نیشنل اکیڈمی فار پریزنرز کی سیکیورٹی وفاقی وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے، رانا ثناءاللہ

نیشنل اکیڈمی فار پریزنرز کی سیکیورٹی وفاقی وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے، رانا ...

  

لاہور(این این آئی) صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ خان نے سانحہ رسول پارک پر پنجاب حکومت کی طرف سے شہداءکے خاندانوں ‘خیبر پختوانخواہ کی عوام اور حکومت سے اظہار افسوس اور دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ پنجاب حکومت اس واقعے میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کےلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی‘ وزیر قانون نے پنجاب حکومت کی طرف سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل اکیڈمی فار پریز وفاقی وزارت داخلہ کے ماتحت ہے اور اسکی سکیورٹی بھی اسکی ذمہ داری ہے ،اکیڈمی کے ڈی جی نے ہاسٹل بارے کبھی صوبائی حکومت کو آگاہ کیا اور نہ ہی اسکی سکیورٹی کے حوالے سے کوئی رابطہ کیا گیا ‘ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز محکمہ تعلقات عامہ پنجاب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیر قانون رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ نیشنل اکیڈمی فار پریزنے تربیت کے لئے آنےوالے جیل وارڈنز کے لئے 2007ءمیں چار ‘ پانچ مرلے کا مکان کرائے پر لے رکھا تھا لیکن اسکے حوالے سے صوبائی حکومت کو قطعاً آگاہ کیا گیا اور نہ ہی کبھی سکیورٹی طلب کی گئی تھی ۔ تمام سکیورٹی اداروں کی سکیورٹی انکے اپنے ذمے ہوتی ہے اور جیل کے اہلکار بھی فائٹنگ فورس ہوتے ہیں ۔ انہوں نے ایف آئی آرکے اندراج میں تاخیر کے حوالے سے کہا کہ اس سلسلہ میں اکیڈمی کے ڈی جی سے رابطہ کیا گیا تاہم انکا کہنا تھاکہ وہ وزارت داخلہ سے رابطہ کر رہے ہیں اور بار بار استفسار پر چھ گھنٹے بعد مقدمے کے اندراج کے لئے درخواست موصول ہوئی جس پر فوری مقدمہ درج کر لیا گیا اور پوسٹمارٹم کے لئے مقدمہ درج ہونا قانونی تقاضہ تھا۔ اس واقعہ کو کیبنٹ کی سطح پر دیکھا گیا جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے خود اسکی نگرانی کی اور ایف آئی آر کے اندراج‘ زخمیوں کو طبی سہولیات اور شہداءکی میتوں کی روانگی میں کسی طرح بھی کوتاہی سے کام نہیں لیا گیا ۔ انہوںنے بتایا کہ اس واقعے کی انکوائری کے لئے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے ‘جائے وقوعہ سے تمام شواہد اکٹھے کرکے فرانزک لیب میں بھجوا دئیے گئے ہیں ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یقینا یہ خدشات موجود ہیں کہ دہشتگردی کی حالیہ لہر نیٹو سپلائی کھولنے کا نتیجہ ہو سکتے ہیں لیکن جب تک ان واقعات کا کوئی ملزم گرفتار کر اس سے تحقیقات نہیں ہو جاتیں اس بارے حتمی رائے نہیں دی جا سکتی ۔ مسلم لیگ (ن) کا اس پر واضح موقف ہے کہ نیٹو سپلائی پارلیمنٹ کی قرارداد کو نظر انداز کر کے کھولی گئی ہے اور ہم اسکی مخالفت کرتے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -