پاکستانی خواتین کو دبئی میں جنسی غلام بنائے جانے کاانکشاف

پاکستانی خواتین کو دبئی میں جنسی غلام بنائے جانے کاانکشاف
پاکستانی خواتین کو دبئی میں جنسی غلام بنائے جانے کاانکشاف

  

لاہور (نیوز ڈیسک) وطن عزیز پاکستان میں بظاہر تو جسم فروشی کو بہت برا سمجھا جاتا ہے، سیاستدان اور پولیس معاشرے کو اس لعنت سے پاک کرنے کا ڈرامہ مسلسل کرتے رہتے ہیں لیکن حقیقت بہت دردناک اور بھیانک ہے کیونکہ اس قوم کی بے شمار بیٹیوں کو اسی قوم کے طاقتور اور بدکردار لوگوں نے نہ صرف وطن عزیز کے اندر جسم فروشی پر مجبور کررکھا ہے بلکہ اس قوم کی بیٹیاں پاکستان سے باہر بھی جنسی کاروبار کیلئے فروخت کی جارہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق صرف دبئی کو ہر ہفتے درجنوں کی تعداد میں پاکستانی لڑکیاں سپلائی کی جاتی ہیں جنہیں وہاں کے نائٹ کلبوں اور قحبہ خانوں میں درندہ صفت گاہکوں کی جنسی ہوس پوری کرنے کیلئے پیش کیاجاتا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پنجاب سے تعلق رکھے والی دو بہنوں زنیرہ اور شائستہ کی کہانی بھی ان بدقسمت لڑکیوں کی المناک زندگیوں میں سے ایک کی داستان ہے۔ یہ دونوں بہنیں ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں جنہیں گھریلو حالات سے تنگ آکر ایک امیر عورت عائشہ کے ہاں گھریلو کام شروع کرنا پڑا، بدقسمتی سے یہ عورت بھی ان لوگوں میں سے ایک ہے جو پاکستانی لڑکیوں کو دبئی سمگل کرتے ہیں۔ عائشہ نے دبئی میں اچھی ملازمت کا جھانسہ دے کر 16 سالہ زنیرہ اور اس کی بہن کی جعلی سفری دستاویزات بنوا کر انہیں دبئی لے گئی۔ اس نے لڑکیوں کو بتایا کہ انہیں بیوٹی پارلر میں نہیں بلکہ جسم فروشی کا کام کرنا ہوگا اور ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ اگر انہوں نے انکار کیا تو وہ ان کی غیر قانونی دستاویزات پولیس کے حوالے کرکے انہیں پکڑوادے گی۔

زنیرہ نے بتایا کہ عائشہ نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے انہیں شدید تشدد اور دھمکیوں کا نشانہ بنایا اور اپنی موجودگی اور نگرانی میں دونوں بہنوں کے ساتھ جنسی زیادتی کروائی۔ اس کے بعد ان کے ساتھ تشدد اور جنسی زیادتی کا عمل سالوں جار ی ر ہا۔ زنیرہ کا کہنا ہے کہ عائشہ گاہکوں سے کہتی تھی کہ وہ بے حیائی کے عمل کے دوران اپنا فون آن کرکے اس کے ساتھ رابطے میں رہیں تاکہ اگر زنیرہ اور اس کی بہن گاہکوں کی کوئی خواہش پوری کرنے سے انکار کریں تو عائشہ کو اس کا فون کے ذریعے پتہ چل جائے اور اس طرح جب بھی انہوں نے کوئی مزاحمت کی تو بعد میں انہیں اس کی وجہ سے شدید ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

سالوں ظلم کا نشانہ بننے کے بعد بالآخر 2013ءمیں دونوں بہنیں عائشہ کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب تو ہوگئیں لیکن عائشہ کا بھائی اور دیور ان کے گھر آن پہنچے اور فرار کی سزا دینے کیلئے گولیاں برسادیں۔ زنیرہ کی ٹانگ پر تین گولیاں لگیں اور وہ معذوری کی زندگی گزاررہی ہے۔ ان کا پورا خاندان عائشہ اور اس کے گینگ کے خوف سے چھپ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ پولیس اور عدالتوں کے دھکے کھانے کے باوجود ان کی زندگی خطرے میں ہے کیونکہ وحشی مجرموں کوپولیس اور طاقتور سیاستدانوں کی مکمل حمایت حامل ہے۔ واضح رہے کہ یہ سفاک درندے پاکستانی لڑکیوں کو دھڑا دھڑ بیرون ملک سمگل کررہے ہیں اور زنیرہ اور شائستہ کی کہانی بے شمار ایسی لڑکیوں کی کہانیوں میں سے ایک ہے۔

مزید :

قومی -