مکہ مکرمہ میں مسجدالاجابہ، اوائل مسلمانوں کی مظلومیت کی یادگار

مکہ مکرمہ میں مسجدالاجابہ، اوائل مسلمانوں کی مظلومیت کی یادگار

  

 مکہ مکرمہ (این این آئی)ظہور اسلام کے بعد سر زمین حجاز کے ابدی شہرت اور تقدس پانے والے مقامات میں کچھ جگہیں مسلمانوں کی مظلومیت کی عکاسی کرتے ہوئے زندہ و جاوید ہوئیں، ان کا نام ذہن میں آتے ہی مسلمانوں کی زبوں حالی کے واقعات کا ایک سلسلہ تازہ ہو جاتا ہے۔شعب ابی طالب کی مسجد الاجابہ ھی انہی تاریخی مقامات میں سے ایک ہے جو آغاز اسلام میں کفار قریش کے ظلم وستم کا شکار مسلمانوں کی مظلومیت کی چشم دید گواہ ہے۔کفار قریش نے نبی اکرم صلی علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کا معاشی بائیکاٹ کیا تو حضور مٹھی بھر جانثاران اسلام کو ساتھ لیے مکہ معظمہ سے کچھ فاصلے پر شعب ابی طالب کی گھاٹی میں چلے گئے۔ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور ھجرت مدینہ کے درمیان مسلمانوں پر جو سخت ترین ایام گذرے، شعب ابی طالب کی دو سالہ کی کٹھن زندگی تلخ آزمائش سمجھی جاتی تھی۔عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ھجرت مدینہ کے ساتویں برس اس وادی بے آب و گیاہ میں مسجد تعمیر کی گئی۔ بعد ازاں اسے مسجدالاجابہ کا نام دیا گیا ہے۔ تاریخ اس کے نام کی وجہ تسمیہ کے بارے میں خاموش ہے۔ فتح مکہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے س مسجد میں نماز ادا کی۔

زمانے کی بھول بھلیوں میں کھو جانے کے باوجود اہل مکہ نے اسے اپنے دل ودماغ میں تازہ رکھا۔مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ مسجد کی تعمیر و توسیع بھی ہوتی رہی۔سعودی محکمہ آثارقدیمہ نے بتایاکہ مسجد الاجابہ کی جدید خطوط پر حالیہ تعمیر آل سعود حکومت کے دور میں ہوئی۔ چودہ سو سال میں یہ مسجد اپنی ھئیت اور شکل تبدیل کرتی رہی لیکن یہ آج بھی دور اول کے مسلمانوں کی مظلومیت اور بعد کے ادوار کی فاتحانہ شان وشوکت کی کہانی سناتی نظر آ رہی ہے۔

مزید :

عالمی منظر -