روزہ نہ رکھیں،سنکیانگ میں طالب علموں کو زبردستی کھانا کھلایا جانے لگا

روزہ نہ رکھیں،سنکیانگ میں طالب علموں کو زبردستی کھانا کھلایا جانے لگا

  

بیجنگ (نیوز ڈیسک) چند روز قبل بین الاقوامی میڈیا میں رپورٹس شائع ہوئی تھیں کہ چین کے صوبے سنکیانگ (شنجیانگ) میں چینی حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین اور طالب علموں کے روزے رکھنے پر پابندی عائد کردی گئی ہیں۔ اس پر پاکستان اور ملائیشیاءمیں چینی سفیروں نے وضاحت پیش کی تھی اور ان خبروں کو بے پناہ قرار دیا تھا۔ لیکن اب بی بی سی نے ایک خبر شائع کی ہے جس کے مطابق سنکیانگ میں مقامی حکام طالب علموں کو دن کے دوران زبردستی کھانا کھانے پر مجبور کررہے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ وہ روزے نہیں رکھ رہے۔ رپورٹ کے مطابق متعدد طالب علموں نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں مجبور کیا جاتا ہے کہ دوپہر کا کھانا اساتذہ کے ساتھ کھائیں۔ اسی طرح بتایا گیا ہے کہ مقامی ہسپتال میں میڈیکل عملے سے بھی حلف نامے پر دستخط کروائے گئے کہ وہ رمضان المبارک میں روزے نہیں رکھے گیں۔ یاد رہے کہ سنکیانگ میں ایک کروڑ سے زائد مسلمان بستے ہیں اور ان کا رہن سہن اور طرز زندگی باقی چین سے بھی بے حد مختلف ہے۔ چین کا موقف ہے کہ دہشت گردوں کو اس علاقے میں پناہ ملتی ہے جس کے ذریعے وہ باقی چین میں تخریب کاری کی کارروائیاں کرتے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -