دستوری راستے میں خلل پڑا تو ملک خطرات سے دو چار ہو سکتا ہے مجیب الرحٰمن شامی

دستوری راستے میں خلل پڑا تو ملک خطرات سے دو چار ہو سکتا ہے مجیب الرحٰمن شامی ...

  

                   واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) پاکستان کے موجودہ داخلی حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ ملکی دستور کو نقصان نہ پہنچے اور اگر کسی کارروائی کے نتیجے میں دستوری راستے میں خلل پڑا تو ملک شدید خطرات سے دو چار ہوسکتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار روز نامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی نے پاکستانی امریکنز کے تھنک ٹینک ”واشنگٹن پالیسی انیلی سز گروپ“ کی خصوصی نشست سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ افطار ڈنر کی یہ تقریب سپرنگ فیلڈ کی ایک ریستو رنٹ میں منعقد ہوئی جس کی صدارت مقامی اخبار”پاکستان پوسٹ“ کے واشنگٹن بیورو چیف کوثر جاوید نے کی۔ روز نامہ ”پاکستان“ کے ایڈیٹر عمر مجیب شامی بھی اس مجلس میں خصوصی مقرر کی حیثیت سے شریک تھے۔ مجیب الرحمان شامی نے تسلیم کیا کہ پاکستانی سوسائٹی میں اس سلسلے میں بجا طور پر تشویش پائی جاتی ہے لیکن پاکستان میں اس وقت فضا ایسی ہے کہ فوج یکسوئی سے ٹیک اوور کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس وقت ملک کی دو بڑی جماعتیں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی اس بات پر متفق ہیں کہ دستور سے ماورا کوئی اقدام نہیں ہونا چاہئے اور وہ ایسی کسی بھی کارروائی کے خلاف متحد ہو کر کام کریں گے ۔ انہوں نے بتایا حتی کہ تحریک انصاف کے قائد عمران خان بھی متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ وہ کسی غیر جمہوری طریقے سے تبدیلی لانے کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان تصادم کو ایسا رخ اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ جسے سنبھالانہ جاسکے۔پاکستان کے انتخابی نظام کا ذکر کرتے ہوئے مجیب الرحمان شامی نے کچھ ناقدین کی اس رائے سے اتفاق کیا کہ اس میں بہت سے نقائص ہوسکتے ہیں۔ لیکن تمام سیاست دان مل کر اس نظام میں ضروری اصلاحات لے کر آسکتے ہیں۔اور مل بیٹھ کراسے بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا انتخابی کلچر ایسا بن چکا ہے جس میں جعلی ووٹ بھگتا نے کا عام رواج ہے اور سبھی امیدوار تھوڑا بہت یہ کام ضرور کرتے ہیں اور اسے زیادہ برا نہیں سمجھا جاتا۔ جس طرح امتحانات میں تھوڑی بہت نقل کرنے کے عمل کو بھی قبول کرلیا گیا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آئندہ انتخابات کو زیادہ شفاف اور منصفانہ بنانے اور اسے دھاندلی سے پاک کرنے کے لئے اس نظام میں موجود تمام سوراخون کو بند کردیا جائے۔عمران خان کے چند حلقوں میں ووٹنگ کی دوبارہ چانچ پڑتال کرنے کے مطالبے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام میں اس قسم کی شکایات کا ازالہ کرنے کے لئے ایک طریق کار موجود ہے ۔ جس کے مطابق تمام امیدوار انتخابی ٹربیونلز کو رجوع کرسکتے ہیں۔ ٹربیونلز کے بعد عدالتون کا دروازہ کھٹکٹانے کا مرحلہ آتا ہے۔ اور سپریم کورٹ کے سابق سربراہ نے بھی یہی طریقہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔روز نامہ ”پاکستان“ کے چیف ایڈیٹر نے پاکستان کے حالات کا عمومی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کم از کم یہ پہلے سے برے نہیں ہیں اور ان میں تھوڑی بہت بہتری ضرور آئی ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہماری خارجہ پالیسی اب بہتر ٹریک پر ہے اور معاشی حالات میں بھی خاصہ ٹھہراﺅ آیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ تعلیم کے شعبے میں اتنا کام نہیں ہوا جتنا ہونا چاہئے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بہت بھرپور کام ہوا لیکن افسوس ان کے جانے کے بعد اس شعبے میں ہونے والی ترقی میں تعطل پیدا ہوگیا۔مجیب الرحمان شامی نے شمالی وزیرستان میں ہونے والے فوجی آپریشن کی حمایت کرتے ہوئے بتایا کہ امید ہے کہ اس کے نتیجے میں وہاں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اس آپریشن کے نتیجے میں ملک میں دہشت گردوں کی فضاءختم ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اس آپریشن کے بعد بلوچستان میں قوم پرستوں یا علیحدگی پسندوں کی کارروائیوں میں نمایاں کمی آئی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ شمالی وزیرستان میں موجود دہشت گردوں کے ڈانڈے بلوچستان کی تحزیبی کارروائیون سے بھی ملتے تھے۔

مزید :

صفحہ آخر -