غزہ میں زندگی جینا مشکل ہے ¾فلسطینیوں کی گفتگو

غزہ میں زندگی جینا مشکل ہے ¾فلسطینیوں کی گفتگو

  

غزہ (این این آئی) فلسطینیوں نے کہا ہے کہ غزہ میں زندگی جینا مشکل ہے ¾اسرائیل صرف عام شہریوں کو شہید کررہا ہے ¾ہم کوئی چیز در آمد نہیں کرسکتے ¾ صرف آٹھ گھنٹے بجلی ملتی ہے ¾ صنعت کاری تباہ ہوگئی ہے ¾ زراعت بہت کم ہو چکی ہے ¾ ہم اس طرح زندہ نہیں رہ سکتے ¾ ہمیں وقار کے ساتھ جینے کا حق ہونا چاہیے ¾دنیا ہمارے لئے کچھ کرے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق وسطی غزہ سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ الھیثم بیسائسو نے کہاکہ راکٹ حملوں کے بعد سڑکیں اب خالی ہیں یہ پانچ برس میں تیسری لڑائی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس مرتبہ اسرائیل کہ پاس کوئی واضح مقصد بھی نہیں ہے۔ وہ صرف عام شہریوں کو مار رہے ہیں اور گھروں کو نشانہ بن رہے ہیں۔ پہلی جنگ میں انھوں نے واضح طور پر عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا جبکہ دوسری جنگ میں انھوں نے اسلحے کے ذخائر کو ہدف بنایا۔انہوںنے کہاکہ مغربی میڈیا اسے تین اسرائیلی طالب علموں کے قتل کا بدلہ قرار دے رہا ہے تاہم اس واقعے کی ذمہ داری کسی فلسطینی گروہ نے قبول نہیں کی۔

عموماً اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اسے تسلیم کرتا ہے۔ ہم نہیں جانتے ہیں در حقیقت کیا ہوا تھا۔ تاہم یہ سب ایک اجتماعی سزا جیسا ہے میں نے یہاں مزاحمت کرنے والوں سے سنا ہے کہ اسرائیل اور غزہ ایک دوسرے کو ک±چلنا چاہتے ہیں حالانکہ ہم کمزور فریق ہیں یہاں رہنا خوفناک ہے۔ ہم محاصرے میں ہیں۔ ہم یہاں کوئی چیز درآمد نہیں کر سکتے۔ ہمیں صرف آٹھ گھنٹوں تک بجلی ملتی ہے جس کا مطلب ہے کہ ہم کوئی چیز تعمیر نہیں کر سکتے۔ میں پیشے سے سوّل انجینئر ہوں تاہم یہاں کوئی تعمیراتی مواد نہیں صنعت کاری تباہ ہو گئی ہے ¾ زراعت بہت کم ہو چکی ہے۔ ہم اس طرح زندہ نہیں رہ سکتے۔انہوںنے کہاکہ ہم پریشان ہیں۔ پہلی بار مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ یہ زندگی جینے کے قابل نہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں وقار کے ساتھ جینے کا حق ہونا چاہیے دنیا کو ہماری مدد کےلئے کچھ کرنا ہوگا۔ امن عمل بہت مشکل ہے اور 20 برس سے بنا کسی حل کے جاری ہے۔ کچھ ہے جو ان کے درمیان حائل ہے، اگر مغرب چاہے تو کوئی راہ نکل سکتی ہے۔ایک فلسطینی شیمون بن شیلامی زلمان نے کہاکہ یہاں پہلا حملہ پیر کو دس بجے ہوا میں نے خلیجی جنگ دیکھی اور 1991 میں ہونے والے حملے دیکھے تاہم میرے بچوں، 13 برس کی بیٹی اور گیارہ برس کے بیٹے کےلئے ایسی صورتحال میں رہنا مشکل ہے۔انھوں نے یہاں رات سونے سے انکار کر دیا۔ ہمارے پاس فضائی حملے سے بچنے کے لیے کوئی ڈھال نہیں یا کوئی محفوظ کمرہ بھی نہیں وہ ہمسائے میں اپنے دوستوں کے ساتھ سوتے ہیں جن کے گھر میں محفوظ کمرہ ہے۔ محفوظ نہ ہونے کے سبب میری شادی شدہ بیٹی نے یہاں آنے سے منع کر دیا ہے، اس کا ایک بچہ بھی ہے۔ہم رات کو جوتے اتار کر سونے سے پہلے سوچتے ہیں کہ کہیں آدھی رات کو اٹھ کر بھاگنا نہ پڑ جائے سر پر لٹکتی خطرے کی تلوار سے ساتھ ہم رات کو سو نہیں سکتے۔میں طبی سامان برآمد کرنے والے فیکٹری میں کام کرتا ہوں وہاں فضائی حملے کی صورت میں ردِعمل کی مشق کروائی گئی ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ کسی بھی حملے کی آواز سن کر سیڑھیوں کے نیچے پناہ لیں تاہم میرے گھر میں سیڑھیوں کے پاس ایک بڑی شیشے کی کھڑکی ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ وہاں ایسا کرنا عقلمندی ہوگی۔انہوںنے کہاکہ میں جانتا ہوں کہ ہماری فوج پیشہ ور ہے اور میں شکر گزار ہوں کہ وہ ہماری حفاظت کر رہی ہے تاہم ہم ان پر ہر چیز کے لیے انحصار نہیں کر سکتے۔ مجھے ان پر مکمل اعتماد نہیں ہے اور نہ ان کے فیصلوں پر۔مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا جب شہری زخمی ہوتے ہیں خواہ وہ عیسائی ہوں، یہودی ہوں یا مسلمان۔ مجھے ان فلسطینیوں سے ہمدردی ہے جن کے بچے یہ سب برداشت کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے مجھے اس کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔میں سمجھتا ہوں کہ ہر عام آدمی اس مسئلے کا حل چاہتا ہے لیکن شدت پسند لوگ اس کا پر امن حل نہیں چاہتے۔23 سالہ دانیا نے بتایا کہ غزہ میں زیادہ تر عمارتیں عام شہریوں کے گھر ہیں۔ ہم سچ میں سیز فائر چاہتے ہیں تاہم دونوں جانب سے ہونی چاہیے میڈیا دکھا رہا ہے کہ ودنوں جانب سے حملے ہو رہے ہیں تاہم یہ نہیں دکھا رہے کہ اسرائیل کی جانب سے کتنے بڑے حملے ہو رہے ہیں اور اس کی فوج کتنے شدید حملے کرنے کی اہل ہے۔ جب وہ حملہ کرتے ہیں تو ہمارا بہت نقصان ہوتا ہے۔2009 میں ہونے والی لڑائی بدترین تھی تاہم کل بہت عرصے کے بعد دوبارہ ایسا لگا کے یہاں رہنا کتنا مشکل ہے۔اسرائیلیوں نے ہماری ہمسائے میں ریکارڈیڈ پیغامات چھوڑے کہ وہ حملہ کرنے والے ہیں لہٰذا گھروں سے نکل جائیں۔ ہم خوفزدہ ہو گئے مگر ہمیں بتایا گیا کہ وہ ایسا مسلسل کر رہے ہیں اس لیے ہم گھر پر ہی رہے۔یہاں غزہ میں ہمیں اپنے گھروں کے دفاع کا حق حاصل نہیں اور اسرائیل اپنے دفاع کے لیے تمام حربے استعمال کر رہا ہے۔

مزید :

عالمی منظر -