خادم اعلیٰ کا ایک سال اور ترقیاتی منصوبے

خادم اعلیٰ کا ایک سال اور ترقیاتی منصوبے
خادم اعلیٰ کا ایک سال اور ترقیاتی منصوبے
کیپشن: pic

  

ترقیاتی کام اُنہیں کہتے ہیں جو نظر بھی آئیں زبانی کلامی اور فائلوں کی حد تک تو بے شمار کام گنوائے جاتے ہیں مگر اُن کی حیثیت ایک خواب جیسی ہوتی ہے مثال کے طور پر قادر آباد پاور پراجیکٹ اور نندی پور پاور پراجیکٹ سابقہ حکومت کے دور میں شروع ہوئے مگر اُن کے دور کے پہلے دن سے لے کر آخری دن تک مکمل نہ ہو سکے بلکہ ان کی مشینری کراچی بندر گاہ پر پڑی پڑی ضائع ہو گئی اور اس طرح قومی خزانے کو اربوں کا نقصان ہوا، یہ دونوں علاقے وسطی پنجاب میں ہیں، اُن پراجیکٹس کا کھٹائی میں پڑ جانا خادم اعلیٰ میاں شہباز شریف کو ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا سو انہوں نے اس مسئلے کے حل کے لئے دن رات کام کیا جس کے نتیجے میں نندی پور پاور پراجیکٹ توانائی کی ڈیمانڈ ایک حد تک پوری کرنے لگا ہے جبکہ قادر آباد پاور پراجیکٹ پر کام جاری ہے، اس کے ساتھ ساتھ ساہیوال میں دو پاور پراجیکٹس پر کام شروع ہیں جو اپنی ریکارڈ مدت میں توانائی کے حصول میں معاون و مدد گار ثابت ہوں گے، اگر یہ کہا جائے کہ خادم اعلیٰ کا خوشحال پنجاب ایک خواب ہے اور وہ اس خواب کی تعبیر کے لئے روز و شب کوشاں ہیں تو بے جا نہ ہو گا اور ان کی ٹیم بھی ان کے ساتھ بڑے خلوص کے ساتھ دن رات انتھک محنت کرتی ہے، اس مشقت، ریاضت اور جانفشانی کا نتیجہ خوشحالی اور روشن پنجاب بلکہ روشن پاکستان نکلے گا۔

 انسان چاہے تو کیا نہیں کر سکتا پھر جب اس کے پاس اختیار بھی ہو اور کام کرنے کی نیت بھی ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ خوشحالی نہ آئے۔ خادم اعلیٰ کے نزدیک اس وقت سب سے بڑا مسئلہ لوڈشیڈنگ ہے، اس مسئلے کو انہوں نے ایک چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے اور اس کے لئے بار بار چین کا دورہ کر رہے ہیں، ابھی حال ہی میں وہ پھر چین کا دورہ کر کے آئے ہیں، ان دوروں کا مقصد صرف یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح لوڈشیڈنگ کے مسئلے کو حل کر لیا جائے۔ ابھی حال ہی میں پنجاب کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ایک ہزار ارب روپے کا ریکارڈ بجٹ منظور کیا گیا ہے، اس کے ساتھ جنوبی پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا ترقیاتی پروگرام 119 ارب روپے یعنی ترقیاتی بجٹ کا 36 فیصد ایک نیا ریکارڈ ہے، مراد یہ کہ ترقیاتی کاموں میں صرف لاہور کو فوکس نہیں کیا گیا بلکہ صوبے کے دیگر اضلاع اور ڈویژنوں کو بھی ترقی کی رفتار میں شامل کیا گیا ہے، ان میں بہاولپور، راجن پور، ملتان، فیصل آباد اور راولپنڈی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

آئندہ چار سال میں جی ڈی پی (GDP) کی شرح نمو 4.8 فیصد سے 8 فیصد تک پہنچ جائے گی، 20 لاکھ سے زائد مرد و خواتین کو ووکیشنل ٹریننگ دی جائے گی۔ معیشت میں بہتری کی بدولت 40 لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، اس دوران 70 لاکھ سے زائد افراد غربت اور بے روزگاری سے چھٹکارہ پائیں گے۔

اگر ہم لاہور پر ایک نظر ڈالیں تو اس میں ایک تبدیلی نظر آئے گی اور یہ تبدیلی خادم اعلیٰ کی کوششوں سے دیکھنے میں آئی ہے، اب ذرا فیروز پور روڈ کو ہی لیں، جہاں خاک اُڑتی تھی اور (ن) لیگ کی حکومت سے پہلے یہ فیروز پور روڈ پاکستان بننے سے پہلے کا نقشہ پیش کرتا تھا، جہاں بیل گاڑیاں، گدھا گاڑیاں، چھکڑے اور تانگے چلا کرتے تھے، اب یہاں اشارہ فری ٹریفک اتنی تیزی سے چلتی ہے جیسے موٹر وے پر چل رہی ہو۔ نیچے ہزاروں کی تعداد میں فراٹے بھرتی گاڑیاں چلی جا رہی ہیں اور اوپر میٹروبس بڑی شان سے چل رہی ہے جسے دیکھنے کے لئے پاکستان بھر سے لوگ بڑی دلچسپی کے ساتھ آتے ہیں اور اس میں سفر کر کے اپنی زندگی کی سہانی یادوں میں اضافہ کرتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ میٹرو بس کراچی اور راولپنڈی میں بھی چلے گی اور وہاں بھی شہریوں کو بہترین سفری سہولتیں ملیں گیں۔ اسکے ساتھ پورے لاہور میں انڈر پاسز اوور ہیڈ برجز کا ایک ایسا سسٹم چالو کیا گیا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے، اس کے ساتھ پارکس، باغیچے، گرین بیلٹس اپنا الگ حسن رکھتی ہیں، سو سال پہلے لاہور کو باغوں کا شہر کہا جاتا تھا، جب سے (ن) لیگ کی حکومت آئی ہے آج سو سال بعد پھر سے لاہور کو باغوں کا شہر کہا جانے لگا ہے۔

خادم اعلیٰ کے جاری ترقیاتی کاموں کو اگر بغور دیکھا جائے تو ایک بات کُھل کر سامنے آتی ہے کہ ایسے ترقیاتی کام صرف اور صرف وہی حاکم سر انجام دے سکتا ہے جو محب وطن ہو، جو اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل نہیں کرتا بلکہ اپنے سرمائے کو وطن کے لئے وقف کر دیتا ہے، جو قوم اور ملک کی ترقی کے لئے نہ صرف کوشاں رہتا ہے بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی دعوت دیتا ہے اور باور کراتا ہے کہ اُنہیں ہر طرح کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی یہی وجہ ہے کہ آج ہم نہ صرف اپنے تُرک بھائیوں کو پاکستان کی ترقی کے لئے بے چین دیکھتے ہیں بلکہ اپنے ہمسایہ ملک اور دیرینہ دوست چین کو بھی اپنے شانہ بشانہ چلتا ہوا دیکھتے ہیں۔

خادم اعلیٰ کی تعلیم کے حوالے سے پیش رفت بھی قابل تحسین ہیں، اہل طلبا میں لیپ ٹاپ تقسیم کر کے اُن کا حوصلہ بلند کرنا اور اُنہیں تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی دکھانے کی ترغیب دینا بہت اہم اقدام ہے۔

اگر سابقہ حکومت بھی ترقیاتی کاموں میں دلچسپی لیتی تو موجودہ حکومت کے لئے بڑی آسانی ہو جاتی اور اسے ترقیاتی سفر کو جاری رکھنا آسان ہوتا لیکن موجودہ حکومت کو تو زیرو پوائنٹ سے آگے چلنا پڑا ہے، جب تک قومی خزانے سے ملنے والے فنڈ خود غرض افراد کی جیبوں میں جاتے رہیں گے ملک ترقی نہیں کر سکے گا اور نہ ہی یہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوگا، آخر کیا وجہ ہے کہ آج 66 سال گزر جانے کے باوجود قوم اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ہے کیا ہمارے پاس کوئی ایسا لیڈر نہیں تھا جو توانائی کے بحران پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتا ہوتا، یہ انتہائی تشویش ناک بات ہے کہ زمین اور آسمان کے قلابے تو سبھی لیڈر ملاتے رہے لیکن توانائی کا مسئلہ حل نہیں کر سکے۔ اور آخر میں وہی ہوا ملک اندھیروں میں ڈوب گیا، کارخانے بند ہو گئے، بے روزگاری عام ہو گئی۔ ڈاکے، چوریاں اور سٹریٹ کرائم بڑھ گئے، مہنگائی میں اضافہ ہوا اور نوبت خودکُشیوں تک جا پہنچی، ان حالات کا اگر صدق دل سے جائزہ لیا جائے تو (ن) لیگ کی حکومت اس افراتفری کو بھانپ گئی اور خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اس کا واحد حل جو نکالا وہ توانائی کے حصول کا نکالا، پھر اس دن سے انہوں نے کمر باندھ لی اور توانائی کے حصول کے معاہدے بیرونی ممالک سے کرنے لگے، ان معاہدوں کے ثمرات ملنا شروع ہو چکے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب نہ صرف پنجاب بلکہ پورا پاکستان روشن پاکستان کہلائے گا اور ترقی کی اُس منزل کو پا لے گا جو شاعر مشرق کے خوابوں کی تعبیر ہوگا اور قائد اعظم کی اُمیدوں کا آئینہ دار ہوگا۔ یہ حقیقت ہے کہ کوئی قوم اُس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اسے محب وطن لیڈر نہ مل جائے۔

مزید :

کالم -