آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن ِ پاک کی تفہیم

آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن ِ پاک کی تفہیم

پانچویں تراویح

سورة الاعراف : 7 ویں سورت

سورة اعراف مکی سورت ہے۔ 206 آیات اور 24 رکوع ہیں۔ آٹھویں پارہ کے نویں رکوع سے نویں پارہ کے 14 ویں رکوع تک ہے۔ اعراف عربی میں بلند جگہ یا ریت کے ٹیلہ کو کہا جاتا ہے ۔ اس سورت کی آیات 47-46 میں ”اعراف“ اور ”اصحاب اعراف“ کا ذکر آتا ہے ،اس لئے اس سورت کو ”سورة اعراف“ کہتے ہیں، یعنی وہ سورت جس میں اعراف کا ذکر ہے۔ اعراف جنت اور دوزخ کے درمیان ایک مقام ہے جس میں ایک خاص قسم کے لوگوں کو ٹھہرایا جائے گا، یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور گناہ برابر ہوں گے ، نیکیاں دوزخ میں جانے سے روکیں گی اور نہ خود اتنی ہی ہوں گی کہ جنت میں جانے کا باعث ہوں۔ یہ لوگ ایک خاص مدت تک یہاں روکے جائیں گے۔ بعد ازاں رب العزت کی رحمت سے یہ لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ اس سورة کا زمانہ ¿نزول اور سورة انعام کا زمانہ ¿نزول ایک ہی ہے۔ اس کا مرکزی مضمون ضرورت نبوت اور دعوت رسالت ہے۔ انسان کو بتایا گیا ہے کہ دنیا کی زندگی بسر کرنے کیلئے جس رہنمائی کی ضرورت ہے اور اپنے وجود کی غرض وغایت نیز کائنات کی حقیقت سمجھنے کیلئے جو علم درکار ہے اور اپنے اخلاق ، تہذیب وتمدن اور معاشرت کی تصحیح کیلئے جو اصول ضروری ہیں، ان کیلئے بہرحال نبوت کی ضرورت ہے۔ سورت کے آغاز میں حروف مقطعات ہیں، جن کے معانی اور اصل مفہوم کو سوائے رب تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا۔

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

شروع میں نزولِ قرآن کی غرض بتائی گئی ہے کہ اس سے منکرین کو برے انجام سے ڈرایا جائے اور مومنین کو آگاہ کیا جائے کہ اللہ پاک نے اپنے رسولوں کے ذریعے کس کس طرح ان کی اصلاح چاہی۔ اب لباس کا ذکر ہے کہ وہ سترپوشی کے لئے ہوتا ہے ،لیکن تقویٰ کا لباس سب سے بہتر ہے ۔ جو تقویٰ اختیار نہیں کرتے وہ شیطان کے حملوں سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ اللہ کی عبادت اور دعا خلوص سے ہونی چاہئے اور یہ کہ بعض گمراہ لوگ خود کو حق پر گامزن سمجھتے ہیں ،حالانکہ وہ شیطان کے رفیق ہوتے ہیں۔ مسجد سے رشتہ رکھنے اور اس سے اپنی زینت (عزت) حاصل کرنے کا حکم بھی اور اسراف سے بچنے کا بھی حکم ہے۔ زینت اور حلال رزق کبھی حرام نہیں۔ البتہ کفر، نفاق، ظلم، تکبر اور شرک وغیرہ حرام ہے۔ اصحابِ اعراف اور اصحابِ جنت کا مکالمہ بھی ہے کہ اصحابِ اعراف، جنت کے امیدوار ہوں گے اور اہل جنت سے پکار کر کہیں گے کہ سلامتی ہو تم پر اور جب وہ اصحاب ِاعراف، دوزخیوں کو دیکھیں گے تو کہیںگے کہ اے رب، ہم کو ظالموں کا ساتھی نہ بنا۔ اہل ِجنت ،اہلِ دوزخ اور اصحابِ اعراف کے کچھ مکالموں کا بھی ذکر ہے کہ جنت والے کس قدر آرام وآسائش کے ساتھ رہیں گے اور دوزخ والے کتنی تکلیفوں میں ہوں گے اور ہمیشہ کیلئے یہی صورت ہو گی اور اس دنیا میں واپسی کا سوال ہی نہ ہو گا اور اس دن معلوم ہو گا کہ اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعے جو پیام دیا تھا وہ کتنا سچا تھا۔ اب ارشاد ہوتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کو اللہ نے چھ دن میں بنایا اور وہ خود عرش پر ہے۔ رات اور دن، سورج، چاند اور ستارے سب اس کے حکم پر ہیں، اس لئے صرف اسی کو گڑ گڑا کر پکارو اور زمین میں فساد نہ کرو اور پکار و اللہ کو خوف اور توقع کے ساتھ۔ آگے مختلف انبیاءاور ان کی قوموں کا تذکرہ ہے۔

 اسی طرح جہاں کہیں کِسی نبی علیہ السلام کو مبعوث کیا اور قوم نے جھٹلایا تو پہلے معاشی تنگی، قحط سالی اور وبائیں آئیں پھر فراغت اور خوش حالی سے ان کو آزمایا، لیکن ان آسائشوں کے باوجود انہوں نے حق کا راستہ اختیار نہیں کیا تو پھر عام تباہی آئی۔ اگر قرآن کے ساتھ بھی اسی طرح کی سرتابی اور بغاوت کی گئی تو اس طرح کا عذاب پھر بھی آ سکتا ہے۔ لوگوں کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ دیکھیں موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں نے کیا کیا۔ موسیٰ علیہ السلام سے نشانی طلب کی گئی۔ انہوں نے اپنا عصا ڈالا تو وہ اژدہابن گیا اور ہاتھ آستین سے باہر نکالا تو وہ سفید اور روشنی کے ساتھ نظر آیا، لیکن یہ نشانیاں جادو سمجھی گئیں اور ان کے مقابلے میں جادو گر بلوائے گئے، لیکن وہ سب بازی گر سجدے میں گر پڑے اور اللہ کی ربوبیت کے قائل ہو گئے ،لیکن فرعون نے سرتابی کی۔ پھر موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو نصیحت کی کہ وہ اللہ سے مدد مانگیں۔ ادھر فرعون اور اس کے ماننے والوں پر قحط سالی کا عذاب آیا تاکہ وہ کچھ اصلاح پائیں، لیکن ان کا حال تو یہ تھا کہ جب کوئی بھلائی ان کو حاصل ہوتی تو سمجھتے کہ وہ ہمارا حق ہے اور تباہی آتی تو کہتے موسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے ہے۔ آخر ان پر طوفان ، ٹڈی، مینڈک وغیرہ کا عذاب آیا تو کہنے لگے کہ اے موسیٰ علیہ السلام! تم اپنے رب سے دعا کرو کہ ہم اس عذاب سے بچ جائیں، پھر ہم لوگ تم پر ایمان لے آئیں گے اور تمہاری قوم بنی اسرائیل کو چھوڑ دیں گے، لیکن جب ان پر سے عذاب ہٹ جاتا تو وہ پھر سرتابی کرتے، آخر کار ان سب کو غرق کر دیا گیا اوربنی اسرائیل کے لئے نیکی اور بھلائی کا وعدہ پورا کیا گیا۔

لیکن بنی اسرائیل جب دریا کے پار ہوئے تو ایک بت پرست قوم کو دیکھ کر خود بھی بت پرستی کے خواہشمند ہوئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان کو ڈرایا اور اللہ کے انعامات یاد دلائے۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر گئے۔ چالیس دن کا اعتکاف کیا۔ تورات ان کو دی گئی۔ اس موقع پر انہوں نے اللہ کا جلوہ دیکھناچاہا تو جواب ملا کہ تم نہیں دیکھ سکتے، لیکن جب تجلی کا ظہور ہوا تو پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہو گئے۔ پھر جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ کو رسالت اور وحی کی تختیاں اور پتھر پر لکھی (الواح) حاصل ہوئیں۔ آپ کے کوہِ طور پر جانے سے قوم بچھڑے کی پرستش میں مبتلا ہو گئی تھی۔ آپ اپنے بھائی ہارون علیہ السلام پر ناراض ہوئے کہ ان کی موجودگی میں ایسا کیوں ہوا۔ قوم آخر پچھتائی۔ نافرمان لوگوں پر بے شک عذاب نازل ہوا، لیکن موسیٰ علیہ السلام کی عاجزانہ دعاﺅں سے وہ عذاب پھر ٹل گیا کہ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے۔

تورات کی اس پیش گوئی کا ذکر بھی آیا ہے کہ حضور انورﷺ (نبی امی) تشریف لائیں گے اور انہی کی پیروی میں قیامت تک فلاح و نجات ہے۔اور یہ کہ وہ کسی خاص قوم، کسی خاص خطے اور کسی خاص زمانے کیلئے نہیں ہیں ،بلکہ ہر زمانے اور تمام انسانیت کیلئے ہیں۔ اب ذکر ہے کہ ازل میں انسانوں نے توحید کا اعتراف کر لیا تھا جبکہ اللہ نے ان سے فرمایا تھا کہ ”کیا مَیں نہیں ہوں رب تمہارا؟“ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جنون نہیں ہے۔وہ تو اللہ کی طرف سے ڈرانے والے ہیں۔قیامت کا علم اور غیب کا علم سب اللہ کے لئے ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نذیر و بشیر ہی ہیں۔غیر اللہ کو پکارنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔وہ شیطان کے بھائی ہیں جو گمراہی کی طرف چلے جا رہے ہیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔اب ارشاد ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم ہو اور تم اللہ کو یاد کرو دل میں اور گڑگڑاتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے اور خاموشی کے ساتھ اور تم غافل نہ بن جاﺅ۔اللہ کو یاد کرنے والے تکبر نہیں کرتے اور یاد کرتے ہیں اللہ کو اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔     ٭

مزید : کالم