قلم اور کتاب کا ہتھیار

قلم اور کتاب کا ہتھیار

سوات میں دہشت گردوں کے ہاتھوں گزشتہ سال اکتوبر میں شدید زخمی ہو کر عالمی شہرت حاصل کرنے والی ملالہ یوسف زئی کے نام پر اس کے یوم پیدائش 12جولائی کو اقوام متحدہ کی طرف سے عالمی یوم ملالہ منایا گیا۔ دنیا کے مختلف ممالک اور پاکستان میں اس سلسلے میں بہت سی تقریبات ہوئیں، جبکہ نیویارک میں اقوام ِ متحدہ کے مرکزی ہیڈ کوارٹر میں سب سے بڑی تقریب یوتھ اسمبلی کا اجلاس تھی، جس میں دنیا کے ایک سو ممالک سے آئے ہوئے ایک ہزار نوجوانوں نے شرکت کی ۔ اس اجتماع سے ملالہ کے علاوہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون اور جنرل اسمبلی کے صدر ووک جیریمک اوربرطانیہ کے سابق وزیراعظم گورڈن براﺅن (جو کہ عالمی تعلیم کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر ہیں) نے بھی خطاب کیا۔

گورڈن براﺅن نے کہا کہ ملالہ دنیا کی سب سے بہادر لڑکی ہے ، پوری دنیا اس کے خوابوں کی تعبیر چاہتی ہے۔ وہ وہی کچھ کر رہی ہے جو کہ طالبان چاہتے تھے کہ وہ نہ کرے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون نے طالبعلموں پر دہشت گردوں کے حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ کسی بچے کو صرف اس لئے ہلاک نہیں کیا جانا چاہئے کہ وہ سکول جاتا ہے۔ انہوں نے ملالہ کو جرا¿ت کی علامت قرار دیا۔ جنرل اسمبلی کے صدر جیریمک نے کہا کہ ملالہ کی کوششیں لاکھوں افراد کی امیدوں کا محور ہیں۔ تعلیم پھیلانے کے لئے آج نوجوانوں کی نئی سپر پاور وجود میں آچکی ہے۔

ملالہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ طالبان کی گولی سے ملالہ نہیں مری،بلکہ کمزوری، خوف اور ناامیدی مر گئی ہے۔ طاقت اور حوصلوں کو زندگی ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تعلیم سے خوفزدہ ہیں ۔ قلم سے دہشت گردی کا مقابلہ کروں گی۔ مجھے مارنے والے بھی سامنے آجائیں تو گولی نہیں ماروں گی۔ مَیں ہر اس شخص کی آواز ہوں، جس کی آواز کوئی نہیں سنتا، جو پُرامن ماحول میں رہنے اور حصول تعلیم کے لئے جد و جہد کررہے ہیں۔ قلم اور کتاب دنیا کے سب سے طاقتور ہتھیار ہیں۔ایک طالب علم ، ایک قلم اور ایک کتاب دنیا کو بدل سکتے ہیں۔ آج کا دن ہر اس لڑکی اور لڑکے کا دن ہے، جس نے اپنی آواز اپنے حقوق کے لئے اٹھائی۔ مَیں طالبان اور دوسرے شدت پسندوں کے بچوں کے لئے بھی تعلیم چاہتی ہوں۔تعلیم ہی سب مسائل کا واحد حل ہے اور تعلیم ہی سب سے بڑی ترجیح ہونی چاہئے۔دہشت گرد خواتین کی تعلیم سے ڈرتے ہیں۔ہمارا دنیا بھر کی حکومتوں سے مطالبہ ہے کہ وہ تعلیم کو عام کریں۔ تمام غیر سرکاری تنظیمیں بھی تعلیم کو معیاری بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

ملالہ پاکستان کی بہادر بیٹی ہے، جس پر آج پاکستانی قوم کو فخر ہے۔ تعلیم اور امن کے لئے اس کے عزم اور جدوجہد نے آج پوری پاکستانی قوم کے پرامن اور روشن خیال معاشرے کے لئے جدوجہد اور خواہش کو اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے بچوں ا ور بالخصوص بچیوں کی تعلیم کے سلسلے میں ملالہ کے یوم پیدائش پر عالمی یوم ملالہ منانے کا فیصلہ سوات کی پاکستانی بچی ملالہ یوسف زئی کی تعلیم اور پُرامن ماحول کے مقصد کے لئے جدوجہد اور بہادری ہی کا اعتراف نہیں ، پسماندہ ملکوں میں بچیوں کو تعلیم کے سلسلے میں درپیش مسائل کے احساس و شعور کا بھی اظہار ہے۔ پاکستان میں ایک طرف اگر والدین کی طرف سے لڑکیوں کی خوراک،صحت اور تعلیم پر کم توجہ دی جاتی ہے تو دوسری طرف انتہاءپسند دہشت گردوں نے اپنے تاریک خیالات کے پیش نظر بچیوں کے سکول تباہ کرنے اور ان کی تعلیم کا سلسلہ زبردستی رکوانے کی کارروائیاں شروع کردی تھیں۔ بالخصوص سوات پر طالبان کے قبضے کے وقت وہاں لڑکیوں کے لئے تعلیم حاصل کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اب یہ بھی یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ آیا یہ سب کارروائیاں طالبان ہی کی طرف سے تھیں یا ان کے نام پر کوئی دوسرے گروہ سرگرم تھے۔ تاہم دینی اور اسلامی نظریات رکھنے والے لوگوں پر یہ پوری طرح واضح ہے کہ اسلام میں تعلیم کو کس قدراہمیت دی گئی ہے ۔ اسلام جہالت کے اندھیر ے ختم کرنے اور علم و شعور کی روشنی پھیلانے آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ پر ایمان لانے والوں کو سب سے بڑی جس نعمت سے نوازا وہ اللہ کی کتاب قرآن حکیم ہے، جو مرد و زن سب کے لئے ہے۔ اس کتاب کو پڑھنا اور سمجھنا جس طرح سب مرد و زن کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے اِسی طرح دوسرے علوم و فنون سے آگہی اور ان کے ذریعے معاشرے کے مفید شہری بننے کے راستے بھی سب کے لئے کھلے ہیں۔ غاروں اور ویرانوں میں چھپے ہوئے اور انسانیت کی تباہی کے متمنی دہشت گردوں کو نہ صرف قلم اور کتاب کی قدر وقیمت کا احساس نہیں، بلکہ وہ اسے اپنے تاریک خیالات سے متصادم بھی سمجھتے ہیں۔ خود کو عقل کل سمجھ لینے اور اپنے پسماندہ خیالات پر فخر کرنے والے انسان روشن ضمیری اور وسعت نظری کے دشمن ہی ہوسکتے ہیں۔

جہالت کا مقابلہ علم و شعور اور دہشت گردی کا مقابلہ قلم اور کتاب سے کرنے کا راستہ انسانیت کو اس کا بھولا ہوا سبق یاد دلانے کا معاملہ ہے۔ امن اور علم کی روشنی چاہنے والے یہ نعمتیں پوری دنیا کے لئے چاہتے ہیں، بند ذہنوں کو روشن کرنا اور قتل و غارت گری کے بجائے انسانوں کو انسانیت کی فلاح وبہبود کی طرف پھیردینا ان کی زندگی کا مقصد ہے۔ بلاشبہ ملالہ کی باتیں آج دنیا کے ان تمام بے بس اور بے سہارا بچوں کی آواز ہیں، جنہیں بوجوہ تعلیم کے مواقع میسر نہیں اور جن کے ارد گرد امن و امان کے بجائے دہشت گردی، خانہ جنگی، علاقائی، لسانی ،نسلی اور مذہبی تعصبات نے قتل و غارت اور بے یقینی کی فضا پیدا کررکھی ہے۔ ملالہ آج ناسازگار حالات کا شکار ایسے بچوں کی علامت بن چکی ہیں، جو تعلیم حاصل کرنے اور آگے بڑھنے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں، جنہوں نے حالات کے جبر کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے، بلکہ عزم و حوصلہ کے ساتھ قلم اور کتاب سے اپنے تعلق کو قائم رکھا اور دنیا میں اپنے لئے باعزت مقام پیدا کرنے کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔

ملالہ یوسف زئی جس کی آواز کو سوات میں دبا دینے کی کوشش کی گئی ، آج اس کی آواز اس کے مشن کی سچائی کی وجہ سے پوری دنیا میں سنی جارہی ہے۔ اس کے مشن کو پوری دنیا کے مظلوم اور بے آواز بچوںکا مشن مان لیا گیا ہے۔ اس بات پر بہت سے لوگ پیچ و تاب کھاتے اور ڈرون حملوں کا شکار ہونے والے بچوں اور پاکستان کے دوسرے بے بس اور محنت کش بچوں کا حوالہ دیتے ہیں۔ شاید وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ملالہ اب ان تمام مصیبت زدہ اور بے بس بچوں کی آواز بن چکی ہیں۔ وہ صرف پاکستان ہی نہیں دنیا بھر کے مظلوم بچوں ، تعلیم حاصل کرنے میں دشواریوں کا شکار بچوں بچیوں کی علامت بن چکی ہیں ۔ عالمی سطح پر ایسے بچوں کے مصائب کم کرنے کے لئے ملالہ کی آواز ایک موثر آواز ثابت ہو رہی ہے ، جس پر دنیا کی طاقتیں کان دھر رہی ہیں ، اس کی آواز جیسا کہ اس نے اپنی تقریر سے بھی واضح کیا طالبان کے خلاف نہیں ، صرف جہالت اور جہالت پرور رویوں کے خلاف ہے۔ حصول تعلیم کے لئے مشکلات کا شکار بچوں اور بچیوں کے لئے ہے ۔ ان خفیہ اور ظاہر ہاتھوں کے خلاف ہے جو کسی بھی نظریہ یا موقف کو لے کر بچوں کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں یا دوسروں پر جنگ اور خانہ جنگی ٹھونس کرایسے حالات پیدا کرتے ہیں جن میں بچوں کو نہ صرف اپنی تعلیم جاری رکھنا مشکل ہوجاتا ہے بلکہ ان کی بقا اور سلامتی کے مسائل بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ ملالہ کا مشن ان معاشروں کی رسوم اور روایات کے خلاف ہے جہاں بچوں کو جبراً جاہل رکھنے کی کوشش ہوتی ہے، جہاں ان کے ہاتھ سے قلم اور کتاب چھین کر ان کے جسم سے خود کش بیلٹ باندھ دئیے جاتے ہیں۔

 آج جن قوموں کو دنیا میں غلبہ حاصل ہے وہ قلم اور کتاب ہی کی وجہ سے ہے۔ اسلحہ اور جنگ انسان کو تباہی ، دکھ اور صدموں کے سوا کچھ نہیں دے سکتے۔ علوم و فنون، سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم انسانوں کی خوراک ، بہتر رہائش اور صحت کے لئے سب کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔ انسانی زندگی کو اعلی معیار اور سہولتوں سے ہمکنار کرسکتے ہیں۔ جب ایک معاشرے کے سب افراد کے پاس کافی کچھ ہو گا تو وہ دوسرے مشکل کا شکار انسانوں کو دینے ، ان سے ہمدردی کرنے کا بھی سوچیں گے۔ اگر جنگ وجدل کاشکار معاشرے کے لوگ بنیادی ضرورت کی چیزوں سے بھی محروم ہوں گے تو وہ جانوروں کی طرح ایک دوسرے سے چھیننے جھپٹنے کے سوا کیا کر سکتے ہیں ؟ ان میں متمدن اور مہذب انسانوں کے معاشروں والا ایثار و قربانی اور مہربانی کا رویہ کیسے پیدا ہوسکتا ہے۔ وہاں انسانیت اپنی معراج کو پانے کا خواب کیسے دیکھ سکتی ہے ؟

پاکستان کی ایک بہادر اور پرعزم بچی سے آج پوری دنیا سبق سیکھ رہی ہے ۔ اس کے عزم اور مشن کو لے کر چل پڑی ہے، کیا ادھر پاکستان میں بھی قلم اور کتاب کے مشن کو اپنا مشن بنانے کے لئے ہماری قوم میں کچھ سوچ بچار ہے۔؟ کیا آپس کی بے کاراور بے معنی محاذ آرائیوں سے ہم باہر آنے اور لڑائی جھگڑے ختم کرکے اندھیاروں سے نکلنے اور روشنی کا سفر شروع کرنے کو تیار ہیں؟ کیا ملالہ کیس سے جو تاثر ہمارے معاشرے میں موجود گمراہی اور پسماندگی کے سلسلے میں دنیا کو ملا ہے ہم اس تاثر کو ختم کرنے کے متعلق کبھی سوچیں گے؟

ملالہ نے کہا ہے کہ طالبان کی گولی سے ملالہ نہیں مری بلکہ کمزروی، خوف اور ناامیدی مر گئی ہے۔ کیا دہشت گردوں اور بھتے خوروں سے اس قدر جانوں کی قربانی دینے اور اپنا اس قدر خون بہانے کے بعد بھی ہماری کمزوری، خوف اور ناامیدی ختم نہیں ہوئی؟ کیاقوم کی اچھی بچی ملالہ سے ہم خود کچھ بھی سیکھنے کو تیارنہیں ہیں؟     ٭

مزید : اداریہ