کچھ ”اچھی باتوں “کا ذکر بھی ہوجائے

کچھ ”اچھی باتوں “کا ذکر بھی ہوجائے
 کچھ ”اچھی باتوں “کا ذکر بھی ہوجائے
کیپشن: mumtaz shfih

  

آج کچھ اچھی باتوں کا ذکر .... بلکہ خاص طورپر ذکر ہوجائے۔ المیہ یہ ہے کہ وطن عزیز میں مسلسل سیاسی ، معاشی ، سماجی بحرانوں کی وجہ سے لوگوں نے اچھی باتوں کا نوٹس لینا چھوڑ دیا ہے اور کبھی، کہیں کوئی ”اچھی بات“ ہوتی ہے تو اس پر سرسری طورپر توجہ دی جاتی ہے۔ قوم کے اعصاب اس قدر نڈھال اور کمزور ہوچکے ہیں کہ اچھی بات کرنے والوں کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی، جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں۔ یہ بھی سمجھ لیا جاتا ہے کہ پرانے وقتوں کے لوگ ہیں، تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے، ان کی کسی اچھی بات کو زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے ہاں اب یہ سوچ بھی ہے کہ اچھی بات کرنے والے پرانے فیشن کی طرح ہیں۔ اب نیادور ہے، نیازمانہ ہے، لہٰذا نئی بات کرنے والوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ! ایسی سوچ اور ایسے ماحول میں، اچھی باتوں کی قدر کرنا ہی، حقیقت پسندی ہے۔ موجودہ صورت حال میں ہمیں بجاطورپر حقیقت پسندی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔

ایک اچھی بات تو یہ ہوئی ہے کہ بالآخر وزیراعظم نوازشریف اپنے دیرینہ اور قریبی ساتھی وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو منانے میں کامیاب ہوگئے۔ اس کا سارا کریڈٹ شہباز شریف کے نام ہے، جنہوں نے اپنے بڑے بھائی (پاءجی) کی خدمت کرکے صورت حال کو خراب ہونے سے بچایا ہے۔ ایک اور اچھی بات یہ ہوئی کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں حصہ لینے والے فوجیوں سے اگلے مورچوں تک جاکر خصوصی ملاقات کی اور پیغام دیا کہ ملک کو دہشت گردی سے مکمل طورپر نجات دلا کر رہیں گے۔ ڈرامائی انداز میں سہی، سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے فرزند ارجمند ارسلان افتخار نے بلوچستان انویسٹمنٹ بورڈ کے وائس چیئرمین کے عہدے سے استعفا دے دیا۔ یہ اچھا کام کرکے انہوں نے اپنے والد پر ہونے والی تنقید کا سلسلہ ختم کرنے کی کوشش کی۔ انفرادی سطح پر یہ ایک اچھی بات ہے، جبکہ اجتماعی سطح پر ایم کیوایم نے پاک فوج کے آپریشن شمالی وزیرستان کی حمایت کے لئے کراچی کے جناح پارک میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ اکٹھے کرکے اظہار یکجہتی کی عمدہ مثال پیش کی۔

 اس تاریخی جلسے کی کارروائی کے دوران الطاف حسین کی تجویز پر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں اور حاضرین نے، شاندار اور قابل فخر خدمات انجام دینے پر مسلح افواج کو سلیوٹ پیش کیا۔ ذکر اچھی باتوں کا ہورہا ہے تو یقیناً یہ بہت اچھی بات ہے کہ جماعت اسلامی کی قیادت دوبارہ سرگرم ہورہی ہے۔ محترم سراج الحق کے امیر جماعت انتخاب کے بعد قائدین جماعت کی سرگرمیوں میں قدرے تیزی کی توقع تھی، مگر خلاف توقع ملکی سیاست کے حوالے سے رسمی انداز میں کام ہوا، جو توقعات تھیں، وہ پوری نہیں ہورہی تھیں۔ اس عرصے میںقائدین جماعت کی تنظیمی اور تربیتی سرگرمیوں پر توجہ زیادہ تھی۔ ہم آگے چل کر واضح کرنے کی کوشش کریں گے کہ جماعت اسلامی کی قیادت کس انداز میں دوبارہ سرگرم ہورہی ہے؟....اتنی اچھی باتوں کے سرسری ذکر کے بعد باری باری تمام اچھی باتوں کے پس منظر اور موجودہ حالات میں ان کی اہمیت کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ قارئین کرام ہراچھی بات کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔

 میاں نواز شریف اور چودھری نثار کی ”صلح“ نے حکومتی پارٹی کو ایک بحران سے بچا لیا، ورنہ حکومت کو جن بحرانوں کا سامنا ہے، ان میں ایک اور بحران کا اضافہ سنگین اور خطرناک صورت حال کا چیلنج بن سکتا تھا۔ میاں نواز شریف کے ساتھ ہماری شناسائی کی ابتدا اس وقت ہوئی تھی ، جب وہ محض ”اتفاق کے ڈائریکٹر تھے اور ریڈیوپاکستان لاہور کی عمارت کے پہلو میں ان کا دفتر ہوا کرتا تھا، جہاں ہماری ان سے اکثر ملاقات ہوجایا کرتی تھی۔ ان دنوں نواز شریف اس بات پر کڑھتے رہتے تھے کہ وہ اپنے والد میاں محمد شریف کے ساتھ مل کر ملک میں ٹریکٹر کے پرزے تیار کرنے کا بہت بڑا کارخانہ بنانے کے لئے اسلام آباد کے چکر لگاکر تھک چکے ہیں اور متعلقہ وزارت کی جانب سے ان کے اس پراجیکٹ کو بلاوجہ نظرانداز کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کامرس منسٹری اجازت دے تو ٹریکٹر کے 35فیصد پرزے تیار کرنے کے کام کو تین سے چارسال کے اندر 85فیصد پرزے بنانے تک لے جاسکتے ہیں۔ بعدازاں جب نواز شریف کو پنجاب کا وزیر خزانہ بنایا گیا تو ان کے دل اور دماغ میں ملک کے لئے نمایاں اور یادگار کام کرنے کا بہت زیادہ جذبہ موجود تھا۔

1985ءکے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد نواز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ بن گئے۔ اس وقت سیاسی چکر بازیوں نے انہیں چکرا کر رکھ دیا اور جنرل ضیاءالحق کے بعد جنرل غلام جیلانی خان کی بھرپور حمایت اور رہنمائی کے باوجود انہیں مکمل فری ہینڈ نہ مل سکا، تاہم انہیں جتنا موقع ملا، اسی قدر وہ صوبے اور عوام کی بھلائی کے کام کرتے رہے۔ ہمیں بطور اخبار نویس اور میاں صاحب کے خوابوں میں ”شیئر“ کرنے والے ”شناسا“ کی حیثیت سے ان کے مزاج اور کام کرنے کے طریقے کا جائزہ لینے کا موقع ملا ....(یہ سلسلہ ان کے وزیراعظم بننے اور پھر اپوزیشن لیڈر کے طورپر تحریک نجات کے لئے فعال رہنے تک جاری رہا۔).... نواز شریف کی اولین خواہش یہ ہوتی ہے کہ جولوگ ان کے ساتھی ہونے کا دعویٰ کرتے اور دم بھرتے ہیں، انہیں ہرقسم کی قربانی دیتے رہنے کے لئے ہمیشہ تازہ دم ہونا چاہئے ۔ انہیں میاں صاحب جتنا بھی نظر انداز کریں، اس کی پروا نہ کی جائے۔ ظاہر ہے، ایسے لوگ ذاتی زندگی میں دوست کی حیثیت سے تو ساتھ نباہ سکتے ہیں۔ سیاست میں 99فیصد ساتھی، جو پسینے کی جگہ اپنا خون بہانے اور ضرورت پڑنے پر جان تک دینے کے دعویدار ہوتے ہیں، وہ اپنی ضرورتوں کو بہرحال ترجیح دیتے ہیں اور زیادہ عرصے تک نظرانداز کئے جانے کی آزمائش میں پورا اترنے کی بجائے انتظار میں رہتے ہیں کہ کوئی فارورڈ بلاک بنے یا کسی دوسری جگہ انہیں اپنی ضرورتیں پوری کرنے کا موقع دیا جائے تو وہ گولڈن چانس ضائع نہیں کرتے۔

میاں صاحب کی ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ وہ بعض اوقات کسی پر بلاوجہ مہربان ہوجاتے ہیں۔ عموماً ان کی یہ مہربانی عارضی ہوا کرتی ہے، لیکن اس کا ان کے وفادار، قربانیاں دینے اور خود کو ”مہربانی“ کامستحق سمجھنے والے بہت برا مناتے ہیں۔ اسی طرح اکثر اوقات نواز شریف کو بخوبی یہ احساس ہوتا ہے کہ فلاں ساتھی سے کسی معاملے میں زیادتی ہوگئی ہے، وہ اس کا ازالہ کرنے کا سوچتے ضرور ہیں، مگر حکومتی، سیاسی اور ذاتی مصروفیات سے وقت نکال کر عملی طورپر ازالہ نہیں کرتے، پھر وقت گزرتا چلا جاتا ہے۔ ساتھیوں کو نظرانداز کرنے کی روایت اس قدر پختہ ہے کہ وہ اسے ٹھیک نہیں کرپائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ”کچن کیبنٹ“ اور ”پنج پیارے“ ان کے اقتدار میں بھی موضوع بحث رہتے ہیں اور جب وہ اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو اس وقت بھی ان کی اس عادت کا تذکرہ ہوتا رہتا ہے۔ مزید ستم یہ کہ اس وقت میاں صاحب اپنی کمزوری وغلطی کا اعتراف کرتے ہوئے ”عہد“ کرتے ہیں کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا ،مگر ”چھٹتی نہیں، منہ سے یہ کافر لگی ہوئی “ کے مصداق، میاں صاحب اسی ڈگر پر چلتے رہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ کئی ساتھیوں سے محروم بھی ہوچکے ہیں اور اس نقصان کا بخوبی احساس بھی ہے۔

چودھری نثار علی ان کے ایک فیصد مخلص ساتھیوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ قوی امکان تھا کہ چودھری نثار علی خان اپنی فطری وابستگی اور شہباز شریف کی ”گارنٹی“ کی پروا نہ کرتے اور معاملہ خراب ہوجاتا،مگر اسے نواز شریف کی خوش قسمتی کہئے کہ صورت حال خراب نہ ہوئی۔ چودھری نثار نے اپنے معاملات پیشگی درست کرنے کی شرط نہ رکھی اور اسلام آباد کی بجائے لاہور آکر ”صلح “ کرنے کو تیار ہوگئے۔ جو لوگ اندر کی کہانی سے واقف ہیں، ان کا کہنا یہ ہے کہ نواز شریف چاہتے تو ان کے دیرینہ مخلص ساتھی کو خاموش احتجاج پر مجبور نہ ہونا پڑتا۔ ناراضی کو بلاضرورت اور خواہ مخواہ طول دیا گیا۔ یہاں ہم اپنی ایک آبزرویشن کا ذکر ضروری سمجھتے ہیں کہ میاں نواز شریف کو اپنی ”تھپکی“ اور خصوصی قاصد پر ہمیشہ بہت بھروسہ رہتا ہے۔ وہ فرض کئے رہتے ہیں کہ جب وہ کسی ناراض یا راستہ الگ کرنے پر تلے ہوئے ساتھی کو لاڈ اور پیار سے ”تھپکی“ دیں گے تو وہ سب کچھ بھول کر ساتھ چلتے رہنے کو تیار ہوجائے گا۔ ان کا یہ مان اور بھروسہ ان کی طبیعت کا حصہ ہے۔ ان کے بہی خواہ اور ”پرانے شناسا“ کے طورپر ہم انہیں یہ مشورہ دیں گے کہ وہ اپنی پیار بھری، مان بھری تھپکی پر بھروسہ نہ کیا کریں۔ کوشش کریں کہ اس کی نوبت ہی نہ آئے ۔ ویسے بھی تھپکی دے کر منانے کا موقع کم ہی ملتا ہے۔

دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کے معاملے میں فوج، حکومت اور قوم ایک پیج پر ہیں۔ یقیناً یہ نعمت ہے، ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اگلے مورچوں کا دورہ کرکے بہت اچھا کام کیا۔ ہمارے پاک وطن کے رکھوالوں کے حوصلے یقیناً بلند ہوئے ہوں گے۔ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ ملکی بقا ءکا سوال ہے۔ دہشت گردوں کے خاتمے تک ہرجگہ ان کا پیچھا کیا جائے گا۔ اس پیغام سے پوری قوم کا مورال بلند ہوا ہے۔ مسلح افواج سے اظہار یکجہتی کے لئے ایم کیوایم کا تاریخی جلسہ بھی بہت اچھی بات ثابت ہوئی۔ ایسی باتیں ہوتی رہنی چاہئیں۔ شرکاءسے ویڈیو لنک خطاب سے الطاف حسین نے سابق صدر اور ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6کے تحت عدالتی کارروائی کو جانبدارانہ اور غیرآئینی اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف پرویز مشرف کے خلاف ایکشن کیوں ؟ ان کے ساتھیوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) کیانی کو بھی جنرل (ر) پرویزمشرف کے ساتھ ایک کمرے میں بند کردیا جائے اور باقی ساتھیوں کو ”آرٹیکل 6۔ کالونی“ میں رکھا جائے۔ الطاف حسین کی یہ باتیں سن کر ایسے لگتا تھا کہ جلسہ بنیادی طورپر جنرل (ر) پرویز مشرف کے حق میں تھا۔ بہرحال، فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی کے حوالے سے جلسہ متاثر کن تھا۔ اس کی نوعیت بھی منفرد تھی۔

جماعت اسلامی کے نئے امیر سراج الحق کے انتخاب کے بعد سیاسی اور عوامی حلقے یہ امید کررہے تھے کہ سید منور حسن (سابق امیر ) کے مقابلے میں نئے امیر، ساری اگلی پچھلی کسر نکالیں گے۔ جماعت کی بعض معاملات پر پالیسی بھی نئے انداز میں سامنے آئے گی۔ سراج الحق مختلف حوالوں سے جماعت کو آگے بڑھانے کے لئے کام کریں گے۔ نئے امیر کی رسم حلف وفاداری متاثر کن تھی، جبکہ خیبر پختونخواسے آئے ہوئے کارکن نے ہم سے پورے اعتماد کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب ہمارے صوبے سے بھی منصورہ میں زیادہ تعداد میں کارکن اور عہدیدار نظر آیا کریں گے۔ چند دن نئی قیادت کی سرگرمیاں دکھائی دیں، پھر جماعت کی سرگرمیاں مدھم انداز میں ہوتی رہیں۔ روایتی تربیتی پروگرام ہوتے رہے۔ نئے امیر سراج الحق اور سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ سرگرم رہے۔ تنظیمی کام پر زیادہ توجہ دی گئی۔ یوں کہہ لیجئے کہ ہوم ورک ہوتا رہا۔ نئے امیر کی حلف وفاداری کے بعد تنظیمی طورپر زیادہ تبدیلیاں نہیں کی گئی تھیں، نہ ہی بلاوجہ نئے عہدیداروں کا تقرر ہوا۔ صرف ہمارے دیرینہ دوست اور میڈیا میں مقبول محترم امیر العظیم کو دوبارہ مرکزی سیکرٹری نشرواشاعت بنادیا گیا۔ اس کی ضرورت بھی تھی۔ ان کے تقرر پر ہم نے ”تھینک یو سراج الحق “ کہتے ہوئے امیر جماعت کے اس فیصلے کو باقاعدہ سراہا بھی تھا۔

ایک بات ہم نے جماعت اسلامی کے قائدین کے حوالے سے خاص طورپر نوٹ کی ہے کہ سراج الحق مزاجاً پہلے سے زیادہ سنجیدہ ہوگئے ہیں (کام اور محنت کے معاملے میں تو وہ پہلے ہی سنجیدہ تھے).... امیر منتخب ہونے سے پہلے وہ کبھی کھل کر ہنستے ہوئے دیکھے جایا کرتے تھے۔ جماعت اسلامی کے سابق ساتھی اور موجودہ صدر پنجاب، پاکستان تحریک انصاف اعجاز چودھری کے صاحبزادے کی دعوت ولیمہ تھی۔ ہم اپنے بھتیجے کو بہت ساری دعائیں دے کر جب اپنے محترم بھائی اعجاز چودھری سے بھی نیک تمناﺅں کا اظہار کرکے آگے بڑھے تو ماڈل ٹاﺅن کے ڈی گراﺅنڈ میں بنائے گئے خصوصی پنڈال کی راہداری میں آہستہ آہستہ چلتے ہوئے محترم سراج الحق ہمیں مل گئے۔ وہ کسی سوچ میں گم تھے۔ رسمی طورپر دوبارہ سلام دعا کے مراحل سے گزر کر ایشو آف دی ڈے پر چند جملے ادا کرنے کے بعد سراج الحق پھر خاموش ہوگئے۔ انہیں اپنی واسکٹ کی جیب ٹٹولتے دیکھ کر ہم نے پوچھ لیا:”کہیں کوئی شے گم تو نہیں ہوگئی “؟ وہ ہنس پڑے اور جواب دیا کہ سوچ رہا ہوں، کہاں جاﺅں !

ہم نے مشورہ دیا :” آپ منصورہ جائیں، وہاں آپ کی زیادہ ضرورت ہوگی“!....(اس وقت تک وہ امیر منتخب نہیں ہوئے تھے).... ہماری بات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے ہمارے ہاتھ کو تھام کر کہا :”منصورہ تو فیصل آباد والے گھنٹہ گھر کی طرح ہے۔ وہاں جانے کے لئے سوچ بچار کی ضرورت نہیں ہوتی“ !....ہمارے ساتھ نوائے وقت کے خواجہ فرخ سعید بھی تھے۔ انہوں نے شرارتی لہجے میں کہا: ”آپ پشاور جائےں،لگتا ہے، آپ کو پشاور کی یاد آرہی ہے“۔ یہ سنتے ہی سراج الحق نے ہلکا سا قہقہہ لگایا اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔ اس سے آپ کو امیر بننے سے پہلے والے سراج الحق کے مزاج کا اندازہ ہوگیا تھا۔ اب وہ پہلے سے زیادہ سنجیدہ ہوگئے ہیں۔ ادھر جماعت کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نسبتاً زیادہ خوش مزاج ہو گئے ہیں۔ ان کی شگفتہ مزاجی کے نمونے محفل یاراں میں عموماً مل جاتے ہیں ،جبکہ ٹیلی فون پر بھی وہ پھلجھڑی چھوڑنے سے نہیں چوکتے ۔   ٭

مزید :

کالم -