اسرائیلی جارحیت اور مسلم اُمہ کی بے حسی

اسرائیلی جارحیت اور مسلم اُمہ کی بے حسی
اسرائیلی جارحیت اور مسلم اُمہ کی بے حسی
کیپشن: pic

  

غزہ میں اسرائیل کی طرف سے قیامت صغریٰ برپا کئے جانے کے بعد مسلم امہ کی خاموشی سے یہ امر ثابت ہو چکا ہے کہ اب اس نام کی کوئی شے دنیا میں موجود نہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ اسرائیل کی جارحیت کے جواب میں تمام اسلامی ممالک ایک ہو جاتے اور او آئی سی کا فوری اجلاس طلب کیا جاتا، مگر یہودی استعمار اور امریکہ کی چالوں نے مسلم دنیا کو کچھ اس طرح تقسیم کر دیا ہے کہ اس میں آواز نکالنے کی بھی سکت نہیں رہی۔ فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کا سلسلہ تو 1947ءسے جاری ہے، لیکن 2014ءمیں ہونے والی یہ جارحیت پہلے شاید ہی کبھی دیکھی گئی ہو۔ اس سے پہلے اسرائیلی طیارے حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے تھے، لیکن اس بار شہری علاقوں پر وحشیانہ بمباری کر کے زیادہ تر معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے، جو اپنے گھروں میں کھیل رہے تھے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلنے والی ان بچوں کی مسخ شدہ اور ریزہ ریزہ لاشیں پکار پکار کر انسانی ضمیر کو جھنجوڑ رہی ہیں، مگر وہ ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں۔ اُدھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی ڈھٹائی اور درندگی کا یہ عالم ہے کہ عالمی میڈیا کے ذریعے دنیا کو پیغام دے رہا ہے کہ فلسطینیوں پر حملے جاری رہیں گے، دنیا کی کوئی طاقت اُنہیں نہیں روک سکتی۔

امریکہ جو دنیا میں انتہا پسندی کا سب سے بڑا مخالف ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اسرائیل کے معاملے میں بھیگی بلی بن جاتا ہے، حالانکہ دنیا میں سب سے پہلے انتہا پسندی کا آغاز ہی اسرائیل کی وجہ سے ہوا۔ فلسطینیوں کی تحریک آزادی نے دنیا کو جارحیت کے خلاف مزاحمت کا پیغام دیا، جس کے بعد جہادی گروپ سامنے آئے اور یہ سلسلہ پھیلتا چلا گیا۔ 1947ءمیں ایک بڑی زمینی ریاست کے طور پر دنیا میں موجود فلسطین آج اسرائیلی غاصبیت کی وجہ سے غزہ کی پٹی تک سکڑ گیا ہے، مگر اسرائیل کو یہ بھی منظور نہیں۔ وہ فلسطینیوں کا نام و نشان تک مشرق وسطیٰ سے مٹا دینا چاہتا ہے۔ ایک مہذب دنیا میں (جسے حالیہ اسرائیلی جارحیت کے بعد مہذب کہنا بھی نا مناسب لگ رہا ہے) اس قسم کی لاقانونیت پورے منظر نامے کو شرمناک بنا دیتی ہے۔ اسرائیل کی یہودی ریاست درحقیقت امریکہ کے اقتدار اور معیشت کی جان ہے۔ کوئی امریکی صدر اسرائیل کے وزیر اعظم کو اُس طرح کی ڈکٹیشن نہیں دے سکتا، جس طرح وہ دنیا کے دیگر ممالک کے حکمرانوں کو دیتا ہے۔ امریکی معیشت پر یہودی قابض ہیں اور امریکہ کی 90 فیصد ملٹی نیشنل کمپنیاں یہودیوں کی ملکیت ہیں۔ امریکہ میں کوئی شخص امریکی صدر بننے کا خواب نہیں دیکھ سکتا، جب تک وہ امریکی یہودیوں سے آشیر باد حاصل نہ کر لے۔ ایسے میں کوئی کیا توقع رکھ سکتا ہے۔

مجھے اس وقت بہت ہنسی آ رہی ہوتی ہے، جب اسلامی ممالک کے سربراہان امریکی صدر سے اپیل کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ اسرائیلی جارحیت کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ امریکی صدر کی کیا جرا¿ت ہے کہ وہ اسرائیل کے معاملات میں مداخلت کرے۔ اُسے تو بس اسے سپورٹ کرنا ہے، ہر قیمت پر ہر حال میں، سو یہ اِس بار بھی ہو رہا ہے۔ صدر بارک اوباما ریسٹورنٹ میں جا کر کھانا کھا رہے ہیں اور امریکی میڈیا اس کی تصاویر ریلیز کر رہا ہے۔ تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ دنیا میں سب کچھ نارمل ہے، حالانکہ اسرائیل غزہ میں تاریخ کی بدترین جارحیت کا مرتکب ہو رہا ہے.... جہاں تک اقوام متحدہ کے کردار کا تعلق ہے تو یہ کہانی اب بہت پرانی ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ امریکی بالادستی کا ایک ادارہ ہے، جس طرح امریکہ اسرائیل کو کچھ نہیں کہہ سکتا، اسی طرح اقوام متحدہ بھی اسرائیل کے خلاف کوئی بڑی کارروائی کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔

شرمناک بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جو قرارداد منظور کی ہے،اس میں سیز فائر کا کہا گیا ہے۔ سیز فائر ایک ایسی اصطلاح ہے، جو دو فریقوں کے درمیان جنگ بندی کے لئے استعمال ہوتی ہے،جبکہ یہاں تو صرف اسرائیل یکطرفہ طور پر غزہ کو نشانہ بنا رہا ہے۔ گویا اسرائیل کو ایک فریق کا درجے دے کر اس کے مظالم کو بالواسطہ طور پر سپورٹ کیا گیا ہے، حالانکہ سلامتی کونسل کو اپنی قرارداد میں صرف اسرائیل کی جارحیت کے خلاف فیصلہ دینا چاہئے تھا۔ اب اس قرارداد کا اسرائیل جیسے طاقتور اور بے لگام ملک پر کیا اثر ہو سکتا ہے؟ وہ تو یہی کہے گا کہ چونکہ حماس نے اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، اسی لئے حملوں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا، جبکہ اصل صورت حال یہ ہے کہ حماس نے بالکل خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور اسرائیل یکطرفہ طور پر مظالم ڈھا رہا ہے۔ اسرائیلیوں کے رویے سے کہیں بھی یہ نہیں لگتا کہ انہیں امن سے کوئی دلچسپی ہے۔ وہ تو بس فلسطینیوں کو صفحہ ¿ ہستی سے مٹا دینا چاہتے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کون سا ضابطہ اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ حالت ِ جنگ میں بھی آپ شہری علاقوں کو نشانہ بنائیں۔ یہاں تو اسرائیلی طیارے نہتے شہریوں کے گھروں پر وحشیانہ بمباری کر رہے ہیں اور دنیا یہ تماشا دیکھ رہی ہے۔ فلسطینیوں کی بے چارگی اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گی کہ وہ معصوم بچوں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں اور انہیں دنیا نے بالکل تنہا چھوڑ دیا ہے۔

مجھے وہ زمانہ بھی اچھی طرح یاد ہے،جب فلسطینیوں پر اسرائیل حملے کرتا تھا تو پوری مسلم اُمہ سڑکوں پر نکل آتی تھی۔ اسلامی ممالک کے رہنما بھی پیچھے نہیں رہتے تھے اور اسرائیل کو جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا تھا۔ اب یہ باتیں خواب و خیال لگتی ہیں۔ سالہا سال کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے بعد امریکہ اور اسرائیل بالآخر مشرق و سطیٰ کو ریزہ ریزہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ مصر، شام، عراق اور لیبیا، جو کبھی فلسطین کی مالی و اخلاقی سپورٹ کے سب سے بڑے حصہ دار ہوا کرتے تھے، انہیں ایسی شکست و ریخت سے دوچار کیا گیا ہے کہ اُن میں خود اپنے آپ کو سنبھالنے کی سکت نہیں۔ ٹوٹتے اور بکھرتے ہوئے یہ ممالک اب عبرت کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ ان چاروں ممالک میں کسی ایک جگہ بھی مضبوط اور مستحکم حکومت نہیں۔ عراق کے حصے بخرے کئے جا رہے ہیں اور اس کی تقسیم اب نوشتہ ¿ دیوار ہے۔ باقی تینوں ممالک بھی انتشار وافتراق کی تصویر بن چکے ہیں۔ امریکی سازشیں پوری ملت ِ اسلامیہ کو تہہ وبالا کرنے کے لئے جاری ہیں اور اسرائیل ان سازشوں کے پیچھے سب سے بڑی طاقت کے طور پر موجود ہے۔

جو ممالک امریکی چھتری تلے موجود ہیں، یعنی سعودی عرب، قطر، اردن، کویت وغیرہ ،وہ اسرائیل کے خلاف زبان کھولتے ہوئے سو بار سوچتے ہیں۔ وہاں کے حکمرانوں کو الٹا اس بات سے دلچسپی ہے کہ ہمسایہ اسلامی ممالک میں انتشار پھیلا کر انہیں کیسے کمزور کیا جائے۔ وہ یہ بات بھول چکے ہیں کہ یہودی جب ان ممالک کے حصے بخرے کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، تو ان کی طرف رخ کریں گے۔ مسلمانوں کی طاقت کو دنیا سے ختم کرنا یہودیوں کا ایجنڈا ہے اور یہ سب کچھ ان کی رہنما کتابThe Protocoles میں برسوں پہلے ایک منشور کے طور پر رقم کیا جا چکا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ سب کچھ دیکھنے اور سمجھنے کے باوجود اسلامی ممالک کے حکمرانوں نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ اب عملاً مسلم دنیا کی کوئی ایسی تنظیم نظر نہیں آتی، جو بیک آواز ہو کر اسرائیلی مظالم کی مذمت کر سکے۔ آرگنائزیشن آف اسلامک ممالک ( او آئی سی) عملاً دم توڑ چکی ہے، کیونکہ اسلامی ممالک تو خود اپنی بقاءکی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اسرائیل ایک ایسے بدمعاش کی شکل اختیار کر گیا ہے، جس سے تمام محلے والے خوف کھاتے ہیں.... کچھ یہی حال مشرق وسطیٰ کے مسلمان ممالک کا ہے، جس طرح یہودی نواز امریکی استعمار نے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں جمہوری تحریکوں کے نام پر آمریت کے انقلاب برپا کئے ہیں، ان کی وجہ سے اب کوئی ایسا ملک نظر نہیں آتا،جو مسلم اُمہ کو یکجا کر سکے۔ 

سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل فلسطینیوں کو صفحہ ¿ ہستی سے مٹانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ کیا غزہ کی پٹی بھی فلسطینیوں سے چھین لی جائے گی، کیا ہر سال چھ مہینے بعد اسرائیلی طیارے نہتے فلسطینیوں کو چھلنی کرتے رہیں گے اور دنیا اسرائیل کی منتیں کرے گی کہ وہ حملے روک دے۔ کیا ملت اسلامیہ اسی طرح تقسیم رہے گی اور اس کے حکمران مال و دولت کے خمار میں غرق رہیں گے۔ کیا ڈیڑھ ارب مسلمان کبھی ایک طاقت نہیں بنیں گے اور مٹھی بھر یہودیوں کے ہاتھوں ذلت و رسوائی کے ساتھ مرتے رہیں گے؟ کتنی شرمناک بات ہے کہ سوائے پاکستانی وزیراعظم کے کسی اسلامی ملک کے حکمران نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف کوئی مذمتی بیان تک جاری نہیں کیا۔ گویا اسلامی دنیا کی قیادت ذہنی طور پر اسرائیل کے ہاتھوں اپنی شکست تسلیم کر چکی ہے۔ اب صرف ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ اسلامی ممالک کے عوام اسرائیلی جارحیت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کریں اور اپنے حکمرانوں پر دباﺅ ڈالیں کہ وہ اپنے اقتدار کی خاطر ملت ِ اسلامیہ کو تباہی سے دوچار نہ کریں۔ عوام کی سطح پر ایک اور بڑا کام یہ کیا جا سکتا ہے کہ امریکی نیشنل کمپنیوں کی مصنوعات کا اپنے ممالک میں بائیکاٹ کریں۔ یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں یہودیوں کی ملکیت ہیں، یہودیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پیسے کے لئے سب کچھ کر گزرتے ہیں، اس بائیکاٹ کی وہ تاب نہیں لا سکیں گے اور اسرائیل کو جارحیت سے باز رکھنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اسرائیلی یہودیوں نے مسلمانوں کے خون سے جو ہولی کھیلی ہے، وہ ہمارے ضمیر کو جگانے کے لئے کافی ہے، مگر افسوس مسلم اُمہ کے عوام جس قدر اس جارحیت پر دُکھی اور مضطرب ہیں، مسلم حکمران اتنے ہی بے فکری اور مدہوشی کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔ کیا یہ شرمناک بات نہیں کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف بڑے بڑے عوامی مظاہرے یورپ اور امریکہ میں ہو رہے ہیں، لیکن مشرقِ وسطیٰ نیز ایشیا پر سناٹا طاری ہے، کیا اس سے بڑی بے حسی بھی کوئی ہو سکتی ہے؟   ٭

مزید :

کالم -