ملک میں ٹیکس کلچر کو فروغ دیا جائے‘ صدر اسلام آباد چیمبر

ملک میں ٹیکس کلچر کو فروغ دیا جائے‘ صدر اسلام آباد چیمبر

  

اسلام آباد (پ ر) ٹیکس کا موجودہ نظام بہت ہی پیچیدہ ہے اس لئے ایف بی آر کے نئے تعینات کئے گئے چیئرمین کو چائیے کہ وہ پیچیدہ ٹیکس نظام کو آسان بنائے تاکہ ملکی ریونیو میں اضافہ ہو سکے ان خیالات کااظہار اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر یاسر سخی بٹ نے چیمبر ہاو¿س میں ایک میٹنگ کے دوران کیا۔انہوںنے کہا کہ ٹیکس کے مشکل طریقہ کار کی وجہ سے تاجر برادری کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس لئے ایف بی آر کو چائیے کہ وہ ٹیکس نظام کو شفاف اور آسان بنائے تاکہ ٹیکس کے حوالے سے بزنس کمیونٹی کی مشکلا ت کم ہو سکیں۔صدر آئی سی سی آئی یاسر سخی بٹ نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کو اس وقت بہت سے چیلنجز کا سامنا کر پڑ رہا ہے جس میں توانائی بحران، مہنگائی اور امن و امان کی صورت حال سرفہرست ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ان کے کارباروں کو ترقی دیتے کے لئے انہیں سازگار ماحول مہیا کیا جائے چونکہ تجارتی سرگرمیوں ملک میں ہونگی تو تب ہی ملکی ریونیو میں اضافہ ہو گا۔انہوںنے کہا کہ معاشی سست روی کا ٹھوس اور پائیدار حل ٹیکس پالیسیوں اور ٹیکس کولیکشن کو بہتر کرنے میں مضمر ہے۔ انہوںنے حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جو سیکٹر ٹیکس کے دائر کا ر سے باہر ہیں انہیں فوری طور پر ٹیکس نیٹ میں لایا جائے تاکہ ملک میں ٹیکس کلچر کو پزیرائی مل سکے جس سے ملکی ریونیو میں اضافہ ہو گا۔صدر آئی سی سی آئی یاسر سخی بٹ نے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے اور اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح تقریباً 10 فی صد تھی جو کہ بہت ہی کم ہے انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 30 سے 40 فیصد ہے جبکہ زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 15 سے 20 فی صد ہے جس میں ہمارے ہمسائیہ ممالک انڈیا کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 15 فی صد ہے جبکہ بنگلہ دیش میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 14.5 فی صد ہے جو کہ ہمارے ملک سے کئی زیادہ ہے۔ انہوں نے ایف بی آر کے نئے چیئرمین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس سسٹم کو شفاف، سہل، مساوی اور منصفانہ بنا کر ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کو بڑھائیں۔ یاسر سخی بٹ نے کہا کہ اس وقت ٹوٹل ٹیکس ریونیو میں بلاواسطہ ٹیکس کا حصہ60 فی صد سے تجاوز کرگیا ہے جبکہ بلواسطہ ٹیکس کا حصہ جی ڈی پی کا 2 فی صد سے بھی کم ہے جس سے عام آدمی پر ٹیکس کا زیادہ بوجھ پڑتا ہے انہوںنے کہا کہ ٹیکس نظام میں بہتر لانے کے لئے فوری طور پر ٹھوس اقدامات کئے جائیں تاکہ ٹیکس بیس کو وسعت دی جا سکے۔صدر آئی سی سی آئی نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اس سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

مزید :

کامرس -