صحافی اسد اقبال پر تشدد، ذمہ دار وارڈن گرفتار نہیں ہوئے؟

صحافی اسد اقبال پر تشدد، ذمہ دار وارڈن گرفتار نہیں ہوئے؟
صحافی اسد اقبال پر تشدد، ذمہ دار وارڈن گرفتار نہیں ہوئے؟
کیپشن: pic

  

یہ کوئی پہلا واقع نہیں، ماضی میں تو صحافیوں کو ان کے فرائض کی ادائیگی پرڈنڈے اور لاٹھیاں کھانا پڑتی تھیں۔ کئی بار بعض حضرات پر ایسے حادثات بھی گزرے کہ وہ گولی سے بار بار بچے۔ ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریکوں کے دوران ہم خود بھی پولیس کے ڈنڈوں کا شکار ہوئے اور9اپریل1977ءتو بھول نہیں سکتا کہ گولیاں ہمارے کانوں میں سیٹی بجاتے ہوئے پاس سے گزری تھیں اس سب ماضی کو یاد کرتے ہوئے بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ حادثہ بالکل الگ نوعیت کا ہے کہ ایک نہتے شخص پر چار ہٹے کٹے ٹریفک وارڈنز نے سرعام تشدد کیا اور ان کو روکنے والا کوئی نہیں تھا، جس کو روکنا چاہئے تھا وہ تو خود ان کی نگرانی کر رہا تھا اور جونہی ان چاروں نے اسد کو ادھ موا کر کے ڈال دیا اس نے ان کو فرار ہو جانے کے لئے کہا، وہ تو بھلا ہو بعض راہ گیروں کا جنہوں نے اسد کو ہسپتال پہنچا دیا، ایسے میں اگر اس کی نقدی اور موبائل گم ہو گئے یا وارڈدن حضرات لے کر بھاگ گئے تو یہ بھی ہمارے ہی کلچر کا حصہ بن چکا ہوا ہے۔

ہم شاید اس حادثے پر قلم نہ اٹھاتے، لیکن جو کچھ ہوا وہ ایک تو ہمارے ساتھی سٹاف ممبر کے ساتھ ہوا ہے۔ دوسرے اسد ایک نہایت ہی کم گو اور مودب بچہ ہے، ہمیشہ ادب سے بولتا ہے اور بڑوں کے سامنے جھجک سے بات کرتا ہے۔ آج تک اس کے بارے میں کسی جھگڑے کی شکایت نہیں ہے، لیکن جہاں تک وارڈن حضرات کا تعلق ہے تو ان کو اپنے دُکھوں کا مداوا عام شہریوں پر تشدد ہی سے ملتا ہے، اس پر مستزاد یہ کہ آج کل ان کے انچارج بہت انا پرست اور شاید اذیت پسند بھی ہیں کہ اپنے عملے کی بے جا حمایت میں پیش پیش رہتے ہیں۔ اطلاع تو یہ ہے کہ وزیراعلیٰ کی طرف سے کارروائی کی ہدایت کے باوجود پولیس نے وارڈن حضرات کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا۔ ہمیں یہ شبہ ہے کہ اسد کی طرف سے تو مقدمہ درج نہ ہوا، لیکن وارڈن کی طرف سے یقینا ”کار سرکار میں مداخلت“ کا الزام لگا کر مقدمہ درج کر لیا گیا ہو گا اور اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ کسی وارڈن صاحب کی پرانی اور بوسیدہ وردی پیش کر کے یہ الزام بھی لگا دیا گیا ہو کہ اسد نے تو پہلے وردی پھاڑی تھی۔

پرانے زمانے سے مئی سے جولائی کے مہینے تک لڑائی، جھگڑے اور تلخی کے واقعات اور حادثات دوسرے نو مہینوںکی نسبت زیادہ ہوتے ہیں۔ نفسیات دان حضرات نے اس کی توضیح یہ کی کہ یہ تینوں مہینے سخت گرمی کے ہوتے ہیں، ان کے دوران مزاج چڑچڑے ہو جاتے ہیں۔ گرمی پریشان کرتی ہے تو لوگ ایک دوسرے کا لحاظ نہیں کرتے اور تلخ ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان تین ماہ میں لڑائی،جھگڑے اور قتل کے جرائم زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں، لیکن یہاں تک یہ بھی معاملہ نہیں۔ یہ وارڈن حضرات تو قرطبہ چوک کے اس انٹر چینج پر ہی نہیں پچھلے چوراہوں پر بھی میٹرو بس کے پلوں کی چھاﺅں میں کراس کرتی ہوئی ہوا کا مزہ لیتے ہیں، یقین نہ ہو تو ادھر سے روزانہ گزرنے والے حضرات سے پوچھ لیں وہ آپ کو بتائیں گے کہ یہ لاڈلے کسی خاص ہی مسئلہ پر یہ چھاﺅں چھوڑ کر کسی اور طرف بڑھتے ہیں، ورنہ ان کی بلا سے ٹریفک جام ہوتی ہے تو ہوتی رہے، کوئی کسی کو راستہ دیتا ہے دے، نہیں دیتا تو نہ دے، ان کی بلا سے، یہ تو اس تاڑ میں رہیں گے کہ ان کے قریب ہی سے کوئی بٹیر مل جائے اور یہ اس کا چالان کر سکیں۔

جہاں تک ان ٹریفک وارڈنز کا تعلق ہے تو بلاشبہ وہ اپنے مستقبل سے پریشان ہیں کہ معقول تنخواہ تو ضرور ہے لیکن ان سے اضافی سہولتیں واپس لے لی گئی ہیں اور ان کا کوئی سروس سٹرکچر نہیں۔ دوسرے معنوں میں ترقی کے مواقع نہیں ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ بھی تو نہیں کہ یہ اس رنج کا غصہ شہریوں پر نکالیں اور جہاں موقع ملے، پٹائی کر دیں۔ یہ درست کہ سبھی ایسے نہیں ہوتے لیکن بڑھتے ہوئے تشدد کی کچھ تو وجوہات ضرور ہوں گی۔ ان کا سراغ لگانا چاہئے۔

جہاں تک ہماری رائے کا تعلق ہے تو یہ واقعات ان وارڈن حضرات کی بے جا حمایت کے باعث ہو رہے ہیں۔ ذرا غور کریں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ یہ سب کرکٹر عمر اکمل والے واقع کے بعد سے اضافہ ہوا ہے۔ عمر اکمل ایک قومی ہیرو ہے، اسے جس طرح ذلیل کیا گیا اس کی مثال بھی تاریخ میں نہیں ملتی۔ عمر اکمل کا جرم ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی اور ٹریفک وارڈن کے ساتھ جلدی جانے کی ضد پر تلخی تھا۔ اس کے جرمانے موجود ہیں۔ عمر اکمل کا ایک سے زیادہ دفعات میں چالان ہو سکتا تھا، لیکن کس طرح وارڈن اکٹھے ہوئے اور کس انداز سے ایمرجنسی پولیس کو بلا کر اُسے تھانے لے جایا گیا۔ یہ سب نے دیکھا، پھر اِسی پر اکتفا نہ کیا گیا اس کے خلاف مقدمہ درج کر کے حوالات میں بند کیا گیا۔ اسے ضمانت کرانا اور کچہری میں پیش ہو کر شرمندگی اٹھانا پڑی، پھر یہ بھی ایک الگ داستان ہے کہ اس کے والد کو کس طرح ڈرایا گیا اور اس سے باقاعدہ معافی منگوائی گئی۔ کیا اس مسئلے میں خود ٹریفک چیف نے اور متعلقہ ایس پی نے دلچسپی نہیں لی اور پھر عمر ورک صاحب درمیان میں آ کر صلح کراتے اور معذرت بھی کراتے ہیں۔ اگر اس روز انصاف سے کام لیا جاتا، عمر اکمل کو اس کے کئے کی سزا ملتی اور ٹریفک وارڈن کو عمر پر حملے کے الزام کا سامنا کرنا پڑتا تو شاید یہ دوسرے ملازمین کو خبردار کرنے والی بات ہوتی، لیکن اس کی ہمت افزائی کی گئی اور اِسی وارڈن نے تیسرے ہی دن مال روڈ پر ایک اور شہری کی دھنائی کر دی اور اب اسد والے معاملے میں چاروں میں ایک وہ ہے۔ ”اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں“۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ جس روز اسد کے ساتھ یہ زیادتی ہوئی، اُسی روز چند قدم پر نئے ماڈل اچھرہ سیکٹر (ٹریفک) کا افتتاح کیا گیا۔ جہاں سی سی پی او اور سی ٹی او موجود تھے۔ شاید ان نوجوان وارڈن حضرات نے اپنے ان افسروں کو سلامی دی کہ صحافی ہے تو کیا ہوا، بہت بنتے ہیں۔ ذرا ان کو بھی ٹھیک کر ہی لیں۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ شہری بالکل پارسا ہیں ہم تصدیق کرتے اور کسی جھجک کے بغیر کہتے ہیں کہ ٹریفک کی روانی اور حادثات میں یہ شہری خود ملوث ہوتے ہیں اور ٹریفک قواعد کی پابندی کا رجحان بہت کم ہے، لیکن اس کا مطلب یہ بالکل نہیں کہ آپ ان شہریوں کو زدو کوب کریں۔ آخر یہ وہی شہری ہیں جو موٹروے پر نہ صرف اپنا جرم تسلیم کر لیتے ہیں، بلکہ کسی عذر کے بغیر چالان بھی کروا لیتے ہیں۔ یہ صرف اس لئے کہ موٹروے پولیس نے عوام کو عادی بنا لیا ہے۔ ہمارے شہر میں شہریوں کو اصول اور قواعد و ضوابط پر عمل کرنے کی کوئی مہم نہیں اور نہ ہی ٹریفک وارڈن ٹریفک کی روانی کو درست رکھنے کے لئے محنت کرتے ہیں پھر حالات ٹھیک ہوں تو کیسے؟

اسد پر تشدد کے خلاف صحافتی تنظیموں نے سخت احتجاج کیا اور تحریک کی بھی دھمکی دی ہے۔ حمزہ شہباز نے مہربانی سے عیادت کی اور بقول ان کے کارروائی ہو گی۔ تاہم ہمارا تجربہ یہ ہے کہ ایسے کئی مواقع آئے جب صحافیوں اور پولیس کے درمیان معاملات خراب کئے گئے اور ذمہ دار پولیس اہلکار ہی تھے۔ ماضی میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ذمہ دار عبرت کا نشان بھی بنیں۔ اب یہ صحافتی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے وقار کو عزیز رکھیں اور جو قدم اٹھایا ہے اس پر ثابت قدم بھی رہیں، کسی ایک معاملے میں تو کوئی مثال بن جائے۔ ٭

مزید :

کالم -