ایران کا سویلین ری ایکٹر ز کیلئے یورینیم کی فزودگی کا حق تسلیم کرنا چاہئے :جارج پر کووچ

ایران کا سویلین ری ایکٹر ز کیلئے یورینیم کی فزودگی کا حق تسلیم کرنا چاہئے ...

  

واشنگٹن(اظہرزمان،بیوروچیف)جب تک ایرانی قیادت کو اپنی فتح والے اقدامات کا اعلان کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس کے ساتھ ایٹمی مسئلے پر تعطل کے خاتمے کے لئے کوئی سفارتی معاہدہ نہیں ہو سکتا،امریکی تھنک ٹینک ”کارینگی انڈومنٹ“ کے سینئر تجزیہ کار جارج پرکووچ نے اپنی تازہ کمنٹری میں واضح کیا ہے کہ بیرونی دنیا کو ایران کا یہ حق تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ اپنے سویلین ری ایکٹرز کے لئے یورینیم کی افزودگی کرسکتا ہے،اس صورت میں وہ اپنے عوام کو سویلین محاذ پر کامیابی کا بتا کر ایٹمی ہتھیاروں کے فروغ کو روکنے والی پابندیوں کو قبول کرنے کے لئے تیار کر سکتا ہے، جارج پرکووچ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپ ہر وقت ایران میں جمہوریت اور انسانی حقوق پر دباﺅ ڈالنے کی سرکاری پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر وہ چیز بری ہوگی جس سے ایرانی حکومت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، جمہوری اور انسانی اقدار کا تحفظ اہم ہے لیکن اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ جنگ کے امکان کو ختم کرنے کے لئے ایٹمی سمجھوتہ ہو جائے کیونکہ جنگ کی صورت میں ایران کے اندر ان انسانوں کے مصائب کے لئے بہت اضافہ ہو جائے گا جن کے حقوق کے لئے مغرب اور امریکہ کو بہت فکر ہے، تجزیہ کار نے اس سلسلے میں سوویت یونین کی مثال دی جہاں رونالڈریگن اور دوسرے امریکی صدور آمرانہ نظام کی مخالفت کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ ایٹمی معاہدے کرنے کی کامیاب کوششیں کرتے رہے ہیں، جارج پرکووچ نے واضح کہا کہ ایران میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے حامی مشکل میں مبتلا ہیں اس کا سبب یہ ہے کہ جب امریکہ اور برطانیہ نے 1953ءمیں قوم پرست وزیراعظم مصدق کا اقتدار ختم کرایا تو اس کے بعد شاہ ایران کی حمایت یافتہ جو حکومتیں قائم ہوتی رہیں وہ تمام عوام پر جبر کرتی رہیں اور یہ سلسلہ 3،3عشروں تک جاری رہا، 1979ءکے انقلاب سے ابتداءمیں بہت امیدیں وابستہ ہوئیں لیکن جمہوریت اور جدیدیت کی قوتوں کو بہت جلد آیت اللہ خمینی کے پیروکاروں نے کچل کر رکھ دیا، 1997ءمیں خاتمی کے برسراقتدار آنے سے سیاسی اصلاحات اور سول سوسائٹی کو فروغ دینے کے اقدامات کی وجہ سے حالات بہتر ہوئے لیکن جلد ہی اس پر رجعت پسند لیڈر حاوی ہوگئے اور انقلابی گارڈ موثر حیثیت میں آگئے،2009ءمیں انتخابات میں دھاندلی کے بعد سبز تحریک وجود میں آئی اور اپوزیشن مضبوط شکل میں سامنے آئی، 2011ءمیں ایران کے سول سوسائٹی کے لیڈروں کے انٹرویوز پر مبنی ایک رپورٹ سامنے آئی جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہر طبقہ فکر کے لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو وہ اس ملک میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے فروغ کی راہ میں تباہ کن رکاوٹیں پیدا کر دے گا،حتیٰ کہ نوبل یافتہ ایرانی باغی شیریں عبادی کا بھی کہنا ہے کہ ایرانی عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع ملنا چاہیے اور امریکہ کو ایسے اقدام کرنے چاہئیں جو ایرانی عوام کے لئے نقصان کا باعث بننے کے لئے سود مند ثابت ہوں۔

مزید :

صفحہ آخر -