غلطی ہائے اشعار

غلطی ہائے اشعار

مطالعے کی عادت میں ایک خرابی یہ بھی کم از کم میرے تو ساتھ ساتھ چلتی ہے کہ کتاب، رسالہ،اخبار پڑھتے ہوئے جو غلطی نظر میں آئے، اسے نشان زد کرتا رہوں۔یہ عمل ارادی طور پر نہیں، غیر ارادی طور پر ایک پختہ عادت کی صورت میں خودبخود ہوتا رہتا ہے۔کیا کروں؟مطالعہ کرنا چھوڑ دوں....؟.... غلطیوں کی نشاندہی کرو تو یار لوگ بُرا مانتے ہیں اور بُرا ماننے والوں میں :

تمام شہر ہے دو چار دس کی بات نہیں

بہرحال وہ اپنی خُو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں....کچھ قلمکار تو ایسے ہیں کہ بار بار غلطیاں کرنے میں اور ایک ہی قسم کی غلطیاں کرنے میں پختہ ہو چکے ہیں، انہیں اب مَیں نے ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔ نوواردوںکی اصلاح نیک نیتی سے یوں ضروری ہے کہ وہ بھی غلطی اور غلط بخشی میں پختہ نہ ہو جائیں!

”کشمیری عوام کی امنگوں کا ترجمان“ کے دعوے کے ساتھ ایک ماہانہ رسالہ”کشمیر الیوم“ کے نام سے راولپنڈی سے شائع ہوتا ہے۔مدیر کوئی فاروق احمد صاحب ہیں۔جون 2013ءکے شمارے میں ایک مضمون ”قائداعظم محمد علی جناحؒ.... ایک تاریخ ساز شخصیت“ کے عنوان سے بغیر مصنف کے نام کے شریک اشاعت ہے۔مضمون کا اختتام ایک شعر پر کیا گیا ہے جو بغیر شاعر کے نام کے یوں ہے:

جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے

ہزار دام سے نکلا ہوں بے خطر ہو کر

جبکہ یہ مشہور زمانہ بلکہ ضرب المثل شعر مصرعوں کے الٹ پھیر کے ساتھ متذکرہ شکل میں ہر گز درست نہیں۔صحیح شعر اس طرح ہے:

ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں

جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے

یہ شعر حضرت جوش ملیح آبادی کو بھی بے حد پسند تھا۔دوران گفتگو اکثر یہ شعر اس خاکسار نے ان کی زبانی سنا....شعر نواب مصطفے خان شیفتہ کا ہے۔

روزنامہ ”نوائے وقت“ جمعہ 5جولائی 2013ءکی اشاعت میں کالم ”سرِراہے“ کے فاضل محرر نے پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر جہانگیر بدر کے پی ایچ ڈی کر لینے کو مضحکہ خیز انداز میں موضوعِ سخن بنایا ہے اور لکھا ہے کہ :

بے نظیر بھٹو پر پی ایچ ڈی کے بعد آنجناب کی حالت اس شعر سے مختلف نہیں ہوگی:

خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم

اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

جبکہ یہ شعر ہرگز نہیں، بلکہ مرزا صادق شرر کی ایک غزل کے مطلع کا محض دوسرا مصرعہ ہے جو غلط سلط انداز میں دو حصوں میں بانٹ دیا گیا ہے، جبکہ طویل بحر کی اس غزل کی ردیف ہی ”نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے“ ہے۔ فاضل کالم نویس کی اطلاع کے لئے مرزا صادق شرر کا اصل مطلع درست شکل میں درج کررہا ہوں:

گئے دونوں جہان کے کام سے ہم، نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صَنم، نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

کتاب کیا ہے نوید چودھری ایڈیٹر روزنامہ”سٹی 42“ کے اخباری کالموں کا مختصر سا مجموعہ ہے....جسے ڈاکٹر محمد اجمل نیازی، رﺅف طاہر اور عبداللہ طارق سہیل کی جانب سے تحریری پذیرائی حاصل ہے۔ہم نے فی الحال کتاب پر جستہ جستہ نظر ڈالی ہے۔ایک تعزیتی کالم ”عباس اطہر بے مثال تھے“ پڑھا جس میں صفحہ 139پر احمد فراز کا ایک مشہور زمانہ شعر اس طرح درج ملا:

ہم نہ ہوں گے تو کسی اور کے چرچے ہوں گے

خلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگے

جبکہ متذکرہ شعر کا پہلا مصرعہ احمد فراز نے ہر گز اس شکل میں نہیں کہا تھا۔ان کا صحیح شعر اس طرح ہے:

ہم نہ ہوتے تو کسی اور کا چرچا ہوتا

خلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگے

ماہنامہ”کشمیر الیوم“ راولپنڈی کے شمارہ جون 2013ءمیں ایک فاضل مضمون نویس محترمہ مریم جمیلہ (کوٹلی) نے اپنے مضمون ”بادِ بہار“ میں ایک اورمشہور زمانہ شعر اس طرح بغیر شاعر کے نام کے شامل اشاعت کیا ہے:

غم سے خوگر ہو انسان تو مٹ جاتا ہے غم

مشکلیں مجھ پہ اتنی پڑی کہ آساں ہو گئیں

جبکہ ہر عہد پر غالب، مرزا اسد اللہ خان غالب کا یہ ضرب المثل شعر متذکرہ شکل میں کسی بھی زاویے سے ہر گز درست نہیں۔صحیح شعر یوں ہے:

رنج سے خُوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج

مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں

روزنامہ”نوائے وقت“لاہور جمعرات 13جون 2013ء”فرنٹ پیج“ کی ایک تفصیلی خبر میں درج ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی فرمائش پر عطا مانیکا نے بھی شعر سنایا۔شعر تھا:

محسن ہمارے ساتھ عجب حادثہ ہوا

ہم رہ گئے سارا زمانہ چلا گیا

دوسرے مصرعے کی تحریف شدہ کم مائیگی سے قطع نظر پہلے مصرعے میں تخلص محسن اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ گویا یہ شعر محسن نقوی، محسن بھوپالی یا محسن احسان کا ہوگا،جبکہ تینوں محسنوں کا اس شعر پر کوئی احسان نہیں ۔یہ شعر ہے دراصل شوکت واسطی کا اور بالکل درست یوں ہے:

شوکت ہمارے ساتھ بڑا حادثہ ہوا

ہم رہ گئے ،ہمارا زمانہ چلا گیا

روزنامہ ”دنیا“ منگل25 جون2013ءکی اشاعت میں ممتاز، شاعر کالم نویس محمد اظہار الحق نے اپنے کالم ”تلخ نوائی“ کے ذیلی عنوان ”اندھیرا کمرہ اور سوئی“ کے تحت ایک مشہورِ زمانہ شعر بغیر شاعر کے نام کے یوں درج کیا ہے:

مَیں نے جو آشیانہ چمن سے اُٹھا لیا

میری بلا سے بوم رہے یا ہمار سے

جبکہ غلام ہمدانی مصحفی کا یہ ضرب المثل شعر بالکل صحیح اس طرح ہے:

بلبل نے آشیانہ چمن سے اٹھا لیا

پھر اس چمن میں بُوم بسے یا ہُما بسے

مشہور بزرگ سیاستدان اور انجمن شہریانِ لاہور کے صدر رانا نذر الرحمن نے اپنی سرگزشت ”صبح کرنا شام کا“ میں ایک دلچسپ حقیقت بیان کی ہے کہ مشہور مسلم لیگی سیاستدان محمد حسین چٹھہ کہا کرتے تھے کہ ”وہ روزانہ اخبارات میں سے اچھے اچھے جملے، اشعار اور بہت سی کام کی باتیں ایک رجسٹر پر نقل کرلیتے ہیں اور پھر بوقت ضرورت اپنی تقریر میں جڑ دیتے ہیں“۔

اس سے معلوم ہوا کہ سیاستدانوں کا مبلغ علم کتابوں کے بجائے محض اخبارات تک محدود ہوتا ہے۔ اگر اخبار میں کوئی شعر یا جملہ غلط سلط رائج ہو جائے تو پھر اسی غلطی کو پھیلانے میں یہ سیاستدان صف اول میں ہوتے ہیں۔ خَیر سے شہبازشریف صاحب نے تو حبیب جالب کو پڑھ رکھا ہے اور عطاءالحق قاسمی کو سن رکھا ہے، اس لئے ان دونوں شعراءکے اشعار اکثر اوقات سنا کر وہ عوام کو محظوظ کرتے رہتے ہیں۔عطاءمانیکا نے البتہ کسی اخبار میں غلط سلط شعر پڑھ ہوگا،اسی طرح انہوں نے اُگل دیا۔

کالم کے آخر میں اپنا ایک شعر قارئین کی نذر :

لفظ اُڑ جائیں تو کاغذ کی حقیقت معلوم

میرے لفظوں کی حرارت سے ہے زندہ کاغذ

مزید : کالم