جارحیت کا جواز پیدا کرنے کے لئے اسرائیل نے میڈیا کو خاموش کرا دیا

جارحیت کا جواز پیدا کرنے کے لئے اسرائیل نے میڈیا کو خاموش کرا دیا
جارحیت کا جواز پیدا کرنے کے لئے اسرائیل نے میڈیا کو خاموش کرا دیا

  

یروشلم (نیوز ڈیسک) فلسطینی اور اسرائیلی صحافیوں نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ پر حملے کا جواز پیدا کرنے کیلئے تین اسرائیلی لڑکوں کی ہلاکت پر میڈیا کو خاموش رہنے کا حکم دیا اور اس معاملے کو حماس کی طرف سے اغواءکا رنگ دے کر کئی دنوں تک اسرائیلی قوم اور عالمی میڈیا کے ساتھ جھوٹ بولا اور اسرائیل میں لوگوں کو جنگی جنون میں مبتلا کیا۔ صحافی نوم شیزاف کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ایجنسیوں نے لاپتہ ہونے والے اسرائیلی لڑکوں میں سے ایک کی ایمرجنسی کال ریکارڈ کی جس میں واضح طور پر گولیاں چلنے کی آواز سنی جاسکتی ہے اور یہ رائے قائم کی جاسکتی ہے کہ لڑکوں کو اسی وقت قتل کردیا گیا۔ اسرائیلی حکام نے چونکہ غزہ پر جنگ مسلط کرنا تھی اس لئے لڑکوں کی گمشدگی کو اپنے ناپاک مقاصد کیلئے بھرپورطور پر استعمال کیا۔ حکومتی سیشن بیٹ سیکیورٹی ایجنسی نے صحافیوں پر پابندی عائد کردی کہ وہ ہرگز یہ نہ بتائیں کہ ایمرجنسی کال میں گولیاں چلنے کی آواز سنائی دی۔ اسرائیلی میڈیا نے بھی اپنی حکومت کے ساتھ مل کر لڑکوں کے اغواءکا ڈرامہ کیا اور اپنی قوم کو شدید جنگی جنون اور فلسطینیوں کی نفرت میں مبتلا کیا۔ جب لڑکوں کی لاشیں دریافت ہوئیں تو پورے اسرائیل میں فلسطین پر حملے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ اسرائیلی حکومت نے انتہائی مکاری سے غزہ پر حملے کی اپنی نیت کو چھپائے رکھا اور جھوٹ بول کر اپنے لوگوں میں اشتعال اور جنون پھیلایا جسے استعمال کرتے ہوئے بالآخر غزہ پر حملہ کرکے اپنے شیطانی منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -