شامی باغیوں کی تربیت کے امریکی منصوبے سے اردن نے معذرت کر لی

شامی باغیوں کی تربیت کے امریکی منصوبے سے اردن نے معذرت کر لی
شامی باغیوں کی تربیت کے امریکی منصوبے سے اردن نے معذرت کر لی

  

عمان (مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کے دیگر ممالک کی طرح شام میں بھی بد امنی اور خانہ جنگی کو ہوا دینے کے لئے امریکہ ہر ممکن کوشش میں مصروف ہے جن میں سے ایک جنگجوﺅں کو تربیت دے کر شامی حکومت کے خلاف لڑانا بھی ہے۔ یہ پروگرام خفیہ طور پر اردن میں جاری تھا لیکن اب امریکہ نے اس پروگرام کو کئی گنا بڑھانے اور جنگجوﺅں کی بڑے پیمانے پر تربیت کرنے کا ارادہ کیا ہوا ہے جس پر اردن کی حکومت نے ابتدائی طور پر معذرت کر لی ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اردن اس بات سے خوفزدہ ہے کہ جنگجوﺅں کی علی الاعلان تربیت کی وجہ سے اسے شام کی طرف سے رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی حکومت اس پراجیکٹ کے لئے 50کروڑ ڈالر مختص کرنے کی تجویز دے چکی ہے اور اردن کی حکومت کا انکار اوباما انتظامیہ کے لئے مشکلات کا باعث بن گیا ہے اور اس مقصد کے لئے دیگرممالک کو استعمال کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے ۔ ان ممالک میں ترکی اور کچھ خلیجی ریاستیں شامل ہو سکتی ہیں۔ اردن کے ایک اہم اہلکار نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اردن نے امریکی منصوبے میں تعاون سے معذرت کر لی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی کانگریس کی اس پروگرام کی منظوری کے بعد ہی حتمی طور پر کچھ کہاجاسکے گا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -