بہتر نمائندوں کا انتخاب، ووٹروں کی اہم ذمہ داری

بہتر نمائندوں کا انتخاب، ووٹروں کی اہم ذمہ داری
بہتر نمائندوں کا انتخاب، ووٹروں کی اہم ذمہ داری

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

موجودہ انتخابی مہم میں حصہ لینے والے امیدوار حضرات اور خواتین اپنی صلاحیتوں کے مطابق حتی المقدور کوشش کر رہے ہیں کہ وہ 25جولائی کے روز زیادہ ووٹ حاصل کرکے کامیابی سے ہمکنار ہو سکیں، جبکہ ان کے مخالف امیدواران کچھ سچے یا جھوٹے، الزامات لگا کر مذکورہ بالا کوششوں کو ناکام بنانے پر تلے بیٹھے ہیں، لیکن اصل ذمہ داری تو ان علاقوں اور حلقوں کے ووٹر حضرات پر عائد ہوتی ہے کہ وہ بمقائمی ہوش و حواس خمسہ، کسی دباؤ، ترغیب اور لالچ میں آئے بغیر اپنے ضمیر کی آزادانہ آواز پر عمل پیرا ہو کر ایسے نمائندوں کو زیادہ ووٹ دے کر سرخرو کرائیں جو نہ صرف ان کو اکثر اوقات اجتماعی امور کے حل کے لئے دستیاب ہوتے رہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق عوام کے مسائل و مشکلات، ذاتی اور اکثریتی لوگوں کی پریشانیوں سے نبردآزما ہونے کی خاطر اپنی خدمات بروئے کار لانے پر ہمہ وقت مستعد اور رضامند ہو سکیں۔ بے شک ووٹروں کی ہر وقت کی خواہشات کے لحاظ سے امیدوار حضرات دستیاب اور تیار تو نہیں ہوتے، لیکن وقتی ضروریات کے تحت اگر لوگوں کے مطالبات پر کچھ توجہ اور خلوص نیت کا مظاہرہ کر دیا جائے تو پریشان حال افراد کی کسی حد تک حق رسی ہو جاتی ہے۔

اب قابل غور بات یہ ہے کہ ہمارے ترقی پذیر ملک اور معاشرے میں اکثر اوقات عوام کی ضروریات کے مطابق مالی فنڈز اور مادی وسائل کی فراہمی ممکن نہیں ہوتی۔

اگر یہ بات سچ اور درست ہے تو ایسی حقیقت عوام کے سامنے لانے اور بتانے میں بھلا کون سی مصلحت اور رکاوٹ حائل ہو سکتی ہے؟کیونکہ ان ضروریات کی فوری طور پر دستیابی کی مشکلات،صرف یہاں ہی نہیں، بلکہ دیگر کئی ممالک کے لوگوں کو بھی درپیش ہوتی ہیں، بہت خوشحال اور ترقی یافتہ ملکوں کو بھی بعض اوقات ایسے حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔

انتخابی مہم کے دوران جو امیدواران حضرات اور خواتین عوام کے ووٹوں کے حصول کے خواہاں اور کوشاں ہیں، وہ بلاشبہ اپنی دستیاب صلاحیتیں اور وسائل آئندہ مزید چند روز تک ووٹروں کو مائل و راغب کرنے کی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں لیکن ووٹر تو بالکل اپنی آزاد مرضی اور خواہش سے ہی اس حق کا اظہار اور استعمال کریں گے۔یاد رہے کہ دیانتدار اور تعلیم یافتہ نمائندوں کے انتخاب سے ہی ہمارے ملک کا مستقبل درخشاں ہو سکتا ہے۔

ان سے فقط یہی عرض اور گزارش ہے کہ اپنے ووت کے استعمال کے لئے ذاتی اغراض، مفادات، دوستی، رشتہ داری، چاول گوشت، ٹھنڈی بوتلوں، آئس کریم اور چائے وغیرہ کی تقریبات سے متاثر ہو کر، ایسے میزبانوں کی حمایت کرنے، بلکہ اپنی ذات پات اور برادریوں کے وقتی طور پر اجتماعات اور ان میں قرآن پاک یا کسی اور انداز سے کسی خاص امیدوار کو ووٹ دینے کے لئے حلف اٹھانے کی مروجہ روایت پر چلنا اور ایسی کوئی یقین دہانی کرانا بلاشبہ ایک غلط عادت اور قومی مفاد کے خلاف احمقانہ حرکت و حماقت ہے۔ ووٹ ڈالنے کے لئے قومی اور ملکی مفاد کو ترجیح دینا، محب وطن افراد کے لئے سب سے اولین ترجیح رکھنا اشد ضروری ہے۔

اب اگلے ماہ 14اگست 2018ء کو اہل وطن، قیام پاکستان کی 70ویں سالگرہ منانے کی تقریبات کا انعقاد ملک بھر کے طول و عرض میں، خوشی اور جوش و جذبے سے کرکے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اظہار تشکر اور سجدہ ریزی سے کرتے نظر آئیں گے۔ ہماری آزادی کے گزشتہ 70سال سے ہمیں بلاشبہ اب یہ سبق حاصل کر لینا چاہیے کہ جب تک ہم اپنے نمائندے منتخب کرنے کے لئے متعلقہ اصولوں، اقدار، بے لوث خدمت، دیانت اور محنت کی صفات کو اپنی زندگی کا بنیادی مقصد اور نصب العین نہیں بنائیں گے تو غالب امکان یہی ہے کہ خدانخواستہ ،ہم آئندہ بھی مزید عرصوں کے لئے موجودہ مخدوش معاشی، دفاعی ،تعلیمی اور ثقافتی حالات کی کسمپرسی میں زندگی کے شب و روز گزارنے پر مجبور رہیں گے۔

کیا ہم ایسی خستہ حالی میں بیرونی مالیاتی اداروں سے مسلسل کڑی شرائط پر قرضے اور امداد لینے کی روش آئندہ بھی جاری رکھیں گے؟ ایسا طرزِ عمل تو کشکول توڑنے کی بجائے دراصل اس کو مزید بڑا، چوڑا اور گہرا کرنے کے مترادف ہے۔ غیر ملکی مالیاتی اداروں سے سخت شرائط پر قرضوں کا حصول ہمارے ملک کی معیشت پر کچھ منفی اثرات بھی مرتب کر رہا ہے، اگرچہ وقتی طور پر ہمیں اپنے مسائل اور منصوبوں کی ضروریات کے لئے مالی رقوم جلد دستیاب ہو جاتی ہیں لیکن ان کی واپسی کے لئے کافی سود بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔

یوں ہماری تعمیر و ترقی پر خاصے قابل ذکر حوصلہ شکن، نتائج وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ اس دیرینہ رجحان پر قابو پانے کے لئے ہمیں اپنے روایتی انداز ہائے کار تبدیل کرنا ہوں گے، بصورت دیگر یہاں کی مالی اور معاشی مشکلات کا جواز بنا کر قرضے اور امداد دینے والے ممالک اپنی شرائط منوانے کی جارحانہ اور غیرمنصفانہ پالیسیاں جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب مقامی سطح پر معاشی حالات کی بہتری کا تقاضا یہ ہے کہ مختلف طبقوں اور شعبہ حیات کے لوگوں کی مالی مشکلات کم کرنے کے لئے ان کی گاہے بگاہے امداد کی جائے اور ان کے لئے بینکوں سے آسان شرائط پر قرضوں کا حصول آسان بنایا جائے۔اگر بھارت میں بجلی،کسانوں (اور صنعت کاروں) کو سستے نرخوں پر فراہم کی جاتی ہے تو ایسی سہولت مقامی لوگوں کو بھی دینے کے اقدامات کرنے کی کوششیں بروئے کار لائی جائیں۔

ہمارا ہمسایہ اور دشمن،بھارت، بیرونی تجارت میں پاکستان کی مصنوعات پر گہری نظریں رکھ کر ان کو خسارے سے دوچار کرنے کی ممکنہ کارروائیاں، بہت باقاعدگی اور تسلسل سے کرتا رہتا ہے۔

ان رواں غلط کاریوں کو روکنے کے لئے اہل وطن کو مختلف شعبوں مثلاً انفارمیشن ٹیکنالوجی وغیرہ میں فنی مہارت، جدید تقاضوں کے تحت حاصل کرنے میں مزید کوئی غفلت، سست روی اور کوتاہی کے ارتکاب سے گریز کرنا ہوگا۔

نیز قومی دولت اور وسائل کی چوری اور نقب زنی اگر روایتی بے شرمی سے جاری رکھی جائے گی تو پھر ملک کو انسانی ضروریات کے لئے زرکثیر کیسے حاصل ہوگا؟ ہمارے سیاسی قائدین اور رہنماؤں کو قومی وسائل کی وسیع پیمانے پر خوردبرد اور لوٹ مار کو ہمیشہ کے لئے ترک کرنا ہوگا اور سیاسی قیادت کے حصول کے لئے ہمیں اپنی بدتمیزی،بدزبانی اور جھوٹی الزام تراشی کی عادات بدلنا ہوں گی۔

مزید : رائے /کالم