انقلاب کے لایعنی نعرے اور غریب عوام

انقلاب کے لایعنی نعرے اور غریب عوام
انقلاب کے لایعنی نعرے اور غریب عوام
کیپشن: pic

  

جناب من!کہتے ہیں کہ ایک شہر میں میاں بیوی رہتے تھے اور ان کی اکثر آپس میں سر پھٹول رہتی تھی اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر نوبت مار کٹائی تک جا پہنچتی تھی۔ اس باہمی لڑائی جھگڑے میں ان کی چیخ پکار کی آواز ساتھ والے گھر جاتی تھی کہ جہاں ایک شریف آدمی اکیلا رہتا تھا اور جیسا کہ عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ بیشک قصور ان کا ہو، مگر چیخ پکار میں مرد ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ یہی کچھ یہاں ہوتا تھا کہ ایک دن تلملاہٹ میں اس شریف آدمی نے موقعہ پا کر اس آدمی کو قتل کر دیا اور کسی کو قاتل کا علم نہ ہو سکا۔ کچھ عرصہ کے بعد اسی عورت سے اس نے شادی کرلی کہ جس کی ہمدردی میں اس کے خاوند کو قتل کیا تھا، مگر شادی کے بعد اس نے دیکھا کہ وہ عورت روز بروز کمزور ہوتی جا رہی ہے۔نہ کچھ کھاتی ہے نہ پیتی ہے ،ایک دن اس نے اس کمزوری اور پریشانی کی وجہ پوچھی تو عورت نے جواب دیا کہ میرا پہلا خاوند اور میں آپس میں اکثر لڑتے رہتے تھے۔ ہائے کتنا مزہ آتا تھا، مگر افسوس کہ لڑائی مار کٹائی تمہارے قریب بھی کبھی نہیں گزری اور تمہارے اندر تو مردوں والی بات ہی کوئی نہیں اور یہی غم مجھے کھائے جا رہا ہے۔ غایت مافی الباب یہ کہ من حیث القوم ہمارا حال ایسا ہی ہو چکا ہے کہ معمولی معمولی باتوں پر چیں بجبیں ہونا اور لڑائی مار کٹائی پر فوراً تیار ہو جانا گویا ہماری سرشت میں داخل ہو چکا ہے کہ ٹھہراﺅ، صبر و تحمل اور رواداری کی جگہ ہیجان ،ہما ہمی اور خود پسندی نے لے لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج نظم و ضبط اور سکون کی جگہ انتشار اور بے چینی کی ہمہ گیر فضا ہمارے ہاں قائم ہو گئی ہے اور آج ملک و قوم کا درد رکھنے والے ان حالات کو دیکھ کر خون کے آنسو روتے ہیں اور یہی وجوہات ہیں کہ قوم کو آفتوں اور مصیبتوں نے ہر طرف سے گھیرا ہوا ہے اور ان مصیبتوں کا نشانہ بدنصیب غریب عوام بنے ہوئے ہیں ،بقول فراز :

یہ شام ستم کٹتی ہی نہیں ،یہ ظلمت شب گھٹتی ہی نہیں

میرے بدقسمت لوگوں کی قسمت کا ستارا کیسا ہے

جغرافیائی طور پر بو قلمونی اور تنوع ہمارے ملک میں پایا جاتا ہے ،کہیں آسمان کو چھوتے کوہسار نظر آتے ہیں تو کہیں سر سبز اور لہلہاتی فصلوں والے میدان ،کہیں لق ودق صحرا ہیں تو کہیں تا حد نگاہ جنگلات اپنا دامن پھیلائے کھڑے ہیں دریں حالات یہ بدیہی امر ہے کہ ایک جگہ کے رہنے والے باشندوں کی طرز بود و باش اور مزاج ،عادات اور رسوم و رواج میں بھی اختلاف اور تنوع کا پایا جانا حقیقت نفس الامری ہے۔ عوام کے اندر پائے جانے والے اسی اختلاف اور تنوع سے فائدہ اٹھا کر کچھ مفاد پرست جاگیردار اور مذہب کا لبادہ اوڑھے مذہبی رہنماﺅں کے بھیس میں چھپے سیاست دان نسلی،گروہی اورمسلکی ،صوبائی اور لسانی اختلاف کو بنیاد بنا کر نفرت کے شعلوں کو ہوا دیتے نظر آتے ہیں،حالانکہ یہ اختلاف رنگ و بو تو“ گلہا ئے رنگ رنگ سے ہے زینت چمن ”کے مصداق سماج کے حسن اور خوبصورتی کا ضامن ہوتا ہے، مگر افسوس کہ ایک مخصوص مفاد پرست ٹولے کی جانب سے اس زینت اور حسن کو بد صورتی اور قباحت میں بدلنے کی ساز ش ہمیشہ سے جاری و ساری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم من حیث المجموع قعر مذلت میں پڑے ہوئے ہیں اور حقیقت پسندی کی بجائے کسی معجزے کی امید میں ہیجانی کیفیات میں کچھ بھی کرنے کو ہمہ وقت کمر باندھے تیار بیٹھے ہیں ۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ موجودہ حکومت کو قائم ہوئے ایک سال ہی ہوا ہے کہ اس کو گرانے کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں اور دھرنوں کی آہٹ سنائی دے رہی ہے اور انقلاب کے نعروں کی گھن گرج جاری ہے اور تبدیلی اور انقلاب کے شور و غوغا میں کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی، حالانکہ بہت ہی سادہ اور اصولی بات ہے کہ جب ایک حکومت قائم ہو گئی ہے تو اس کو کام کرنے دیا جائے اور اگر یہ حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے، تو اگلے الیکشن میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، مگر اس وقت سیاسی منظر نامے پر کوئی خوش کن خبر دیکھنے کو نہیں مل رہا ۔ پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ(ق)، ڈاکٹر طاہرالقادری کی عوامی تحریک، شیخ رشید اور ایم کیو ایم موجودہ حکومت کے خلاف ایک صفحے پر نظر آ رہے ہیں۔ اگر جمہوری اقدار اور روایات کو ملحوظ رکھا جائے اور مثبت اور تعمیری لحاظ سے حکومت پر تنقید کی جائے کہ جس سے غریب عوام کے لئے خوشخبریوں اور مسرتوں کا سامان پیدا ہو تو ہر باشعور شخص اس کی حمایت پر کمر بستہ ہو گا، اگر غیر جمہوری اور غیر اخلاقی طریقوں کو اپنانے کی کوشش کی جائے جیسا کہ شیخ رشید کا یہ کہنا کہ”جنازے کو اٹھانے کے لئے چار آدمی کافی ہوتے ہیں اور ہم چار لوگ اس حکومت کے خلاف موجود ہیں “۔

یہ بات اصولًا غلط اور جمہوریت کی نفی کرنے والی ہے اورعوام کے مینڈیٹ کا مُنہ چڑانے والی بات ہے اور اہل دانش سربگریباں اور اس سوال کے جواب کے متلاشی ہیں کہ ان دھرنوں کا مقصد کیا ہے ؟ نواز شریف کی حکومت چلی جاتی ہے تو کیا پھر ہمارے ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں جاری ہو جائیں گی؟کیا لوڈشیڈنگ مکمل طور پر ختم ہو جائے گی ؟کیا طاہر القادری ،شیخ رشید ،چودھری برادران وغیرہ ایسے مسیحا ہیں کہ عوام کو سستا اور فوری انصاف آناً فاناً مہیا کر دیں گے ؟ کیا یہ “پیر مغاں ”ملک سے فرقہ واریت ،دہشت گردی، لاقانونیت اور بدعنوانی کی یک لخت بیخ کنی کر دیں گے؟ جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے تو کیا وہ ان لوگوں کی مصاحبت میں جو دوسری پارٹیوں سے نکالے ہوئے اور آزمائے ہوئے لوگ ہیں عوام کو کوہ ہمالیہ سے بڑے مسائل اور مشکلات کی دلدل سے آناً فاناً نکال لیں گے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر آپ سے دست بستہ التجا ہے کہ خدا کے لئے اس افراتفری اور ہیجانی کیفیت سے خود بھی باہر نکلئے اور غریب عوام کو بھی باہر نکالئے کہ اس بدنظمی اور انتشار کا نتیجہ ملکی مفاد کے لئے اچھا نہیں ہو گا کہ آج ملک کو اتحاد اور یکجہتی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے اور دھرنوں، ہڑتالوں اور جلسے جلوسوں سے ملکی وحدت کو سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔خدا کے لئے غریب عوام پر رحم کھایئے اور جمہوریت کو پٹڑی پر چلنے دیجئے۔دوسری طرف حکومت کے ارباب اختیار سے بھی یہی التجا ہے کہ وہ غریب عوام کی مشکلات کو ختم کرنے میں نیک نیتی سے کوشاں ہو جائیں، تو یقین جانئے کہ آپ کی مشکل گھڑی میں یہی غریب لوگ آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے :

مانو نہ مانو جان جہاں اختیار ہے

ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں

مزید :

کالم -