طاہر القادری بغاوت اور انقلاب کی باتیں کر کے آپریشن کا ناکام بنا رہے ہیں ،پرویز رشید

طاہر القادری بغاوت اور انقلاب کی باتیں کر کے آپریشن کا ناکام بنا رہے ہیں ...

  

لاہور(جنرل رپورٹر )وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ حکومت تو دہشتگردوں کیخلاف آپریشن کی حمایت اور اسکے لئے فوج کو بھرپور وسائل فراہم کر رہی ہے جبکہ طاہر القادری بغاوت اور انقلاب کی باتیں کر رہے ہیں پھر بتایا جائے کون آپریشن کو ناکام بنارہا ہے ،پہلے طاہر القادری کو کشف آیا تھااور انہوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن سے قبل ہی وزیر اعظم ‘ وزیر اعلیٰ اور مجھ سمیت وفاقی وزراء کو نامزد کر دیا تھا جبکہ اب شاہ محمود قریشی کو کشف آنا شروع ہو گئے ہیں ،مشرف کے معاملے میں پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کے اپنے بیانات میں تضاد ہے جبکہ اس حوالے سے امریکن رپورٹ او ر خود پرویز مشرف نے بھی تردید کر دی ہے اور جس چیز کا وجود ہی نہیں اس بحث کو ختم ہوجانا چاہیے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایک کالج کی تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن ایسی کسی چیز کا حصہ بنی ہے اور نہ آئندہ بنے گی جو پاکستان کے آئین اور قانون سے متصادم ہو ۔ یوسف رضا گیلانی کے بیان کے بعد ہمارا موقف بڑا واضح تھا اس لئے اب اس بحث کو ختم ہو جانا چاہیے ۔ یوسف رضا گیلانی کا موقف کچھ تھا جبکہ قمر زمان کائرہ‘ فرحت اللہ بابر اور جہانگیر بدر نے کچھ اور بیان دیا ۔پرویز مشرف جو اس کے فریق ہیں اور جنہیں اس کا فائدہ بھی ہو سکتا ہے خود انہوں نے اسکی تردید کر دی ہے ۔ انہوں نے اپوزیشن کی طرف سے نندی پورپار پراجیکٹ کے سامنے دھرنا دینے کے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں کہ وہ آکر دیکھیں جو منصوبہ سات سال میں نہیں لگ سکا مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اسے سات ماہ میں ممکن کر دکھایا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم میڈیا سے پیار کرتے ہیں اور طاقتوراور آزاد میڈیا ہی جمہوریت کے لئے نا گزیر ہے ۔ آئی ڈی پیز کو 65ہزار روپے فی خاندان دیا جائے گا جو پاکستان کے فی کس خاندان کی آمدنی سے تین گنا زیادہ ہے اور ہم اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بھائیوں کی مدد کریں گے ۔انہوں نے فلسطین کے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ جہاں کہیں بھی ظلم ہوا ہے پاکستان نے ایک موقف اپنایا ہے اور اس معاملے پروزیر اعظم کے موقف کے بعد فلسطین کے سفیر نے وزیر اعظم پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا ہے ۔قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرویز رشید نے کہا کہ نیشنل کالج آف آرٹس کی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ ہے ۔ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ یہاں ڈیڑھ ہزار کالج بن جاتے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کالج ہمیں کس نے دیا جن کے بارے میں ہم کہتے تھے کہ وہ ہم پر سات سمندر پار سے حکمرانی کرنے آئے ہیں اور ہم ان سے آزادی حاصل کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ آقااور ہم غلام تھے ۔ لیکن جو ہم پر حکمرانی کر رہے تھے انہیں ضرورت محسوس ہوئی کہ انسانوں کے جسم میں ایک ذہن بھی ہوتا ہے جس میں تخلیقی صلاحیتیں ہوتی ہیں اور انکو تقویت دینا معاشرے کو زیادہ خوبصورت اور پر امن بنا دیتا ہے ۔

مزید :

صفحہ اول -