خط+ استثنا اور خدشات!

خط+ استثنا اور خدشات!
خط+ استثنا اور خدشات!

  

عدالت عظمیٰ کے بنچ نے نئے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو خط لکھنے کی ہدایت کر دی اور اپنے حکم میں کہا ہے کہ خط لکھ کر 25 جولائی تک عدالت کو آگاہ کیا جائے کہ جس حکم کے تحت سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو خط لکھنے کے لئے کہا گیا تھا، وہی حکم موجودہ وزیراعظم کو دیا گیا تھا۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کی طرف سے مزید مہلت اور کارروائی ملتوی کرنے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔ اس سلسلے میں دلچسپ امر یہ ہے کہ حکومت نے توہین عدالت کا جو نیا قانون عجلت میں منظور کرایا۔ اس پر صدر کی توثیق 11جولائی کو ہوئی۔ یوں اس کا آغاز یقیناً 12 جولائی ہی سے شمار ہوگا۔ اسی روز تاریخ سماعت بھی تھی اور عدالت نے سابقہ کارروائی کی روشنی میں اپنا فیصلہ سنا دیا۔ اب بال پھر سے حکومت کی کورٹ میں آگئی ہے کہ وہ اس حکم کی کیا تشریح کرتی یا اس پر عمل سے گریز کی کیا صورت اختیار کرتی ہے۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ توہین عدالت کا نیا قانون منظور کرانے کی حکمت عملی کامیاب رہتی ہے؟.... یوں بھی توقع کے عین مطابق یہ قانون بھی ساتھ ہی چیلنج کر دیا گیا۔ وہ درخواست الگ سے پیش ہوگی تو معلوم ہوگا کہ عدالت عظمیٰ اس کی سماعت کے لئے کیا طریقہ اختیار کرتی ہے۔ پہلا مرحلہ تو اس کے قابل سماعت ہونے کا ہوگا اور اگر اثبات میں فیصلہ ہوتا ہے تو پھر سماعت کے لئے بنچ کی تشکیل کا مرحلہ آئے گا۔ ممکن ہے کہ یہ اسی بنچ کو بھیج دی جائے، جس کے سامنے این آر او یا خط کا معاملہ زیر سماعت ہے۔ بہرحال حکومت کی طرف سے توہین عدالت کے حوالے سے تحفظ کا جو اقدام کیا گیا وہ بھی عدالت عظمیٰ ہی کی صوابدید پر چلا گیا ہے۔

توہین عدالت کا نیا قانون بنانے کے لئے جو بھی جواز پیش کیا گیا وہ اپنی جگہ، لیکن اس کے تحت جو استثنا رکھا گیا ہے، وہی متنازعہ ہوگیا ہے۔ استثنا کا معاملہ ایسا ہے، جسے اب تک چھیڑا ہی نہیں گیا۔ عدالت کے سامنے یہ سوال اٹھایا ہی نہیں گیا، باہر باہر بات کی گئی کہ صدر کو آئین کے آرٹیکل248 کے تحت استثنا حاصل ہے، لیکن اس کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔ اب بھی عدالت عظمیٰ کے اس بڑے بنچ نے چھ آپشنز میں سے ایک کی طرف توجہ مبذول کرائی اور کہا کہ استثنا کے حوالے سے رجوع عدالت ہی سے کرنا چاہئے تھا اور ایسا نہیں کیا گیا۔

 اب عام سطح پر یہ سوال اُبھرتا ہے کہ آخر کار حکومتی اراکین جب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ صدر کو آئین کے آرٹیکل248 کے تحت استثنا حاصل ہے۔ اس لئے خط نہیں لکھا گیا اور نہ لکھا جائے گا۔ تاہم اس سلسلے میں باقاعدہ طور پر عدالت عظمیٰ کے سامنے یہ سوال اٹھایا نہیں گیا۔ ہمارے خیال اور یقین کے مطابق خود حکومتی وکلاءبھی اس سلسلے میں پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔ خصوصی طور پر چودھری اعتزاز احسن، جو طرح دے کر نکل جاتے رہے اور انہوں نے استثنا کے حوالے سے دلائل ہی نہیں دئیے۔ ہم تک جو اطلاعات پہنچی ہیں، ان کے مطابق حکومتی قانونی ٹیم کو خدشہ ہے کہ فیصلہ مخالف ہوگا اور آرٹیکل248 کی تشریح ان کے مو¿قف کے مطابق نہیں آئے گی، بلکہ یہ طے کر دیا جائے گا کہ صدر کو بلا شبہ استثنا حاصل ہے، لیکن یہ رعایت صدر کی حیثیت سے کُرسی صدارت پر متمکن شخصیت کو صدر مملکت کی حیثیت سے ہے اور استثنا اس روز سے شروع ہوتا ہے، جب یہ شخصیت منتخب صدر کے طور پر حلف اٹھا لیتی ہے اور پھر اس کے بعد کے لمحے سے یہ رعایت بھی شروع ہو جاتی ہے۔ تاہم یہ استثنا غیر مشروط نہیں۔ اس سے مشروط ہے کہ یہ شخصیت صدارتی مدت کے دوران صدارتی فرائض و اختیارات کے حوالے سے جو عمل کرے گی وہ استثنا کے دائرہ عمل میں آئے گا۔ دوسرے معنوں میں یہ ریاستی امور کی ادائیگی کے لئے ہے اس کا اطلاق مو¿ثر بہ ماضی اور اس عمل سے نہیں کیا جاسکتا ہے جو صدارتی مدت شروع ہونے سے پہلے کا ہو۔ پھر سوئس مجسٹریٹ کے سامنے جو مسئلہ زیر غور ہوگا یا ہے اس کی نوعیت دیوانی ہے اور استثنا فوجداری معاملات میں لاگو ہوتا ہے۔ قارئین! ہم کو علم غیب نہیں، لیکن جو بات عدالتی معاملات اور آئین و قانون کی ہے۔ اس کے بارے میں ہمیں تھوڑی شد بدھ ہے اور یہی معلومات ہمیں یہ یقین دلاتی ہیں کہ چودھری اعتزا ز احسن نے اسی خدشے کے پیش نظر استثنا پر بحث نہیں کی اور شاید اب بھی نہ کریں، اگر ایسا ہی ہے تو فیصلہ سامنے نظر آ رہا ہے۔

بہرحال سنجیدہ فکر حلقے اس ساری صورت حال کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے اور توقع کرتے ہیں کہ حالات کو مزید نہیں بگاڑا جائے گا یا پھر نہیں بگڑیں گے۔ اس سلسلے میں کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے عشائیہ میں چیف جسٹس مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرف سے تازہ خطاب اور اس کے ذریعے عدلیہ کے عزم کو دہرانے کے عمل کو تعریف کی نظر سے دیکھا گیا اور تعریف کی جا رہی ہے، بلکہ یہ تک رائے دی گئی کہ اس سے ان قوتوں کو مایوسی ہوئی جو ماورائے آئین اقدام کی توقع کرتے تھے۔

بہرحال معاملہ پھر بھی عدالت عظمیٰ ہی کے سامنے ہے اور خطرہ ٹلا نہیں۔ اب بعض حلقوں کی طرف سے یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ عدالت عظمیٰ اٹارنی جنرل سے یا پھر کمشن بنا کر اس سے خط لکھوا دے۔ وزیراعظم کو بخش دیا جائے کیونکہ نئے توہین عدالت کے قانون کے بعد عدالت کی حکم عدولی کے حوالے سے توہین عدالت کی کوئی بھی کارروائی نئے تنازعات کو جنم دے گی اور حالات کا تقاضا یہ نہیں ہے عدلیہ اور انتظامیہ (حکومت) کا ٹکراو¿ تو کسی صورت مناسب نہیں۔ ایسا تو انہی لوگوں کے لئے خوشی کا باعث ہو سکتا ہے جو اس سارے نظام کی بساط لپیٹی جانے کے خواہش مند ہیں۔ ہمارے یقین کے مطابق پارلیمینٹ کے اندر موجود کوئی بھی جماعت ایسا نہیں چاہتی اور جہاں تک پارلیمینٹ کے باہر والی جماعتوں کا تعلق ہے تو جب وہ انتخابات کا مطالبہ کرتی ہیں تو پھر ان کا یقین بھی موجودہ جمہوری نظام پر ہے اس لئے یہ خطرہ یا خدشہ تو نہیں کہ کسی سیاسی جماعت کی طرف سے جاری جمہوری نظام کی جگہ آمریت کی کوشش ہوگی۔

 اب سوال یہ ہے کہ حالات کے گرداب سے نکلنے کا راستہ کیا ہو تو ہمارے نزدیک بھی یہ عام انتخابات ہی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو وسیع تر سطح پر مذاکرات کرنا چاہئیں بلکہ ایک بند کمرے والی گول میز کانفرنس بلالی جائے جس میں پارلیمینٹ سے باہر کی سٹیک ہولڈر جماعتوں کو بھی نمائندگی دی جائے اس کانفرنس میں جتنی بحث کرنا ہے کر لی جائے اور پھر نئے انتخابات کے لئے مہینے اور تاریخ کا تعین کر لیا جائے تاکہ تبدیلی جمہوری انداز ہی سے ہو، کوئی بھی ماورائے جمہوریت اقدام نہ ہو حتیٰ کہ جوڈیشل ایکٹو ازم سے بھی بچا جائے جو لوگ اس قسم کی خواہش کے حامل ہیں۔ ان کو بھی شکست ہونا چاہئے۔ یہ سب سیاسی عناصر کی بالغ نظری پر ہے کہ وہ آپس میں ہی قومی مفاد میں ایک بڑا سمجھوتہ کر لیں اور فیصلہ عوام کو کرنے دیں کہ سب کا دعویٰ عوام ہی پر ہے۔ ہماری دعا ہے کہ ملک میں پھر سے کوئی ایسا وقت نہ آئے کہ ماورائے آئین یا ماورائے جمہوری طرز کوئی حادثہ وقوع پذیر ہو۔ ہماری دیرینہ خواہش قومی امور پر قومی اتفاق رائے کی ہے اور ہم یہی دعا بھی کرتے ہیں اب بھی وقت ہے کچھ نہیں بگڑا۔  ٭

مزید :

کالم -