزید :

صفحہ اول -