بڑے لوگوں کے کھانے

بڑے لوگوں کے کھانے
بڑے لوگوں کے کھانے

  

اسلام میں تو ہے کہ پھل کھاﺅ تو چھلکے پڑوس میں نہ پھینکو۔ ایسا نہ ہو کسی کو رنج پہنچے اور وہ احساس کمتری میں مبتلا ہو جائے، لیکن پابند شریعت ودیندار ایک کالم نگار نے پھلوںکے چھلکے ہی نہیں پھینکے، انواع و اقسام کے کھانوں کی کشیدہ کاری کرکے عظیم شاہکار عوام کے دستر خوانوں پر سجا دیئے ہیں۔ ان کھانوں کو عوام صرف محسوس کر سکتے ہیں، چکھ بھی نہیں سکتے اور کھانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تصور میں لا سکتے ہیں، آنکھیں بند کر کے خیالات کی دُنیا میں ان کھانوں کا لطف اُٹھا سکتے ہیں اور سوچ بچار کر سکتے ہیں۔ دستر خوانوں کی بات بھی چھوڑیئے، وہ بھلا غریب عوام کے پاس کدھر ہیں۔ یہ کھانے اُن کی ناک، منہ اور زبان کے ساتھ رکھ دیئے گئے ہیں تاکہ وہ اُن کی تصوراتی خوشبو اور لذت محسوس کریں اور ان کھانوں کا لطف اُٹھائیں۔

اس عظیم دانشور نے پاکستان کی چوٹی کی شخصیات اور بڑے لوگوں کے کھانوں کا احوال اپنے ایک کالم میں اس طرح بیان کیا ہے کہ عوام کے منہ میں پانی آ گیا ہے۔ زبان نے اوپر نیچے حرکت شروع کر دی ہے اور ناک خوشبو سونگھنے لگی ہے۔ پہلے عوام سیاست دانوں کے مہنگے، سوٹوں، ملبوسات ، خریداریوں، بڑی بڑی گاڑیوں اور مہنگے ترین ہوٹلوں میں قیام سے ہی کڑھتے تھے، اب کھانوں کے احوال نے اُن کے زخموں پر مزید نمک چھڑک دیا ہے، ان کی تڑپ بڑھ چکی ہے اور وہ بڑے لوگوں کے دستر خوانوں سے جو ملے ہڑپ کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہر انسان اپنی قسمت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ عوام کی قسمت میں اس طرح کے کھانے نہیں ہیں، اس لئے وہ اللہ کے شکر گزار بندے بنیں اور کفریہ کلمات زبان پر ہر گز نہ لائیں۔

محترم کالم نگار فرماتے ہیں کہ”شخصیت کے ادراک میں اس پہلو کو ملحوظ رکھنا چاہئے کہ خورونوش کی عادات کیا ہیں“؟ کیونکہ وہ ہمیشہ سچ لکھتے ہیں، اِس لئے ان کی بات تسلیم نہ کرنے کی گنجائش موجود نہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ یہ کالم عوام کے مفاد میں لکھا گیا ہے تاکہ وہ کھانوں کو ملحوظ خاطر رکھیں اور شخصیات کا ادراک کریں۔ کھانوں کی عادات بڑی تفصیل کے ساتھ بتا دی گئی ہیں۔ اب یہ عوام پر منحصر ہے کہ وہ ان کھانوں کے ذریعے شخصیت کا ادراک کس طرح کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے ادراک کرنے میں غلطی کی اور کھانوں کا غلط مطلب نکال لیا، تو اس کے نتائج کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے اور آئندہ کئی سال تک اس غلط ادراک کی سزا بھی بھگتیں گے،اِس لئے عوام پرلازم ہے کہ وہ ان شخصیات کے کھانوں کا بغور جائزہ لیں اور غورو فکر کے بعد کسی نتیجے پر پہنچیں۔ اس سلسلے میں معمولی سی بھی غفلت یا کوتاہی کسی بڑے نقصان کا موجب بن سکتی ہے۔

 کالم نگار کے بقول دو مقبول رہنما عمران خان اور نواز شریف پر خور ہیں، اس سے ایک بات یہ ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان میں دو ہی مقبول رہنما ہیں، باقی یا تو رہنما نہیں، یا پھر غیر مقبول ہیں۔ عوام کی بدقسمتی یا خود قسمتی کہ یہ دونوں رہنما ہی پرخور ہیں۔ پرخور کا مطلب نہ غریب عوام جانتے ہیں، نہ کبھی جان سکیں گے، اِس لئے جب اُن کو پرخور کا مفہوم ہی نہیں آئے گا ، تو پھر وہ ان شخصیات کا ادراک کس طرح کریں گے۔ فرماتے ہیں کہ کپتان صرف رات کو ڈٹ کر کھاتا ہے، ناشتہ زیادہ تر پھل اور دہی۔ دوپہر میں ایک عدد سینڈوچ، مگر رات کو لگ بھگ ایک کلو گوشت .... یہ بھی فرماتے ہیں کہ کپتان کو برائلر مرغی سے چڑ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کپتان بکرا، ہرن، تیتر، بیٹر یا کوئی ایسا ہی گوشت کھاتے ہوں گے۔ مزید فر ماتے ہیں کہ سنیل گواسکر نے لکھا ہے کہ وہ (کپتان) وحشیوں کی طرح کھاتا ہے۔

دوسرے مقبول رہنما میاں صاحب کے بارے میں عوام کی رہنمائی کے لئے جو معلومات فراہم کی گئی ہیں، اُن کے مطابق شب کو میاں صاحب کھانے کی میز پر بعض اوقات ڈیڑھ دو گھنٹے گزارتے ہیں۔ کالم نگار کے مطابق جب انہوں نے ایک شام میاں صاحب کے ساتھ بسر کی تو ایک کے بعد دوسرا طعام، دوسرے کے بعد تیسرا اور اس کے بعد کالم نگار کو معذرت کرنا پڑی۔ مزید فرماتے ہیں کہ بتایا جاتا ہے کہ میاں صاحب دن میں چار اور گاہے پانچ بار کھاتے ہیں۔ اٹک کے قلعے میں بھی وہ اپنی پسند کے کھانے منگوایا کرتے تھے اور بعض اوقات راولپنڈی کے ایک فائیو سٹار ہوٹل سے ....ہم نے تو اٹک کے قلعے میں میاں صاحب کی تکالیف کے بارے میں کہیں پڑھا تھا، لیکن کالم نگار نے جو معلومات فراہم کی ہیں، اگر یہ درست ہیں تو اس سے عوام کی معلومات میں ضرور اضافہ ہوا ہو گا۔ یہ بھی فرماتے ہیں کہ میاں صاحب جدہ جاتے وقت باورچیوں کی ایک فوج ساتھ لے گئے تھے۔ ہم تو جنگ کرنے والی فوجوں کے بارے میں ہی اب تک سنتے اور پڑھتے آئے ہیں۔ باورچیوں کی فوج کے بارے میں پہلی بار ہمیں کچھ معلوم ہوا ہے کہ باورچیوں کی بھی کوئی فوج ہوتی ہے۔

اگر یہ معلومات درست ہیں تو شاید پاکستان دُنیا کا واحد ملک ہے، جہاں پر باورچیوں کی بھی کوئی فوج ہوتی ہے۔ پر باورچیوں کی فوج نہ صرف پائی جاتی ہے، بلکہ اس فوج کو بیرون ملک بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ آئیڈیا بہرحال اچھا ہے۔ کاش ایسا ہو کہ دُنیا کے تمام ممالک مسلح افواج کی جگہ باورچیوں کی فوجیں رکھنا شروع کر دیں اور جنگ وغیرہ لڑنے کی بجائے خود بھی اچھے کھانے کھائیں اور مخالفین کو بھی لذیز کھانے کھلا کر رام کریں اور جنگ و جدل کے مصائب سے نجات حاصل کریں۔ باورچیوں کی فوج اگر جنگ بھی کرے گی تو ایک دوسرے پر برتن ہی چلائے گی، جس سے نہ خون بہے گا، نہ لا شیں گریں گی اور اس طرح جنگ لڑنے کے شوقین حضرات کا شوق بھی پورا ہو جائے گا۔

پاکستان کے ایک سابق مرحوم صدر جناب غلام اسحاق خان کے بارے میں تو ہم سمجھتے رہے کہ یہ انسان خود بھی بھوکا رہتا ہوگا اور دوسروں کو بھی کچھ کھانے نہیں دیتا ہوگا، لیکن بات مختلف نکلی۔ معلوم ہوا کہ سابق صدر مہمانوں کے لئے کھانے کا بہت اہتمام کرتے تھے۔ گرمیوں میں چھاچھ اور کوشش کرتے کہ مہمان آسودہ رہے۔ یہ معلوم نہیں ہوا کہ اگر مہمان چھاچھ سے آسودہ نہ ہو اور زیادہ تقاضا کرے، تو پھر سابق صدر مہمان کو کس طرح آسودہ کرتے تھے۔ کالم سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک اور سابق صدر جناب ضیاءالحق کے کھانے کا خرچہ ایک لاکھ روپے روزانہ تھا (ایوان صدر میں) آج کے اعتبار سے تقریباً 20 لاکھ۔ بڑے لوگوں کے کھانوں کا ذکر سن کر ہمیں معلوم ہوا کہ وہ ہرن کا گوشت اور نجانے کس کس جانور کا گوشت کھاتے ہیں؟ اللہ کا یہ بھی شکر ہے کہ کچھ سیاست دان صرف اپنی پسند کے جانوروں کا ہی گوشت کھاتے ہیں۔

چودھری برادران کے کھانوں اور دستر خوان کا چرچا تو پہلے بھی ہمارے کالم نگار کرتے رہتے ہیں، لیکن اس کالم میں جو معلومات فراہم کی گئی ہیں، ان سے تو پتہ چلتا ہے کہ چودھری برادران کو مہمان نواز ی میں کوئی تمغہ ضرور ملنا چاہئے۔ ویسے بھی کالم نگاروں کو پُرتکلف کھانے کھلانے والوں کا اگر کوئی مقابلہ کروا لیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اس طرح کھانے کھلانے والوں میں مقابلے کا رجحان پیدا ہوگا اور دیکھا دیکھی مزید لوگ بھی اس شعبے میں قدم رکھیں گے۔ اس سے کالم نگاروں کا بھی فائدہ ہوگا اور ہو سکتا ہے کہ وہ دن آجائے جب ہمارے جیسے تھرڈ کلاس کالم نگاروں کی بھی سُنی جائے۔ فی الحال اگر حقیقت بیان کی جائے اور پیٹ سے کپڑا اٹھا دیا جائے تو اپنا پیٹ ہی ننگا ہوگا، کیونکہ صورت حال یہ ہے کہ ہمیں تو گلی محلے کا معمولی کونسلر بھی کھانا نہیں کھلاتا۔ کالم نگار کے بقول شخصیت کے ادراک میں اس پہلو کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے کہ خور و نوش کی عادات کیا ہیں؟ عوام پر لازم ہے کہ عوام ان کھانوں کے ذریعے اپنے رہنماو¿ں کی شخصیت کا ادراک کریں۔ ہم چونکہ عوام میں شامل نہیں ،کیونکہ ہم بطور کالم نگار عوام سے اعلیٰ درجے پر فائز ہیں، اس لئے ہمیں تو اس طرح کی مغز ماری کی چنداں ضرورت نہیں۔ عوام جانیں اور ان کے لیڈر جانیں۔

 ہمیں تو ایک محکمے کے سربراہ کا فرمان یاد آ رہا ہے۔ موصوف جب کسی دورے پر جاتے اور ماتحتوں کا کام چیک کرتے تو اُن کے لئے اعلیٰ سے اعلیٰ کھانے پکائے جاتے ۔ وہ خوش بھی بہت ہوتے۔ کھانا کھلانے والے کا شکریہ ادا کرتے۔ ناشکرے ہرگز نہیں تھے۔ کھا پی کر حلال بھی کرتے تھے۔ جب ماتحتوں کی کارکردگی اور کام کی بات ہوتی تھی تو موصوف فرماتے: ”جس کا کھانا اچھا، اس کا کام بھی اچھا“۔ ایک وقت تھا کہ ان کی یہ بات بہت بُری لگتی تھی، لیکن جوں جوں زندگی میں تجربات حاصل ہوئے اور ان مختصر سے الفاظ پر بار بار غور کیا تو بھید کھلتے گئے اور حقیقت آشکار ہوتی گئی۔ واقعی اچھا کھانا پکانے، اُسے سلیقے سے سجانے، قرینے سے پیش کرنے اور مہمان کی آسودگی کا خیال کرنے جیسے کاموں میں کتنے ادراک اور سوچ سمجھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیا کوئی جاہل گنوار ایساکر سکتا ہے اور پھر جاہل اور عالم برابر ہو سکتے ہیں، جو انسان اس طرح کے کھانے پکاتا ہے، سجاتا ہے، مہمان کو کھلاتا ہے، اُس کا دل بہلاتا ہے اور اس کو آسودہ کرتا ہے اس کے اچھا ہونے میں کیا کلام ہو سکتا ہے۔ ؟

واقعی محکمے کے افسر کا فرمان درست تھا کہ ”جس کا کھانا اچھا، اس کا کام اچھا“.... اب ان کھانا کھلانے والوں سے مو¿دبانہ التماس ہے کہ تھرڈ کلاس کالم نگاروں کو نظر انداز نہ کیا جائے اور انہیں بھی وقتاً فوقتاً شرف مہمانی بخشا جائے۔ اُمید ہے کہ کھانا کھلانے والوں پر اس اپیل کا ضرور اثر ہوگا ،لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو ہم بڑے لوگوں کے کھانوں کو غیر اسلامی ثابت کریں گے۔ ہم بتائیں گے کہ اسلام میں سادگی کی کیا اہمیت ہے؟ کھانے کھانے کے لئے زندہ نہیں رہنا چاہئے، بلکہ زندہ رہنے کے لئے کھانا چاہئے۔ ہم یہ بھی بتائیں گے کہ ہمارے پیارے پیغمبر کتنے دن بھوکے رہتے تھے اور پیٹ پر پتھر باندھتے تھے۔ ہم یہ بھی بتائیں گے کہ کھانے کا پسندیدہ طریقہ یہ ہے کہ پیٹ کے ایک حصے میں کھانا، ایک میں پانی اور ایک حصہ خالی رکھا جائے۔ ہم یہ بھی کہیں گے کہ اس ملک میں جہاں غریب عوام کو دو وقت کی سوکھی روٹی بھی میسر نہیں، وہاں بڑے لوگ اگر کھانوں پر ہزاروں، لاکھوں روزانہ خرچہ کریں گے تو یہ فعل غیر اسلامی ہوگا۔ ہم یہ بھی یاد دلائیں گے کہ اس طرح کے اعلیٰ پُر تکلف کھانے پکانے اور کھانے والوں نے کتنی مرتبہ معلوم کیا کہ ان کے پڑوس اور گلی محلے میں کوئی فرد ایسا تو نہیں، جس نے دو وقت کی سوکھی روٹی بھی نہیں کھائی۔ ہمیں اسراف کی اسلامی تعریفیں بھی از بر ہیں اور خلفائے راشدین کے وہ واقعات، جن میں اُن کی سادگی، خود بھوکا رہنے، دوسروں کو کھلانے، اپنا کھانے فقیروں کو دینے اور خود بھوک برداشت کرنے کے بارے میں بتایا گیا ہے ان بڑے لوگوں کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے یا تو وہ ہمیں ہرن، تیتر، بٹیر وغیرہ پر مشتمل یا ایسا کھانا، جو ہمیں آسودہ کرے، کھلا دیں اور اپنی جان چھڑائیں، ورنہ پھر اس وقت کا انتظار کریں جب ہم زبان کھولیں گے تو ان بڑے لوگوں کے کھانے حلق سے نیچے نہیں اُتر سکیں گے۔  ٭

مزید :

کالم -