توہین عدالت قانون کیخلاف درخوستیں سماعت کیلئے منظور وزیر اعظم ، سپیکر ، چئیرمین سینیٹ سمیت 7 افراد کو نوٹس جاری

توہین عدالت قانون کیخلاف درخوستیں سماعت کیلئے منظور وزیر اعظم ، سپیکر ، ...

  

کوئٹہ(این این آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین عدالت کے قانون کے خلاف دائر کردہ آئینی درخواست میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف ‘ سپیکر قومی اسمبلی ‘ چیئر مین سینیٹ‘ وزارت قانون ‘اٹارنی جنرل اوروزیرقانون اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ توہین عدالت کے قانون کے خلاف دائر کئے گئے تمام کیسزکو یکجا کرکے 23جولائی کو عدالت میں سماعت کےلئے پیش کیاجائے۔سپریم کورٹ نے یہ حکم توہین عدالت کے قانون کے خلاف سینئر وکلا اطہر من اللہ اور باز محمد کاکڑ کی مشترکہ آئینی درخواست کی سماعت کے دوران دیا ۔کوئٹہ رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔سماعت کے دور ان درخواست کے حق میں وکلا نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ توہین عدالت کا قانون آئین کے آرٹیکل 2A کی خلاف ورزی ہے جس میں آزاد عدلیہ کی ضمانت دی گئی ہے، یہ آئین کے آرٹیکل 8،14اور25کی بھی خلاف ورزی ہے جس میں شہریوں کو برابر کے حقوق دیئے گئے ہیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ توہین عدالت کے قانون کے ذریعے عدلیہ کے اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہاکہ عدالت وکلا کے دلائل سن کر یہ محسوس کررہی ہے کہ عدالت صبح کوئی آرڈر پاس کرےگی تو شام تک اس کا ہرقسم کا ردعمل آجائےگا ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے ، وقفے کے بعد ہم اسے مزید غور سے سنیں گے تاہم تقریباً ایک گھنٹے کے وقفے کے بعدچیف جسٹس نے توہین عدالت کے قانون کے خلاف دائر کردہ آئینی درخواست میں وفاق پاکستان ،اٹارنی جنرل اور سیکرٹری قانون کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے حکم جاری کیا کہ کہ اٹارنی جنرل اس درخواست میں عدالیہ کی آزادی کی حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کے جواب آئندہ سماعت میں پیش کریں بعد میں آئینی درخواست کی سماعت23جولائی تک کےلئے ملتوی کردی گئی۔

مزید :

صفحہ اول -