ہیر 3 بچوں کی ماں کا اندھا قتل درینہ رنجش کا شاخسانہ نکلا

ہیر 3 بچوں کی ماں کا اندھا قتل درینہ رنجش کا شاخسانہ نکلا
ہیر 3 بچوں کی ماں کا اندھا قتل درینہ رنجش کا شاخسانہ نکلا
کیپشن: ramzana bibi

  

لاہور(بلال چودھری)تھانہ ہئیر کے نواحی گاؤں آصل گرو میں اندھے قتل کے واقعہ میں تین کم عمر بچوں کی ماں رمضانہ بی بی کی ہلاکت دیرینہ رنجش کا شاخسانہ نکلی ،مقتولہ کے خاوند نے الزام لگایا ہے کہ اس کی بیوی کو گاؤں کے رہائشی منیر احمد نے جائیداد کے حوالے سے دیرینہ رنجش پر قتل کیا ہے جبکہ گزشتہ روز رمضانہ بی بی کو سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔اس موقع پر کئی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ،مقتولہ کے باپ پرمسلسل بیہوشی کے دورے پڑتے رہے۔مقدمہ میں نامزد ملزم ابھی گاؤں میں آزاد پھر رہا ہے،پولیس اس کو گرفتار کرے، لواحقین کا مطالبہ ۔تفصیلات کے مطابق ہئیر کے گاؤں آصل گرو کی رہائشی تین بچوں کی ماں رمضانہ بی بی کو ہفتہ کی صبح کو نامعلوم اشخاص نے قتل کر دیا تھا۔مقتولہ کے شوہر نے \" پاکستان\" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی بیوی اور گاؤں کے منیر احمد نامی شخص کے درمیان مکان کے لین دین کا پرانا تنازع تھا ۔جس مکان میں وہ رہتے ہیں اس کا مالک منیر احمد ہے، اسے مکان خریدنے کے لیے ہم نے تیس ہزار کی رقم ادا کی تھی اور مکان کی رجسٹری منیر نے رمضانہ بی بی کے نام کروانی تھی لیکن وہ کئی ماہ سے پس و پیش سے کام لے رہا تھا اور ہمارا آپس میں کئی بار جھگڑا بھی ہوا تھا ۔ہفتہ کی صبح کو میں کام لے سلسلے میں بھٹہ چوک گیا تھا اور رمضانہ اپنے بچوں 15سالہ فیضان علی،9سالہ ملائکہ اور 7سالہ ارسلان کے ساتھ گھر کے صحن میں سو رہی تھی کہ منیر احمد اور اس کے تین ساتھیوں نے گھر میں گھس کر اس کو چھریوں کے وار کر کے قتل کر دیا اور موقع سے فرار ہو گئے۔بچوں کے شور مچانے پر گاؤں کے افراد جمع ہو گئے اور پولیس کو اطلاع دی جس نے موقع سے شواہد اکٹھے کر کے نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے جنا ح ہسپتال کے مردہ خانہ میں بھجوا دیا جہاں سے پوسٹ مارٹم کے بعد گزشتہ روز مقتولہ کو ہئیر کے جاگر شاہ قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا۔مقتولہ کی والدہ ولایت بی بی اور والد محمد صدیق نے بتایا کہ وہ کئی پشتوں سے اس گاؤں میں رہ رہے ہیں۔ہمارا یہاں کسی سے کوئی جھگڑا نہیں ہے صرف مکان کے حوالے سے ہماری منیر احمد سے کئی بار تلخ کلامی ہوئی تھی ۔یوسی 190 کے سابق جنرل کونسلرمحمد ریاض اور گاؤں کے دیگر افراد نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے لیکن ملزم منیر احمد ابھی گاؤں میں پھر رہا ہے اور پولیس نے اسے گرفتار نہیں کیا۔پولیس کے اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔ مقدمہ کے انویسٹی گیشن انچارج کا کہنا تھا کہ پولیس نے مقدمہ نمبر 248درج کر لیا ہے جس میں منیر احمد اور تین نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے ان کی گرفتاری جلد عمل میں لائی جائے گی ۔پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد اصل حقائق واضح ہوں گے۔ 

مزید :

علاقائی -