کوئٹہ اے این پی کے جلسہ کے باہر بم دھماکہ فائرنگ ،صوبائی عہدیدار سمیت 6افراد جاں بحق ، درجنوں زخمی

کوئٹہ اے این پی کے جلسہ کے باہر بم دھماکہ فائرنگ ،صوبائی عہدیدار سمیت 6افراد ...

  

کوئٹہ (آن لائن، اے پی اے) کوئٹہ کے نواحی علاقے کچلاک میں عوامی نیشنل پارٹی کے جلسے کے قریب سائیکل پر نصب بم پھٹنے سے 6افراد جاں بحق اور صوبائی صدر سمیت درجنوں زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے نواحی علاقے کچلاک پھاٹک پر عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام جلسہ شروع ہی ہوا تھا کہ سٹیج کے قریب عقب میں نامعلوم افراد کی جانب سے سائیکل پر نصب بم زوردار دھماکے سے پھٹنے کے نتیجے میں پی ایس ایف کے نائب صدر ملک قاسم اور بچے سمیت 6افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ صوبائی صدر اورنگزیب کاسی ،انکی اہلیہ سمیت 12سے زائد افراد زخمی ہوگئے زخمیوں اور نعشوں کو فوری طور پر سول ہسپتال اور کمبائنڈ ملٹری ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے ۔دھماکے سے 3گاڑیاں مکمل طور پر تباہ اور متعدد گاڑیوں اور قریبی دکانوں کوشدید نقصان پہنچا۔بم ڈسپوزل کے مطابق بم دھما کے میں 7سے 8کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ہے اور یہ دھماکہ خیز مواد سائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔ بم دھماکے کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے ٹائر جلاکر احتجاجاً جناح روڈ اور باچا خان چوک کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کردیا جس کی وجہ سے شہر بھر میں ٹریفک جام ہو گئی اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑااور مشتعل افراد نے شہر کے مختلف علاقوں میں ہوائی فائرنگ بھی کی جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بازار بند ہوگئے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے اس موقع پر انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ بم دھماکے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کرکے سخت سے سخت سزا دی جائے۔دوسری جانب قلعہ سیف اللہ میں بھی عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے جلسے میں بم دھماکے کے خلاف احتجاجاً کوئٹہ ژوب قومی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کردیا جس کی وجہ سے قومی شاہراہ پر دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی لمبی لائنیں لگ گئیں اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بتایا گیا ہے کہ دھماکے کے بعد فائرنگ سے جلسہ گاہ کے باہر کھلبلی مچ گئی اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا‘ حادثے کے فوری بعد مقامی افراد ، پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیںاور زخمیوں کو سول ہسپتال کوئٹہ پہنچایا گیا۔ سول ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر کے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف کو طلب کر لیا گیاتاہم ہسپتال میں ملک قاسم اور دیگر 2 زخمی جان کی بازی ہار گئے جس کے باعث دھماکے اور فائرنگ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 6ہو گئی۔ پولیس کے مطابق دھماکہ خیز مواد جلسہ گاہ کے قریب کھڑی سائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔ کچلاک کے علاقے بوستان پھاٹک پہ عوامی نیشنل پارٹی کا جلسہ جسے ہی شروع ہوا تو جلسہ گاہ کے عقب میں کھڑی سائیکل میں نصب بم کو ریموٹ کنڑول کے ذریعے چلایا گیا دھماکے کے وقت قریب سے گزرنے والا ایک راہ گیر اور خوانچہ فروش موقع پر جاں بحق ہوگے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کوئٹہ کے صدر قاسم خان کاکڑ سمیت 6افراد دوران علاج چل بسے ۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری بلوچستان امن و امان کیس کے سلسلے میں کوئٹہ میں موجود ہیں جبکہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بھی کوئٹہ کا دورہ کرنا تھا جس کے پیش نظر ان کے روٹ پر موجود چار نجی سکولوں میں چھٹی کر دی گئی اور پولیس کی بھاری نفری بھی ان کی سیکورٹی پر مامور تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد مسلح افراد نے خوف وہراس پھیلانے کے لے ہوائی فائرنگ بھی کی اے این پی کے رہنماویں کا کہنا ہے کہ جلسے کو مناسب سیکورٹی نہیں دی گئی۔ سول ہسپتال میں ابتدا ئی طبی امداد دینے کے بعد زخمیوں کو مز ید علاج کے لے سول اور سی ایم ایچ میں داخل کردیا گیا ہے واقعے کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی کے مشتعل کارکنوں کے سول ہسپتال کے باہر احتجاجی مظاہرہ اور اور جناح روڈ کو ٹر یفک کے لے بند کردیا پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی ،ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور تحریک انصاف کے واقعے کی مذمت کی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی نے آج شہر میں شٹرڈاﺅن اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے ہے۔ صدر آصف علی زر داری ¾وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ دہشتگردانہ کارروائیوں سے حکومتی عزائم متزلزل نہیں ہونگے ¾آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی جبکہ وزیر اعظم کے مشیر داخلہ رحمن ملک اور وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔ ڈپٹی وزیر اعظم چوہدری پرویز الٰہی ¾ چیئر مین سینٹ نیئر حسین بخاری ¾ ڈپٹی چیئر مین صابر بلوچ ¾ سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا ¾ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی ¾وزرائے اعلیٰ میاں شہباز شریف ¾ سید قائم علی شاہ ¾ امیر حیدر خان ہوتی ¾ نواب اسلم خان رئیسانی ¾ سید مہدی شاہ ¾ وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری عبد المجید ¾ صدر آزاد کشمیر سر دار یعقوب ¾ گور نر پنجاب لطیف خان کھوسہ ¾ گور نر بلوچستان ذو الفقار مگسی ¾ گور نر خیبر پختون بیرسٹر مسعود کوثر ¾ گور نر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد ¾وفاقی وزراءقمر زمان کائرہ ¾ سید نوید قمر ¾ چوہدری احمد مختار ¾ ڈاکٹر فاروق ستار ¾ وقاص شیخ ¾ ایم کیو ایم کے قائد ا لطاف حسین ¾ مسلم لیگ (ق)کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین ¾ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی ¾ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ¾ جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن ¾ قاضی حسین احمد ¾ جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور دیگر سیاسی و مذہبی رہنماﺅں نے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔صدر اور وزیر اعظم واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردانہ کارروائیوں سے حکومتی عزائم متزلزل نہیں ہونگے ¾آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی جبکہ وزیر اعظم کے مشیر داخلہ رحمن ملک اور وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیدیا ہے صدر اور وزیر اعظم نے انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ دھماکہ کے زخمیوں کو فوری طور پر بہتری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے پسماندگان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو اپنے جوار رحمت میں جگہ اور پسماندگان کو صبر جمیل عطاءکرے۔عوامی نیشنل پارٹی نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ جلسہ کےلئے مناسب سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی عوامی نیشنل پارٹی نے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیابا چا خان مرکز پشاور سے جاری مذمتی بیان میں عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیار ولی ،صوبائی صدر افراسیاب خٹک اور وزیر اطلاعات خیبر پختون خوا میاں افتخار نے کہا کہ ملک میں بدامنی پھیلانے والے اور امن سبوتاژکرنے والے پاکستان کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے اسفندیار ولی خان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اے این پی کے سیکڑوں کارکنوں نے جا نوں کی قربانیاں دیں.پارٹی رہنماوں کے مطابق ملک میں شورش پھیلانے والے پاکستان کے دشمن ہیں اور ان کا کسی نظریے یا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔

مزید :

صفحہ اول -