استنبول کانفرنس کا پیغام :کشمیریو! ہم تمہارے ساتھ ہیں (2)

استنبول کانفرنس کا پیغام :کشمیریو! ہم تمہارے ساتھ ہیں (2)
استنبول کانفرنس کا پیغام :کشمیریو! ہم تمہارے ساتھ ہیں (2)
کیپشن: pic

  

ایک اور نہایت اہم ملاقات وزیر اعظم ترکی کے دست راست اور پارٹی کے نائب صدر ڈاکٹر نعمان کرتمولش (Kurtumolish) سے ہوئی جوپارٹی پالیسی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور پاکستان سے بہت محبت رکھتے ہیں اور آئندہ صدارتی انتخابات میں طیب اردگان کے صدر منتخب ہونے کی صورت میں یہ ترکی کے متوقع وزیر اعظم بھی بن سکتے ہیں ۔ انہوں نے اپنی پارٹی اور حکومت کی طرف سے بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ قبل ازیں بھی ترکی نے ہمیشہ مسئلہ کشمیرکو امت مسلمہ اور انسانیت کا مسئلہ سمجھتے ہوئے ہر فورم پر ساتھ دیا ہے ۔ اب بھی ہم آپ کے شانہ بشانہ ہیں البتہ بدلتی ہوئی عالمی صورت حال میں ایک ایسی حکمت عملی تشکیل دینے کی ضرورت ہے ،جس کے نتیجے میں کشمیری ظلم سے نجات اور اپنا حق حاصل کر سکیں۔ حکمران پارٹی کے ایک اور اہم رہنما انجینئر برہان کایا ترک جو پاک ترک پارلیمان فرینڈ شپ گروپ کے چیئرمین ہیں ،وہ دوران تعلیم پاکستان میں ہی مقیم رہے ہیں، سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے پارلیمنٹ ہاﺅس میں لنچ کا اہتمام کیا جس کے دوران میں دیگر ممبران پارلیمنٹ بالخصوص حزب اختلاف کے ارکان سے بھی ملاقات کا موقع ملا ۔ سب ممبران نے بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔برہان وزیر اعظم اردگان کے انتہائی قابل اعتماد ساتھی ہیں اور پاکستان اور جنوبی ایشیا کے امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں ۔ انہیں تازہ ترین صورت حال سے آگاہی بھی دی اور تجویز بھی کہ پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لایا جائے ۔ نیز O.I.Cاور اقوام متحدہ جیسے اداروں میں ترکی کشمیر رابطہ گروپ کے ممبر کی حیثیت سے متحرک کردار ادا کرے ،جس پر انہوں نے بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی ،البتہ یہ کہا کہ ترکی حکومت پاکستان کی صوابدید پر ہے ۔ پاکستان جو کردار ضرورت محسوس کرے حکومت ہمیں متوجہ کرے ہم وہ کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں ۔

مسلم دنیا اور عالم انسانیت کو درپیش مسائل کے حوالے سے کانفرنسوں اور سیمینارز کا استنبول مرکز بنتا جا رہا ہے اور اس کی N.G.Osاس میں بڑا متحرک کردار ادا کر رہی ہیں یہی وجہ ہے کہ او ۔آئی ۔ سی ممالک سے وابستہ این ۔جی ۔اوز کا سیکرٹریٹ بھی استنبول میں ہے جس کے سربراہ ڈاکٹر علی کرد ایک درد مند مسلمان ہیں ۔ ان سے ان کے ہیڈ کوارٹر میں ملاقات ہوئی اور کشمیر کی صورت حال سے آگاہی کے ساتھ انہیں تجویز پیش کی کہ وہ اپنے ادارے کے زیراہتمام کشمیر پر ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کریں جس کا انہوںنے وعدہ کیا ۔ توقع ہے کہ یہ کانفرنس ترکی کے صدارتی انتخابات کے بعد منعقد ہو سکے گی ۔ دیگر این ۔جی ۔اوز کو بھی ہم نے ملاقاتوں میں تجویز پیش کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر کا دورہ کریں اور خود وہاں انسانی حقوق کی پامالی کا مشاہدہ کریں ۔ سب ہی نے وعدہ کیا کہ وہ اس میں پیش رفت کریں گے ۔ دورے کے دوران میں ترک الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر بھرپور انٹرویوز ہوئے ۔

ٹی آر ٹی ترک ریڈیو ، ٹیلی ویژن کے نام سے حکومت کے زیر اہتمام ایک بڑا ادارہ ہے جس کی پچیس زبانوں میں نشریات ہوتی ہیں۔ اردو میں بھی ٹی وی اور ریڈیو نشریات نشر کی جاتی ہیں ۔ اس کے اردو سیکشن کے سربراہ ڈاکٹر فرقان حمیدنے تفصیلی انٹرویو کیا اور ہیڈ کوارٹر بالخصوص اپنے سیکشن کا دورہ کرایا ۔ اپنے دیگر احباب سے ملاقات کا موقع فراہم کیا۔ ڈاکٹر فرقان حمید ایک باخبر صحافی ہیں ۔یونیورسٹی میں استاد بھی ہیں ۔ ترکی کے حالات پر ان کی گہری نظر ہے ۔ ان کے کالم پاکستان کے ایک قومی روزنامہ میں چھپتے رہتے ہیں ۔ پاکستان اور کشمیر کے حوالے سے بہت فکر مند بھی ہیں اور مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کی بھر پور کوشش بھی کررہے ہیں ۔ ٹی۔آر۔ ٹی کے عربی سیکشن کے سربراہ ڈاکٹر محمود اوغلو بھی اسلامی یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں ہمارے دیرینہ دوست ہیں ۔ ان سے بھی ان کے ہیڈ کوارٹر میں تفصیلی ملاقات ہوئی ۔ وہ اپنا ہفتہ وار کالم بھی لکھتے ہیں، جس میں کشمیر کی صورت حال اور بھارتی عزائم بے نقاب کرتے رہتے ہیں ۔

 انہوںنے میڈیا کے اہم افراد سے ملاقاتوں میں بھر پور تعاون کیا ۔اس طرح الجزیرہ ٹی وی اور ترکی کے ایک معروف ٹی وی چینل 5پر بھی تفصیلی انٹرویوز ہوئے ۔ ترک نیوز ایجنسی اناطولہ کے علاوہ اہم بڑے اخبارات نے تفصیلی انٹرویوز شائع کئے۔ انقرہ میں عبدالحمید چوہدری بھی ٹی ۔آر ۔ٹی سے وابستہ ہیں ۔ وہ ایک طویل عرصہ امریکہ میں رہے۔ زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہے ۔ انقرہ کے صحافی حلقوں میں ایک قابل احترام نام ہے۔انہوں نے بھی اہم ملاقاتوں کا اہتمام کیا ۔ ترکی میںیوں تو ہر ترکی کاردلش( بھائی) ہے ۔لیکن پروفیسر ڈاکٹر اویا خانم اور ڈاکٹر مغیث الدین کی جوڑی ہمارے لئے بے مثال سفیر ہیں ۔ امریکہ میں تعلیم کے دوران میں ڈاکٹر مغیث الدین اور ڈاکٹر اویا خانم رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے اور پھر امریکہ کے بعد ڈاکٹر مغیث ترکی ہی کے ہو کر رہ گئے اور خود ایسے ترک بنے کہ ڈاکٹر اویا خانم ترکی سے بڑھ کر پاکستانی نظر آنے لگیں۔

ڈاکٹر صاحب خوداب سلسلہ تعلم سے ریٹائر ہیں، لیکن ڈاکٹر اویا خانم اب بھی ایک یونیورسٹی میں بین الاقوامی امور کی سربراہ ہیں وہ ڈاکٹر نجم الدین اربکان کے ساتھ ممبر پارلیمنٹ بھی رہیں اور سعادت پارٹی کے بین الاقوامی امور کے ماہرین میں شمار کی جاتی ہیں ۔ان سے کانفرنس کے دوران بھر پور ملاقات رہی ۔ ڈاکٹر اویا خانم کا کانفرنس میں خطاب بھی بڑا فکر انگیز تھا۔ انہوں نے ہمیں پابند کیا کہ واپس جانے سے پہلے ہمارے ساتھ کھانا ضرور کھائیں ۔ انہوں نے اپنے گھر پر تکلف عشائیہ کا اہتمام کیا ۔ ڈاکٹر اویا خانم کشمیر پر ترکی زبان میں ایک کتاب لکھنے کے لئے بھی تیار ہوئیں جس کے لئے انہوں نے حوالہ جات کے لئے کتب کا تقاضا کیا ۔ انشاءاﷲ جو انہیں ارسال کی جائیں گی ۔

 دورے کے آخر میں پاکستانی سفیر جناب ہارون شوکت سے سفارت خانے میں ملاقات ہوئی ۔ گزشتہ دورہ میں بھی ان سے بڑی مفید ملاقات رہی تھی ۔ پاکستان کے سفیر ترکی زبان پر بھر پور مہارت رکھتے ہیں ۔ وہاں کے حالات پر ان کی گہری نظر ہے ۔ دو طرفہ تعلقات ،باہم تجارت اور تعلیم کے شعبے میں ترک جامعات سے استفادہ کے لئے انہوں نے اہم اقدامات کئے ہیں ۔ وہ بھی ذرائع ابلاغ میں ہمارے دورہ کا مشاہدہ کرتے رہے اور اسے بہت مفید قرار دیا اور تجویز دی کہ اس نوعیت کے دورے، جس میں میڈیا اور عوامی سطح پر روابط قائم ہوں ،سرکاری اداروں سے زیادہ مفید ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کشمیر رابطہ کونسل کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا اور کہا اس پلیٹ فارم سے ،جس قدر کشمیری اپنا مقدمہ بین الاقوامی رائے عامہ کے سامنے پیش کر سکیں۔ آج کے معروضی حالات میں اس کے بہت اثرات مرتب ہوں گے ۔ دورہ بالخصوص انقرہ اور استنبول میں اہم ملاقاتوں میں ڈاکٹر ندیم چوہدری جو گزشتہ تیس برس سے تعلیم کی تکمیل کے بعد ترکی میں مقیم ہیں اور پاکستان اور کشمیر کے ہمہ وقتی سفیر ہیں نے اہم کردار ادا کیا ۔ وہ انقرہ تک اپنی باقاعدہ مصروفیات کو موخر کر کے اپنی کار میں طویل ترین سفر کر کے ہمراہ لے گئے ۔ واپسی تک ساتھ رہے اﷲ تعالیٰ انہیں اور دیگر احباب کو اجر دے ۔ آمین۔  (ختم شد)

مزید :

کالم -