پاکستانی چیک پوسٹ پر سرحد پار سے دہشت گرد حملہ

پاکستانی چیک پوسٹ پر سرحد پار سے دہشت گرد حملہ

  

باجوڑ ایجنسی میں پاکستان فورسز کی چوکی پر افغان شدت پسندوں کے حملے میں کیپٹن سمیت تین سیکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے، رات تقریباً ساڑھے12بجے افغانستان کے صوبے کُنڑ سے شدت پسندوں نے تحصیل ماموند کے سرحدی علاقے غاخی پاس میں سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس میں کیپٹن سمیت تین اہلکار شہید، جبکہ ایک اہلکار اور ایک سویلین زخمی ہو گیا۔ واقع کے بعد سیکیوٹی فورسز نے شدت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر بھرپور جوابی کارروائی کی، جس کے بعد وہ فرار ہو گئے۔ پاکستانی طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اس حملے پر پاکستان نے افغانستان سے شدید احتجاج کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرے۔

یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ افغانستان سے شدت پسندوں نے پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر ایسا حملہ کیا ہو، پاکستانی طالبان کی طرف سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے پریہ تاثر پختہ ہو جاتا ہے کہ جو شدت پسند شمالی وزیرستان میں کارروائی شروع ہونے کے بعد کسی نہ کسی طرح فرار ہو کر افغانستان چلے گئے ہیں انہوں نے وہاں ٹھکانے بنا کر کارروائیاں شروع کر دی ہیں، اس لئے مستقبل میں ایسے واقعات سے باخبر اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ ایسی کارروائیاں آئندہ بھی ہوں۔ شمالی وزیرستان میں اگرچہ ان کی پناہ گاہیں تباہ کی جا رہی ہیں اور اسلحے کے ذخائر کو بھی ملیا میٹ کیا جا رہا ہے، لیکن جو لوگ فرار ہو کر افغانستان چلے گئے ہیں اُن کے ارادوں پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

افغانستان میں حالات کی خرابی کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑتا ہے۔ روسی جارحیت کے بعد سے پاکستان مسلسل افغانستان سے آنے والے مہاجرین کا بوجھ برداشت کر رہا ہے۔ 30،35 سال پہلے جو مہاجرین پاکستان آ گئے تھے اُن میں سے بہت کم واپس گئے ہیں، کبھی کبھار جب انہیں افغانستان بھیجا جاتا ہے، تو وہ پھر گھوم پھر کر واپس آ جاتے ہیں اس لحاظ سے پاکستان کی معیشت اور معاشرہ مسلسل دباﺅ کا شکار چلا آ رہا ہے۔ یہ افغان خیبر پختونخوا میں رچ بس گئے ہیں۔ وہاں مختلف نوعیت کے کاروبار کرتے ہیں، پشاور میں ٹرانسپورٹ کے کاروبار پر تو اُن کی اجارہ داری ہے، جو لوگ ان میں سے قدرے خوشحال ہیں انہوں نے اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں بھی کاروبار شروع کر رکھے ہیں اور یہ وہاں کے پوش علاقوں میں رہائش رکھتے ہیں۔ افغانستان سے جو لوگ اوائل عمری میں پاکستان آئے انہوں نے یہاں کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی اور بعض واپس جا کر افغان معاشرے اور سیاست کا حصہ بھی بن گئے اور کاروبارِ حکومت میں بھی شریک ہوئے، لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ افغانستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اس ضمن میں پاکستان کے مثبت کردار کو تسلیم کرنے کے لئے آمادہ نہیں اور افغان میڈیا میں پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ افغان صدر حامد کرزئی بھی پاکستان پر الزام تراشی کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔

پاکستان اس سے پہلے بھی متعدد بار افغان حکام پر واضح کر چکا ہے کہ سرحد بار سے پاکستان پر حملے روکے جائیں ، حکام کے دوروں کے دوران بھی اس معاملے پر بات چیت ہوتی رہتی ہے، لیکن یہ سلسلہ رک نہیںپایا۔ شمالی وزیرستان میں کارروائی کے بعد اس سلسلے میں خدشات بڑھ گئے ہیں اور باجوڑ چیک پوسٹ پر حملے سے لگتا ہے کہ اگر افغانستان نے اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں، تو یہ سلسلہ نہیں رُکے گا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے پہلے بھی افغانستان کو اپنی سرزمین سے حملے روکنے کے لئے کہا تھا اور اب پھر اس کا اعادہ کیا گیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل سرحد ایسی ہے کہ یہاں سے پاکستان اور افغان باشندے بلا روک ٹوک آتے جاتے رہتے ہیں۔ سرحد کے دونوں جانب ایک ہی قبیلے کے لوگ آباد ہیں، پھر یہ ہے کہ مشکل اور دشوار گزار علاقے میں چپے چپے پر سرحدی چوکیاں بھی اگرچہ قائم نہیں کی جا سکتیں، لیکن اب غیر معمولی حالت میں غیر معمولی حفاظتی انتظامات کرنا ضروری ہے۔ افغانستان کے ماضی کے کردار کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس پر زیادہ انحصار نہیں کیا جا سکتا، پاکستان کو خود ہی ایسے اقدامات کرنا ہوں گے کہ مستقبل میں باجوڑ ایجنسی جیسے حملوں کی طرح کے واقعات نہ ہوں، جو لوگ شمالی وزیرستان سے فرار ہو کر افغانستان جانے میں کامیاب ہو گئے ہیں ان سے بھی کسی خیر کی توقع نہیں، انہیں جب بھی موقع ملا وہ نہ صرف سرحدی علاقوں میں، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر بھی کارروائی کر سکتے ہیں۔ فی الحال وہ سرحد سے آگے کے علاقے میں کارروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ، اس لئے انہوں نے سرحدی چوکی پر ہی حملہ کیا ہے۔

چند ماہ بعد امریکی اور اتحادی افواج افغانستان سے واپس جا رہی ہیں اور افغان سیکیورٹی کے سارے معاملات افغان نیشنل آرمی اور افغان نیشنل پولیس کے سپرد ہو جائیں گے، لیکن بعض حلقے ان دونوں اداروں کی صلاحیتوں کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ عام خیال یہ ہے کہ جب غیر ملکی افواج واپس چلی جائیں گی، تو پھر افغان طالبان کے حملوں کو روکنا افغان نیشنل آرمی کے بس میں نہیں ہو گا۔ حال ہی میں افغانستان میں صدارتی انتخابات ہوئے ہیں، رن آف الیکشن میں پہلی گنتی میں ہارنے والے امیدوار عبداللہ عبداللہ نے متوازی حکومت بنانے کی دھمکی دی ہے۔ اگرچہ امریکی وزیر خارجہ کی آمد کے بعد وہ دوبارہ گنتی پر رضا مند ہو گئے ہیں، لیکن کچھ بعید نہیں کہ وہ دوبارہ گنتی میں بھی ہار جائیں تو ان کا ردعمل ایسا ہی ہو ۔ ایسے میں افغان طالبان صورت حال کا فائدہ اٹھانے کی پوری کوشش کریں گے اور عین ممکن ہے کہ بہت سے علاقوں میں پہلے کی طرح اُن کا کنٹرول قائم ہو جائے، ایسے میں پاکستان کو صورت حال پر کڑی نگاہ رکھنا پڑے گی کہ دوبارہ گنتی کے بعد حالات کیا رُخ اختیار کرتے ہیں۔

مزید :

اداریہ -