ذوالفقار چیمہ کوچییرمین واپڈا، سعد رفیق وزیر خزانہ بنا دیں

ذوالفقار چیمہ کوچییرمین واپڈا، سعد رفیق وزیر خزانہ بنا دیں

مسلم لیگ نون نے گیارہ مئی کو جس نعرے پر انتخابات جیتے تھے، وہ ریلیف دینے کا تھا، مہنگائی، کرپشن اور لوڈ شیڈنگ سے ریلیف ، مگرحکمران جماعت کا پیش کردہ پہلا بجٹ ہی ریلیف کی بجائے ڈھیروں تکلیف لے آیا۔ مہنگائی بھی ہوئی اور مزید قرض بھی لیا گیا۔ میراذاتی خیال تھا کہ میاں نواز شریف کی قیادت میں قائم حکومت سب سے پہلے مس مینجمنٹ کا خاتمہ کرے گی، انتظامی بحران اور کرپشن کا خاتمہ کرتے ہوئے دستیاب وسائل میں لوگوں کو بہتر خدمات فراہم کی جائیں گی۔ جب سروسز کی کوالٹی بہتر ہوجائے گی تو لوگوں سے مزید وسائل فراہم کرنے کی درخواست کر دی جائے گی مگر اسحاق ڈار کے بنائے ہوئے بجٹ میں سب سے پہلی ترجیح وسائل کی فراہمی کو دی گئی، گڈ گورننس کے ڈبے بجٹ میں لگائے ہوئے بھاری ٹیکسوں کے انجن پیچھے جوڑ دئیے گئے ہیں۔

ٹیکس سے پہلے پرفارمنس ہونی چاہئے ، آئیے اس کی مثال دیتا ہوں کہ پاسپورٹ کا محکمہ بدعنوانی کا گڑھ بن گیا تھا، ایک سابق وفاقی وزیر نے بیٹی کا ارجنٹ پاسپورٹ 20 ہزار روپے رشوت دیکر بنوایا۔ ذوالفقار چیمہ نے بطور ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ اینڈ امیگریشن عہدہ سنبھالا توخود بتایا کہ ان کے دفاتر کے باہر بیٹھے ہوئے ایجنٹ لوگوں سے عام پاسپورٹ کے لئے پندرہ اور ارجنٹ کے لئے 20سے 30ہزار روپے بھی وصول کرتے تھے۔ وہاںلیمینیشن پیپر کا جو بحران پیدا کیا گیا تھا اس کی وجہ سے روزانہ صرف 2ہزار پاسپورٹ بن رہے تھے مگر پھراس ڈائریکٹوریٹ میں پندرہ ہزار پاسپورٹ روزانہ بنائے جانے لگے ۔ ظاہر ہے،اس صورت حال کے ذمہ دار پاسپورٹ کے عملہ میں موجود کرپٹ اہلکار تھے۔ ذوالفقار چیمہ نے گھر کی صفائی کی ، متعدد اہلکاروں کو معطل کردیا۔ سب کو وارننگ دے دی کہ کسی حرام خور کو نہیں چھوڑا جائے گا۔پاسپورٹ دفاتر کے باہر ہر آفیسر اور اہلکار کے فرائض واضح کردئیے گئے ۔مرد اور خواتین کے لئے پاسپورٹ کے حصول کے لئے کاو¿نٹرزبنائے گئے، پاسپورٹ بنانے والوں کو ان کے پاسپورٹ کے بارے میں فون پر معلومات دی جاتی رہیں اور باعزت طریقے سے پاسپورٹس ڈیلیور کئے جاتے رہے ۔والفقار چیمہ نے لاہور‘ سیالکوٹ اور بعض دوسرے شہروں میں پاسپورٹ دفاتر کے اچانک دورے کئے ، خود بطور شہری قطار میں کھڑا ہوکر حالات کا جائزہ لیا اور پھر اس کے بعد خرابیوں کو دور کرنے کے لئے اقدامات کئے۔سٹاف کا مورال بلند کیا ،جس کے نتیجہ میں محکمہ کے اہلکار ہفتہ اور اتوار کو بھی کام کرنے لگے۔انہوں نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ پاسپورٹ کامحکمہ حکومت کو سالانہ تیرہ ارب روپے کما کر دیتا ہے۔اس لئے اس محکمہ کے اہلکاروں کی فلاح کے لئے ایک ویلفیئر فنڈ بنایا جائے تاکہ کسی کارکن کو اگر ضرورت پڑے تو اس فنڈ سے اس کی مدد کی جاسکے۔انہوں نے وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے ان سے درخواست کی کہ پاسپورٹ پرنٹ کرنے کی صلاحیت بڑھائی جائے اور جدید پرنٹنگ مشینیں فراہم کی جائیںتا کہ روزانہ پانچ لاکھ پاسپورٹ تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرلی جائے ، یہ وہ وقت تھا جب بیرون ملک پاکستانی پاسپورٹ کی عدم فراہمی کے باعث سفارت خانوں کے باہر مظاہرے کر رہے تھے اورملک کا وقار مجروح ہو رہا تھا۔یہ سارا بحران اس لئے پیدا کیا گیاکہ کوئی چند کروڑ روپے کمانا چاہتا تھا جسے ملک کا کوئی احساس نہیں تھا۔

ہم صحافیوں کی شہرت بن گئی ہے کہ ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں جس سے ہمارا تعلق ہو، مگر ذوالفقار چیمہ کو میں ان کے چہرے اورشائد وہ مجھے میرے چہرے سے زیادہ نہیں جانتے، کبھی اکٹھے چائے پینے تک کا اتفاق نہیں ہوا مگر میں جس دوسری شخصیت کی یہاں بات کرنے لگا ہوں اس سے سیاستدانوں میں میرا تعلق شائد سب سے پرانا ہے جب میں ابھی طالب علم تھا اور وہ طالب علم رہنما۔ میں خواجہ سعد رفیق کی بات کر رہا ہوں جن کی سیاسی مصروفیات کی کوریج کرتے میری صحافتی عمر بیت گئی مگر یہ امر بھی حقیقت ہے کہ کبھی ان سے غیر ضروری رابطہ رہا ہی نہیں ۔ مجھ سے آج بھی خواجہ سعد رفیق کے گھر کا ایڈریس پوچھ لیا جائے تو مجھے علم نہیںہوگا اور ان کے وفاقی وزیر ریلوے بننے کے بعد میرا ان سے جو دو ، تین مرتبہ رابطہ ہوا ہے، اب میں پہلے اس کی کہانی سناو¿ں گا۔

رانا اظہر قیوم کیمرہ مین ہیں، ٹی وی چینل میں کام کرتے اور روزانہ فاروق آباد سے لاہور آتے ہیں۔ ایک رو ز میرے پاس آئے تو یوں لگا کہ جیسے ابھی روتے روتے آئے ہوں، استفسار کیا تو علم ہوا کہ لاہور، فیصل آباد روٹ پر بدر ایکسپریس چلتی ہے جو ایک سو گیارہ اور ایک سو بارہ کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔ وہ پہلے فاروق آباد ایک منٹ کے لئے ٹھہرا کرتی تھی ، اس مختصر سے قیام سے فاروق آباد کے بلاشبہ سینکڑوں محنت کشوں کوبہت فائدہ ہوتا تھا کہ وہ اس ٹرین کے ذریعے لاہور آنا ، جانا ممکن کرلیتے تھے مگر اب ریلوے کے بابوو¿ں نے اس سٹاپ کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر ختم کر دیا ہے۔ میں نے اپنی پندرہ ، بیس برس کی رفاقت کی ” پھڑ “ ماری اور کہا کہ خواجہ سعد رفیق وزیر ریلوے بن گئے ہیں، یہ کام تو چٹکی بجاتے ہوجائے گا۔ میں نے انہیں فون کیامگر بات نہ ہوسکی بہرحال رات کو ان کا اسلام آباد سے فون آ گیا۔ میں نے اپنے کیمرہ مین کی مصیبت عرض کردی، حکم ہوا کہ کل دوپہر بارہ بجے انہیں یاد کروا دوں، اگلے روز بارہ بجے فون کیا تو بات نہ ہو سکی مگر درخواست درج کروا دی، اس بات کو ایک سے ڈیڑھ دو ہفتے گزر گئے، خواجہ صاحب لاہور تشریف لائے، رانا اظہر کا روہانسا چہرہ میرے سامنے تھا او رمیں نے دوبارہ فون کرکے پھر درخواست کی۔میں نے واضح کیا کہ میں کبھی فاروق آبا د نہیں گیا اور نہ ہی میرے کوئی عزیز وہاں رہتے ہیں۔ میرا مفاد صرف یہ ہے کہ وہاں کے سینکڑوں لوگوں کی سہولت بحال ہوجائے۔ ۔۔ مگر باربار درخواست کے باوجودانہیں زندگی میںمیرا کہا ہوا پہلا کام بھی نہیں ہو سکا۔

ابھی خبر آئی ہے کہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے مختلف ٹرینوں کے کرایوں میں 33 فیصد تک کمی کردی ہے، جعفر ایکسپریس کے کرائے میں 33 فیصد کمی کی گئی ہے جس کا اطلاق فی الحال 3 ماہ کیلئے ہوگا، اسلام آباد ایکسپریس کے کرائے میں 17 سے 30 فیصد تک کمی کی گئی ہے، اس ٹرین کی اکانومی کلاس کو 30 فیصد تک ریلیف ملے گا جبکہ ریل کارکے تمام کرایوں میں 10 فیصد کمی ہوگی، اسلام آباد ایکسپریس اور ریل کار کے کرایوں میں کمی ابتدائی طور پر 15 دن کیلئے ہے۔ مجھے علم ہے کہ وہ ریلوے کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے اٹھارہ ، اٹھارہ گھنٹے اجلاس کرتے رہے، ملتان کے کرپٹ ترین افسر کو ہٹانے پرحافظ سلمان بٹ جیسے سیاسی مخالف نے پریس ریلیز جاری کر کے ان کا شکریہ ادا کیا۔ میں جس سعد رفیق کو جانتا ہوں وہ ایک کمٹڈ سیاسی کارکن ہے، وہ ریلوے بحال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اب میں اس پوری تحریر کے اصل مطلب کی طرف آتاہوں۔ میری وزیراعظم نواز شریف سے درخواست ہے کہ عوام اس وقت سب سے زیادہ لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہیں۔ میں تقرری اور تعیناتیوں کے قواعد وضوابط توبہت زیادہ نہیںجانتا مگرا تنا جانتا ہوں کہ اگر ذوالفقار چیمہ کو چئیرمین واپڈا لگا دیا جائے تو وہ معاملات کواسی طرح بہت جلد سدھار سکتے ہیں جس طرح انہوںنے بطور آر پی او گوجرانوالہ میں مجرموں کو سدھار دیا اورپھر لاکھوں عازمین حج کے لئے پاسپورٹ کا حصول ممکن بنادیا ۔ وہ بہت جلد بجلی کی پیداوار کو سٹریم لائن کر سکتے ہیں ۔ اسی طرح ریلوں کے کرائے کم کرنے والا سعد رفیق،جنرل سیلز ٹیکس اورمہنگائی کم کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے، لہذا ریلوے میں اس کی تیس روزہ پرفارمنس دیکھتے ہوئے وزیر خزانہ بنا دیا جائے۔۔۔ باقی میںاپنے کیمرہ مین دوست رانا اظہر قیوم سے معافی مانگ لوں گا کہ میں نے اپنے تعلق بارے غلط اندازہ لگایا تھا۔یوں بھی اگر سعد رفیق وزیر خزانہ بن جائیں تو میں کسی بھی نئے وزیر ریلوے سے تعلق کی اس سے سرگوشی بھی نہیں کروںگا۔

مزید : کالم