کچھ بھی ہو سکتا ہے!

کچھ بھی ہو سکتا ہے!
کچھ بھی ہو سکتا ہے!

  

حکومت جسے مدت سمجھ رہی ہے عدالت اسے مہلت سمجھ کر دیئے جا رہی ہے ! مدت ختم ہو گئی تو مہلت شروع ہو گی لیکن مہلت ختم ہو گئی تو سزا ہوگی، مدت میں مہلت چھپی ہوتی ہے اورمہلت میں ہلاکت چھپی ہوتی ہے، مدت لی جاتی ہے ، مہلت مانگی جاتی ہے ، لمحہ بھر کی مدت کوئی مدت نہیں ہوتی لیکن لمحہ بھر کی مہلت بڑی مہلت ہوتی ہے ، مدت زمانوں پر بھی محیط ہو تو کم لگتی ہے لیکن مہلت لمحے بھر کے لئے میسر آ جا ئے تو کائنات لگتی ہے! یہ بات عجیب لگتی ہے مگر حقیقت ہے کہ صدر آصف علی زرداری عدالت کے بھی صدر ہیں ، صدر مملکت کے عہدے کا احترام لازم ہے ، عدالت کو وہی ملے گا جو وہ دے گی، یہ الگ بات کہ زبردستی کا دیا گیا انصاف بھی انصاف ہوتا ہے ! وزیر اعظم خط نہیں لکھنا چاہتے، وزیر اعظم پارلیمنٹ میں اکثریت کا نمائندہ ہوتاہے،خواہ یہ اکثریت ایک ووٹ کی ہی کیوں نہ ہو، اگر اس حقیقت کو بھی مان لیا جائے تو کیا اس کا مطلب ہے کہ پارلیمنٹ کی اکثریت خط نہیں لکھنا چاہتی! حکومت اس لئے بھی حکومت میں ہوتی ہے کہ عوام کی اکثریت اس کے پیچھے ہوتی ہے ،عوام اگر حکومت کے پیچھے ہے تو عدالت کے پیچھے کون ہے،کالے کوٹوں اور کالے کیمروں کے سوا، اوران دو کے پیچھے جو ذہن ہے ، اس ذہن میں ایسی کیا سوچ کارفرما ہے جس نے حکومت کی اکثریت کو اقلیت میں بدل رکھا ہے! حکومت کی اکثریت اگر اقلیت نظر آتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پرفارم نہیں کر سکی ہے ، اس کی کارکردگی صفر ہے، وہ بجلی دے سکی ہے نہ نوکری، یہ چیزیں توعدالت بھی نہیں دے سکی،یوں بھی عدالت کیا دے سکتی ہے سوائے انصاف کے ،مگر افسوس کہ یہی شے سب سے کمیاب ہے! عدالت اس لئے بھی حکومت پر حاوی لگتی ہے کہ عوام کی اکثریت حکومت کے ساتھ نہیں رہی اور جب عوام کی اکثریت حکومت کے ساتھ نہ رہے تو پھر پارلیمنٹ میں حکومتی اکثریت بے معنی ہو جاتی ہے، عوام حکومت سے چھٹکارا چاہتے ہیں اور یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ عدالت یہ کام کر سکتی ہے ، اگر ایسا ہی ہے تو انتخابات کی کیا ضرورت ہے، عدالت اگلا وزیر اعظم بھی لگادے اور پھر اس کی پرفارمنس شیٹ پر نظر رکھے ، ناقص دکھائی دے تو فارغ کردے اور نیا تعینات کردے، یہ ممکن بھی ہے اگر آئین اس کی اجازت دے، وگرنہ تو عوام ہر کسی سے تنگ آ چکے ہیں ۔ چیف جسٹس نے خود کہا ہے کہ حکومت کاکام بھی انہیں کرنا پڑ رہا ہے لیکن اس کے باوجود حکومت کرنا عدالت کا کام نہیں ہوتا کیونکہ عدالت گورنینس نہیں دے سکتی ، انصاف دے سکتی ہے، حکومت عدالت کے اس حق کے خلاف کچھ نہیں کر سکتی ، سوائے حکم عدولی کے، جو وہ کر رہی ہے! عدلیہ کی جانب ہر زمانے میں دیکھا گیا ہے اور ہر کسی نے دیکھا ہے ، لیکن عدلیہ کبھی کسی کی طرف نہیں دیکھتی(اگرچہ ہماری عدلیہ کبھی کبھی دیکھ داکھ کر فیصلے کرتی رہی ہے)، قانون کی طرف دیکھتی ہے اور قانون پارلیمنٹ کی طرف دیکھتا ہے جبکہ پارلیمنٹ عوام کی طرف دیکھتی ہے اور عوام لیڈر کی طرف دیکھتے ہیں ،لیڈر دیوار کے پار دیکھتے ہیں ، لیکن اس وقت دیوار کے پار بھی وہی کچھ ہے جو دیوار کے آر ہے، نتیجہ یہ ہے کہ گاڑی پھنس چکی ہے اور حکومت مہلت چاہتی ہے ، اس خیال سے کہ وہ پرفارم کرنا چاہتی ہے! لیکن اب ایک بات طے ہے کہ پاکستان نئے انتخابات کی راہ پر گامزن ہے، ایک آزاد اور خودمختار الیکشن کمیشن کی تعیناتی ہو چکی ہے، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے لانگ مارچ اور سونامی مارچ تیار ہیں، حکومت نے عدلیہ کو زیر کرنے کی کوشش کی تو حزب اختلاف حکومت کو زیروزبر کرکے رکھ دے گی، یہ سب کچھ صدر زرداری کو بھی نظر آرہا ہوگا، وہ ایسی کیا چال چلیں گے کہ مخالفین کو ایک مرتبہ پھر پی ایچ ڈی کرنا پڑ جائے، اس سلسلے میں بہت کچھ ظاہر ہے ، لیکن اس کے باوجود ابھی بہت کچھ مخفی ہے، کچھ بھی ہو سکتا ہے!

مزید :

کالم -