مصر میں فوج اور اخوان کی کشمکش

مصر میں فوج اور اخوان کی کشمکش
مصر میں فوج اور اخوان کی کشمکش

  

ہمارے برادر ملک مصر میں فوجی جرنیلوں اور اخوان میں سیاسی رسا کشی کا آغاز ہوگیا ہے، مگر اس کا انجام یا نتیجہ کیا ہوگا؟....یہ گزرتے وقت کا مرہون منت ہوگا اور اس میں زیادہ دیر بھی نہیں لگے گی۔ یہ رسا کشی یا کشمکش ہمارے مصری بھائیوں کا پرانا کھیل ہے، لیکن ہمیں اُمید ہے اور دعا بھی کرنا چاہئے کہ اس کا نتیجہ اور انجام بخیر ہو....بظاہر یہی لگتا ہے کہ موجودہ حالات میں کوئی بُری یا خطرناک صورت حال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تقریباً نصف صدی سے فوجی جرنیل سیاسی اقتدار کی ”رس ملائی“ کھا رہے ہیں اور وہ اس کا تسلسل چاہتے ہیں، مگر تقریباً ایک صدی سے ”الاخوان المسلمون“ بھی مار کھا رہی اور وہ ”جرنیلی وارداتوں“ کو بھی اچھی طرح جان گئی ہے اور سیاسی داو¿ پیچ بھی سیکھ چکی ہے، بلکہ وہ داخلی ریشہ دوانیوں اور بیرونی سازشوں کے ہاتھوں اتنی مار کھا چکی ہے کہ جتنی مار مصری جرنیلوں نے اسرائیل کے ہاتھوں بھی نہیں کھائی ہوگی۔ بہرحال کھلاڑی دونوں پرانے ہیں اور یہ کشمکش اور سیاسی رسا کشی کا تماشا بھی بہت پرانا ہے۔

ایک ڈیڑھ سال پرانی ”بہارِ عرب“ کے نتیجے میں اخوان المسلمون کے برسر اقتدار آنے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں اور توقع یہ کرنی چاہئے کہ دونوں کھلاڑی اخوان المسلمون اور فوج، تدبر، حکمت اور دُور اندیشی سے کام لیں گے، جس کے نتیجے میں حالات بہتر اور نئی کروٹ لے سکتے ہیں، ورنہ قاہرہ کا آزادی چوک یا ”میدان التحریر“ اسی طرح تیار اور گرم ہے، جبکہ ”بہار عرب“ بھی اسی طرح پُرجوش اور تازہ ہے، جس کے جھونکے ”شام کے ڈھیٹ ڈکٹیٹر بشار الاسد کو بھی جھنجھوڑ رہے ہیں، جو نشہ ءاقتدار کی گہری نیند سویا ہوا ہے اور ماسکو کی لوریوں کے مزے لے رہا ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ بہارِ عرب ابھی اپنی جوانی اور عروج کو نہیں پہنچ پائی۔ جب تک عرب دنیا کی اصل طاقت مصر و شام پوری طرح نہیں سنبھل پاتے اور اپنا اصل اور جائز کردار ادا کرنے کے لئے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں نہیں آتے....اصل میں مصر اور شام کا یہی کردار ہے جس سے ایک طرف یہودی کانپ رہے ہیں اور جس کا رسک لینے کے لئے مغربی سامراجی، یورپ اور انکل سام بھی تیار نہیں نظر آتے، مگر عرب اور اسلامی دنیا بڑی مدت سے مصر و شام کے اس شاندار اور نتیجہ خیز سیاسی کردار کے لئے بے قرار ہیں۔ اس کے لئے عالم عرب اور اسلامی دنیا کو اپنے مفید اور تعمیری کردار کے لئے آگے آنا چاہئے۔ یتونس کے خالد الغنوشی اور سعودی عرب کے شاہ عبداللہ اس میدان میں آگے بڑھ بھی چُکے ہیں، مگر اس کی تکمیل کے لئے انقرہ کے رجب طیب اردگان کو بھی آگے آنا چاہئے اور اسلام آباد اور تہران کی شاباش بھی ضروری ہے۔ تبھی ایک بار پھر عالم اسلام 1970ءکی دہائی والی شان و شوکت دکھانے کے قابل ہو سکتا ہے۔

گزشتہ صدی کی اسلامی دنیا میں سب سے پہلا فوجی انقلاب تو عثمانی ترکوں کے خلاف آیا تھا، جس میں مغربی سامراجیوں نے مصطفی کمال کو اپنا آلہءکار بنایا اور عثمانی خلافت کا خاتمہ کروا کر سُکھ کا سانس لیا۔ پھر 1950ءمیں مصری جرنیل محمد نجیب کی قیادت کے پردے میں ”آزاد فوجی افسروں“ نے شاہ فاروق کا تختہ اُلٹ دیا، جن کی اصل قیادت کرنل جمال عبدالناصر کے ہاتھ میں تھی۔ انور سادات اور حسنی مبارک، جمال ناصر کے ساتھی اور اس کے پالے ہوئے تھے۔ اس کہانی کا المناک پس منظر یہ ہے کہ شاہ فاروق نے 1948ءکی عرب یہودی جنگ میں حصہ لینے کے لئے مصری فوج کو فلسطین کے محاذ پر بھیج تو دیا تھا، مگر ناکارہ اسلحے کے ساتھ! مصری فوج یہودیوں کے گھیرے میں آگئی تھی، مگر اخوان المسلمون کے رضا کار مجاہدین نے بروقت مداخلت کر کے مصری فوج کو یہودی گھیرے سے نکالا اور اس کی جان بچائی۔ یہاں سے مصری فوج اور اخوان المسلمون کا مصر کے لئے تعاون شروع ہوا جو شاہ فاروق کی معزولی اور نہر سویز کو قومی ملکیت میں لینے کے معرکوں تک جاری رہا، مگر جیسے ایک میان میں دو تلواریں نہیں سما سکتیں، اسی طرح مصر کی عملی سیاست میں دو منظم مصری گروہ فوج اور اخوان المسلمون ایک ساتھ نہ چل سکے یا انہیں ایک ساتھ چلنے نہ دیا گیا؟

دراصل مغربی سامراجیوں اور عالمی صہیونیت کے لئے یہ خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ اگر اخوان المسلمون کا فوج سے تعاون جاری رہا تو مصر ہاتھ سے نکل جائے گا اور اگر مصر ہاتھ سے نکل گیا تو پھر پورے مشرق وسطیٰ میں سامراجی مقاصد کی خیر نہیں! اب بھی جرنیلی، اخوان المسلمون تعاون شایدمفاد پرستوں کو نہ پسند آئے، جس طرح 1950ءمیں پسند نہیں آیا تھا اور ماسکو کی مدد سے مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ کے آزادی چوک میں تقریر کرتے ہوئے ناصر پر گولی چلوائی گئی، جس میں وہ ”بال بال بچ گئے“.... مگر سٹیج پر ڈٹے رہے اور تقریر بھی جاری رکھی، جس سے یہ ثابت ہوگیا کہ ناصر بہت دلیر ہے۔ الزام اخوان المسلمون پر دھرا گیا اور مصر کے ملحد کمیونسٹوں نے ناصر کے ہاتھوں اخوان المسلمون کے خون میں مصر کو نہلا دیا۔ اب ایک بار پھر یہ خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ شاید تاریخ اپنے آپ کو دہرانے کے لئے پَر تول رہی ہو؟.... کم سے کم تل ابیب میں صہیونی دماغ تو کھول رہے ہیں، مگر جب تک انکل سام اور ”ماسی یورپ“ تل ابیب کو سہارہ نہیں دیں گے، اس وقت تک کچھ بھی نہیں ہوگا۔

....لیکن اُمید کی کرن یہ ہے (بلکہ بہت سی کرنیں ہیں) کہ تیونس اور سعودی عرب جیسے دوست آگے آگئے ہیں اور مزید دوستوں کے آگے آنے کی اُمید ہے۔ صدر محمد مرسی ایک بیدار مغر، دور اندیش اور منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور جوش کے ساتھ ہوش سے بھی کام لیتے ہیں۔ فوجی جرنیلوں کو بھی علم ہے کہ نصف صدی کی فوجی آمریت نے مصری قوم کو بیزار ہی نہیں کیا۔ بلکہ ان کا ناک میں دم کر دیا ہے۔ بہارِ عرب کے جھونکے بھی ابھی جاری ہیں اور آزادی چوک یا میدان التحریر بھی اسی طرح گرم ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ فوجی آمریتوں کا دور اب بیت چکا ہے اور مشرق و مغرب میں اس دور کو واپس آنے میں ابھی وقت لگے گا۔ مصری عوام اب آمریت کو برداشت کرنے کے موڈ میں ہرگز نہیں ۔ اس رسا کشی کا اصل پس منظر یہ ہے کہ مصر کا نیا آئین کون لکھے؟....فوجی جرنیل (جو اپنی رس ملائی کو چھوڑنے سے ڈرتے ہیں) یا عوامی نمائندے....حکمرانی جمہوری عوام کا حق ہے یا ریاست کے تنخواہ دار ملازمین کا....جن کا اصل کام ملک کا دفاع ہے۔ ظاہر ہے بہارِ عرب تو اب سلطانی ءجمہور کے نغموں کا ہی اعلان کر رہی ہے! باقی و اللہ اعلم بالصواب!

ڈاکٹر ظہور احمد اظہر، پنجاب یونیورسٹی کی فیکلٹی آف اورینٹل سٹڈیز کے سابق ڈین اور ممتاز سکالر ہیں، ان دنوں پروفیسر ایمر یطس اور مسند ہجویری کے مسند نشین ہیں۔ ٭

مزید :

کالم -