پاکستان کا ایران سے بڑا دوست کوئی نہیں

پاکستان کا ایران سے بڑا دوست کوئی نہیں
پاکستان کا ایران سے بڑا دوست کوئی نہیں

  



اس سال ماہ رمضان المبارک میں شدید گرمی کے باعث پاکستانی بہن و بھائیوں کی ایک کثیر تعداد کی وفات کی خبر سے ہمارے دل کو صدمہ پہنچا۔ بنابر این میں نے اس مشن آفس کے دیگر نمایندگان کے ہمراہ ان فوت شدگان کے خاندانوں اور حکومت پاکستان کے لیے اپنے ہمدردانہ جذبات کے اظہار کو ضروری سمجھا۔ایرانی قوم سب سے زیادہ پاکستان کے ساتھ تاریخی، تہذیبی اور دینی رشتے میں بندھی ہوئی ہے کہ یہ دونوں اقوام ماضی میں بھی ہر نشیب و فراز میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑی ر ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک رہی ہیں اس لیے دونوں اقوام ایک دوسرے کے دکھ درد سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتیں۔

ہم اپنے پاکستانی بہن بھائیوں کے رمضان المبارک میں گرمی کی شدت اور لوڈ شیڈنگ کے باعث جاں بحق ہوجانے پر سخت صدمے سے دوچار ہیں نیز آرزومند ہیں کہ اے کاش دونوں ممالک کے درمیان بجلی کی ترسیل کا نظام موجود ہوتا تو ہم ان حالات میں ایران کی فاضل بجلی پاکستان کو برآمد کرسکتے اور ہمارے پاکستانی بھائی بھی اس عظیم نعمت سے بہرہ مند ہو سکتے۔موجودہ توانائی بحران نے پاکستان میں صنعت و زراعت کے شعبوں کے علاوہ روزمرہ گھریلو زندگی کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ پاکستان ایک بڑا ملک ہے اور اس کے لوگ شریف اور محنت کش ہیں اگر ان کو توانائی بحران سے نجات مل جائے تو یہ زرعی اور صنعتی شعبوں میں بہت زیادہ ترقی کر سکتے اور خطے اور پوری دنیا میں شایان شان مقام حاصل کرسکتے ہیں۔

ہم بطور ہمسایہ اپنے دوست ملک پاکستان جو اس وقت اقتصادی مشکلات اور توانائی بحران سے دوچار ہے نیز افواج پاکستان جو بحالی امن اور دہشتگردی کے خلاف مصروف جہاد ہیں کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں۔بلاشبہ ایک پرامن اور اقتصادی لحاظ سے ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان ، ایران و خطے کے دیگر ممالک کے لیے فائدے مند ہے۔پاکستان کے اقتصادی اور سلامتی کے مسایل کا حل اسے خطے اور دنیا میں بڑے ممالک کی صف میں لا کھڑا کرسکتا ہے۔

ایران بطور ہمسایہ ملک توانائی بحران کے خاتمہ میں اس کی مشکلات کے حل میں تعاون کا خواہاں ہے توانائی دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا ایک اہم شعبہ ہے۔ اس وقت ایران 74میگا واٹ بجلی پاکستانی بلوچستان کو مہیا کر رہا ہے اور پاکستان نے پہلے سے ایران کے ساتھ مفاہمت کی دو یادداشتیں جن میں ایک گوادر کے لیے 100میگا واٹ اور دوسری کوئٹہ کے لیے ایک ہزارمیگاواٹ بجلی کی فراہمی سے متعلق ہے پر دستخط کر رکھے ہیں ۔ اب ایران پاکستان کو ایک ہزار سے تین ہزار میگا واٹ بجلی مہیا کرنے کے لمبی مدت کے معاہدے کے لیے تیار ہے۔ اس کے علاوہ گیس پائپ لائن کے منصوبے کی تکمیل کے بعد پاکستان کی توانائی کی صنعت میں انقلاب آ جائے گا کیونکہ پاکستان اس منصوبے سے حاصل شدہ گیس کے ذریعے پانچ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر سکے گا۔ پاکستان کی ایران کے ساتھ ہمسائیگی دونوں ممالک کے درمیان نزدیکی ، گیس پائپ لائن اور ترسیل برق جیسے منصوبوں کو آسان اور سستا بنا دے گی۔ایران اس وقت بھی چند ہمسایہ ممالک کو بجلی برآمد کر رہا ہے اور بجلی خریداری کی قیمت کی وصولی کے سلسلے میں درآمد کنندگان کی طرف سے اسے کسی مشکل کا سامنا نہیں ہے۔ اس طرح موجودہ حالات میں بین الاقوامی پابندیاں بھی ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کو بجلی برآمد کرنے میں رکاوٹ متصور نہیں ہوتیں۔

’’گمان مبر کہ بود بیشتر ز ایرانی

کسی بہ روی زمین دوستدار پاکستان‘‘

’’ترجمہ: ایسا گمان بھی نہ کرنا کہ روئے زمین پر پاکستان کا ایرانیوں سے بڑا دوست بھی موجود ہے‘‘۔

پاک ایران دوستی زندہ باد

مزید : کالم