رمضان بازاروں میں ناپ تول میں کمی معمول، انتظامیہ خاموش

رمضان بازاروں میں ناپ تول میں کمی معمول، انتظامیہ خاموش

  

لاہور (لیاقت کھرل) رمضان بازاروں میں اوزان و پیمائش کے پیمانوں میں بڑے پڑمانے پر گڑ بڑ، پھلوں، سبزیوں، چکن اور گوشت کے سٹالوں پر سب سے زیادہ لوٹ مار ۔ محکمہ لیبر کے انسپکٹرز غائب، رمضان بازار کے انتظامی افسروں نے شکایت کرنے پر شہریوں سے بدتمیزی کا سلسلہ شروع کر دیا، تو تکرار اور لڑائی جھگڑے کے واقعات بڑھ گئے۔ ’’پاکستان سروے‘‘ میں شہر بھر میں قائم25رمضان بازاروں میں اوزان و پیمائش کے پیمانوں میں گڑ بڑ کر کے لوٹ مار کی جا رہی ہے، جس کے بارے میں شہریوں نے شکایات کے انبار لگا دیئے ہیں اور اس میں محکمہ لیبر کے انسپکٹر کے غائب ہونے پر رمضان بازاروں کے انتظامی افسروں نے بھی شہریوں کی یکایات سننے سے صاف انکار کر دیا اور شہریوں کے بار بار شکایت لے کر جانے پر الٹا بدتمیزی اور مار کٹائی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس کے باعث رمضان بازاروں میں تو تکرار اور لڑائی جھگڑوہں نے طول پکڑ لیا ہے۔ اسی طرح گنجان علاقوں میں قائم رمضان بازاروں میں بھی ناپ تول میں کمی کی شکایات زیادہ ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ’’پاکستان سروے‘‘ میں شہریوں صغیر شاہ، اسد شاہ، عمر نواز، اسد نواز، حق نواز، علم دین، شاہ عالم، جعفر علی، مشتاق احمد اور دیگر نے کہا کہ چکن، چھوٹا گوشت اور بیف سمیت سبزیوں اور پھلوں کا کم وزن کیا جا رہا ہے اور اوزان و پیمائش کے پیمانوں میں کمی کر کے لوٹ مار کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے ڈی او لیبر چودھری نعیم نے بتایا کہ رمضان بازاروں میں ناپ تول میں کمی و بیشی پر مقدمات درج کروانے اور چالان کرنے پر ترجیح نہیں دی جا رہی، چیکنگ کے نظام کو سخت کرنے کا حکم دے رکھا ہے تاہم جن رمضان بازاروں میں انسپکٹر غائب پایا گیا اسے معطل کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر300سے400دکانداروں، سٹال ہولڈرز کے ناپ تول کے پیمانے چیک کئے جاتے ہیں اس میں اوزان و پیمائش کے پیمانوں میں شکایت کرنے پر وارننگ دے کر درست کر دیا جاتا ہے تاہم بار بار شکایت کرنے پر چالان بھی کئے جاتے ہیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -