شام میں اسدی حکومت قبول لیکن ایرانیوں کی موجودگی ناقابل قبو ل :اسرائیل 

شام میں اسدی حکومت قبول لیکن ایرانیوں کی موجودگی ناقابل قبو ل :اسرائیل 
شام میں اسدی حکومت قبول لیکن ایرانیوں کی موجودگی ناقابل قبو ل :اسرائیل 

  

مقبوضہ بیت المقدس (آن لائن) اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ روس نے شام میں تعینات ایرانی فورسز اور اس کی حامی ملیشیاؤں کو اسرائیل کی سرحد سے 80 کلومیٹر دور رکھنے کی تجویز دی ہے لیکن اسرائیل ایرانیوں کا شام سے مکمل انخلا چاہتا ہے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو اور روسی صدر ولا دیمیر پیوٹن کی دارالحکومت ماسکو میں ملاقات ہوئی ،جس میں اسرائیلی وزیراعظم نے موقف اختیار کیا کہ ہم شام سے ایران کا مکمل انخلا چاہتے ہیں،بشارلاسد کی حکومت سے کوئی اعتراض نہیں۔اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ روس اگر شام سے ایرانیوں کو نکال دے تو ان کا ملک اسد حکومت کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گا،صدر بشار الاسد خطے میں روس کے قریب ترین اتحادی ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں روس کا واحد فوجی اڈہ شام میں ہی قائم ہے،بشار الاسد کیخلاف جاری بغاوت کو دبانے کیلئے روسی فوج 2015ء سے شامی حکومت کی مدد کر رہی ہے اور روس کی اس فوجی مداخلت کے نتیجے میں شامی فوج باغیوں کے زیرِ قبضہ بیشتر علاقوں کو کنٹرول واپس حاصل کرچکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران بھی صدر بشار الاسد کی حکومت کا اہم ترین اتحادی ہے جس کی فوج اور حامی ملیشیائیں 2011ء میں شام کی خانہ جنگی کے آغاز سے ہی صدر بشار کی فوجوں کیساتھ مل کر باغیوں سے لڑائی میں مصروف ہیں لیکن ایران کی شام میں موجودگی پر نہ صرف اسرائیل معترض رہا ہے بلکہ خطے کے بیشتر عرب ملکوں اور امریکہ کو بھی شام میں ایرانی سرگرمیوں پر تشویش ہے۔

مزید : بین الاقوامی