ڈرون کے خلاف احتجاج کرنے والی امریکن دادی کو جیل بھیج دیا گیا

ڈرون کے خلاف احتجاج کرنے والی امریکن دادی کو جیل بھیج دیا گیا
ڈرون کے خلاف احتجاج کرنے والی امریکن دادی کو جیل بھیج دیا گیا

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) امریکہ میں تین بچوں کی دادی اماں کو ڈرون کے خلاف احتجاج کرنے پر ایک سال کے لئے جیل بھجوا دیا گیا۔ امریکی اخبار پوسٹ سٹینڈرڈ کے مطابق ایتاکا سے تعلق رکھنے والی 58 سالہ ”میری اینے گریڈی فلارز“ پر ڈیوٹ میں ہین کوک فضائی چھاﺅنی پر مسلسل ڈرونز کے خلاف احتجاج کرنے کا الزام ہے۔ گریڈی فلارز کو اکتوبر 2012ءمیں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا، جب اس نے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ڈرونز کے خلاف جاری احتجاج کے دوران چھاﺅنی کے تین دروازوں کو بند کر دیا تھا۔ مظاہرین پر چھاﺅنی کے دروازوں کو غیرقانونی طور پر بند کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا اور اس ضمن میں باقاعدہ ایک حکم نامہ بھی جاری کیا گیا، جو ایک سال تک فعال رہنا تھا جبکہ اسی حکم نامہ کی بنیاد پر گریڈی فلارز اور ان کے ساتھیوں کو سزا سنائی گئی ہے۔ فلارز کی بہن نے اخبار کو بتایا کہ گریڈی فلارز احتجاج نہیں بلکہ اس وقت پیش آنے والے واقعہ کی تصاویر بنانے کے لئے وہاں موجود تھی، جس سے کیس کی سماعت کرنے والے جج ڈیوڈ گڈسن نے اتفاق نہ کرتے ہوئے کہا کہ گریڈی کا اقدام غیرقانونی تھا۔ جج نے گریڈی فلارز کو اس کیس میں مقررہ زیادہ سے زیادہ سزا سنائی ہے۔ اخبار کے مطابق گریڈی کو ایک ہزار ڈالر جرمانہ کے علاوہ 205 ڈالر ریاستی محصول اور ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے 50ڈالر بھی دینا ہوں گے۔ اس سلسلہ میں گریڈی فلارز کا کہنا ہے کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ بغیر پائلٹ کے چلنے والے ڈرون ہین کوک فضائی چھاﺅنی سے اڑائے جا رہے ہیں تو میں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہاں پہنچ کر اس مجرمانہ جنگ کو روکنے کا مطالبہ کیا، کیونکہ یہ امریکی آئین کے آرٹیکل 6اور سیکشن 2کی خلاف ورزی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -