آلودگی: دور ِحاضر کا اہم مسئلہ

آلودگی: دور ِحاضر کا اہم مسئلہ
آلودگی: دور ِحاضر کا اہم مسئلہ

  

آلودگی،دورحاضر کا نہایت سنگین مسئلہ ہے۔ہماری زمین اور فضا کو آلودگی کے سبب ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔کائنات میں قدرت نے زبردست توازن رکھاہے اور یہی توازن کائنات کی بقاءکا ضامن ہے۔جب سے انسان نے اپنے اردگرد کے ماحول پر یلغار کی ہے،یہ توازن برقرار نہیں رہا۔نتیجتاً آج کا انسان فطرت سے دور ہوتا چلا جارہا ہے۔اس کی بنیادی وجہ کائنات کے نظام میں انسان کی بے جا دخل اندازی ہے۔انسان نے جہاں سائنسی ایجادات کے بل پراس ٹوٹے ہوئے تارے کومہ کامل بنا دیاہے، وہاں وقتی فوائد کی خاطر اس نے بے شمار تخریبی نوعیت کی سرگرمیاں بھی اختیار کررکھی ہیں، جن کی بدولت کائنات تباہی کے راستے پر گامزن ہے۔ان خطرناک اور مہلک سرگرمیوں میں ماحول کی آلودگی کا مسئلہ سرفہرست ہے۔سستی آسائش کی خاطر انسان کے اختیار کردہ مصنوعی ذرائع و وسائل نے ماحول کے حسن کو نہ صرف غارت کرکے رکھ دیا ہے، بلکہ اسے طرح طرح کی آلودگیوں کی آماجگاہ بنا دیا ہے۔

آج ہماری فضا پانی اور زمین میں کیمیائی مادوں اور نقصان دہ عناصر کی آمیزش خطرناک حد تک ہوچکی ہے۔ آلودگی میں اضافے کی بہت سی وجوہات ہیں۔اگرچہ انسان نے ترقی تو بہت کرلی ہے، لیکن اس ترقی میں انسانی صحت اور ماحول کو درپیش خطرات پر توجہ بہت کم دی گئی ہے۔یہ افسوس کا مقام ہے کہ آج انسان نے اپنے ماحول میں موجود اس عظیم توازن کو خود ہی بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ماحولیاتی آلودگی کی مجملہ اقسام میں اولین قسم”فضائی آلودگی“ کی ہے۔کرئہ ارض کے اردگرد گیسوں کا ایک غلاف موجود ہے۔یہ تمام گیسیں ایک خاص تناسب سے فضا کا حصہ بنتی ہیں، لیکن انسان کی بے جا دخل اندازی سے گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں اور کارخانوں سے خارج ہونے والی مضر صحت گیسیں ہوا میں شامل ہو کر اسے آلودہ کررہی ہیں، جس سے انسانوں میں کئی بیماریاں پیدا ہورہی ہیں۔ ایندھن کے بے دریغ استعمال سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے ہوا کا درجہ حرارت بھی بڑھ رہا ہے۔صنعتی علاقوں میں کام کرنے والے کاربن ان زہریلی گیسوں سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔اس کثافت کا اثر اردگرد کی عمارتوں پر بھی ہورہا ہے۔کئی عمارتیں اس آلودگی کی زد میں آکر اپنی آب و تاب کھو چکی ہیں۔اس فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لئے معدنی ایندھن کا متبادل تلاش کرنا بہت ضروری ہے،نیز صنعتی علاقوں میں گیسوں کے اخراج پرقابو پانے کے لئے پلانٹ نصب کئے جائیں اور زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر بھی فضائی آلودگی کے اثرات کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

فضائی آلودگی کے بعد آلودگی کی دوسری بڑی قسم”آبی آلودگی“ ہے۔ہوا کی طرح پانی بھی انسان کی زندگی کے لئے لازمی عنصر ہے۔بیسویں صدی میں جہاں صنعتی انقلاب اور آبادی کے بڑھنے کے باعث پانی کی ضروریات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے،وہاں پینے کے لئے صاف و شفاف پانی بھی ناپید ہوتا جارہا ہے۔پانی میں کئی طرح کثافتیں اور مادے شامل ہوگئے ہیں۔ایک محتاط جائزے کے مطابق پاکستان میں آلودہ پانی کے باعث بیمار ہونے والوں کی تعداد دوسرے تمام عوامل سے زیادہ ہے۔آبی آلودگی کی وجہ سے معدے اور جگر کی بیماریاں بہت تیزی سے پھیل رہی ہیں۔صنعتی علاقوں کا کثیف مادہ عموماًصاف کئے بغیر ہی ندی نالوں اور دریاﺅں میں بہا دیا جاتا ہے۔اس سے نہ صرف آبی حیات متاثر ہوتی ہے، بلکہ ایسے پانی کو آبپاشی کے لئے استعمال کرنے سے کئی مضر کیمیائی اجزا پودوں کی جڑوں میں سرایت کرجاتے ہیں۔ایسے پودوں کو بطور خوراک استعمال کرنے سے انسانی صحت کو شدید خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔ آلودگی کی ایک اور اہم قسم”زمینی آلودگی“ ہے۔زرعی پیداوار میں اضافے کے لئے فصلوں پر کیڑے مار ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے،جس سے پیداوار میںتو اضافہ ہوجاتا ہے، لیکن ان ادویات کے استعمال سے مٹی کے اوپر کی تہہ کی زرخیزی خاصی کم ہوجاتی ہے۔نیز فصلوں اور پودوں پر بھی ان کے مضر صحت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

زمینی آلودگی کم کرنے کے لئے جنگلات لگانا ایک نہایت موثر اقدام ہے۔جنگلات اور درختوں کی کمی کے نتیجے میں زمین بردگی(کٹاﺅ) کا شکار ہوجاتی ہے۔ بردگی کی شرح میں اضافے سے قابل کاشت اراضی میں کمی آجاتی ہے اور آبی ذخائر میں تلچھٹ کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔حکومت کو چاہیے کہ شجرکاری کے حوالے سے عوامی شعور کو بیدار کرے،تاکہ اس اہم مسئلے کا سدباب کیا جا سکے۔اس مقصد کے حصول کے لئے ترغیبات کے ذریعے بھی عوام کو غیرآباداور بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔ آلودگی سے پاک معاشرہ ہی جدوجہد حیات اور ترقی کی رفتار میں زمانے کے تقاضوں کے ساتھ تنہا سکتا ہے۔ماحول، انسانوں اور قوموں کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔جہاں ماحول انسان سے متاثر ہوتا ہے۔وہاں انسان بھی اپنے ماحول سے اثر پذیر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔انسان اپنے ماحول کی نمائندگی کرتا ہے تو ماحول انسان ہی کا دوسرا روپ ہے، گویا دونوں ایک دوسرے کے لئے ناگزیر ہیں۔

مزید :

کالم -