تھائی لینڈ کا' کوبرا' گاؤں

تھائی لینڈ کا' کوبرا' گاؤں
تھائی لینڈ کا' کوبرا' گاؤں

  

بنکاک (نیوز ڈیسک) تھائی لینڈ کے ایک گاﺅں میں جتنے انسان ہیں تقریباً اتنے ہی سانپ ہیں اور یہاں سانپ اور انسان مل کر اکٹھے زندگی گزارتے ہیں۔ ساٹھ سال پہلے بین کوک سانگا گاﺅں سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر نے اپنے گاﺅں کی پسماندگی دور کرنے کیلئے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ سانپ پالنے شروع کردیں تو ان کو یہ مشورہ پسند آیا اور اس دن سے لے کر آج تک اس گاﺅں میں اتنے سانپ پالے گئے ہیں کہ اس کا نام ہی ”کوبرا گاﺅں“ پڑ گیا ہے۔ یہاں ہر گھر کے باہر ایک ڈربہ بنا ہوا ہے جس میں زہریلے ناگ پائے جاتے ہیں۔ دنیا کے زہریلے ترین سانپوں سے لے کر بے ضرر سانپوں تک یہاں ہر قسم کے سانپ ملتے ہیں، اس گاﺅں کے باسی اپنے سانپوں سے بہت پیار کرتے ہیں اور انہیں اپنی زندگی کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں۔ یہاں ننھے بچے بھی سانپوں کو گلے میں لٹکائے اور ان کے ساتھ کرتب کرتے نظر آتے ہیں۔ تھائی لینڈ میں آنے والے ہر سیاح کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ سانپوں والے گاﺅں ضرور جائے۔ یہاں کے لوگ ان سانپوں کے ساتھ انتہائی پرخطر اور خوفناک کرتب دکھاتے ہیں۔ یہ لوگ پھنکارتے ہوئے زہریلے کوبرا سانپوں کے ساتھ لڑائی کرتے ہیں اور غصے اور اشتعال سے بے قابو ہوتے ہوئے ناگوں کو قابو کرکے دکھاتے ہیں۔ یہاں کا سب سے تجربہ کار سانپوں کا کھلاڑی 72 سالہ باﺅلی چائی ہے، جسے زہریلے کوبرا اور دوسرے سانپ 21 بار کاٹ چکے ہیں اور اس کی تین انگلیاں زہر کی وجہ سے کاٹی جاچکی ہیں۔ افواہوں کے مطابق یہاں پر سیاحوں کو بھی کئی دفعہ سانپ کاٹ چکے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -