مذہبی جماعتیں الیکشن میں

مذہبی جماعتیں الیکشن میں
مذہبی جماعتیں الیکشن میں

  

پاکستان میں مذہبی سیاسی جماعتوں کی اہمیت سے انکار نہیں اگرچہ جماعتیں اپنی آزادانہ حیثیت میں اکیلی الیکشن میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتیں مگر ان کی حمایت اور مخالفت سیاست میں اپنا کردارضرور ادا کرتی ہے، بڑی مدت کے بعد موجودہ الیکشنوں میں مذہبی جماعتوں نے غالباً (ن) لیگ کی حمایت اور اس کی مخالف جماعتوں کے خلاف ایم ایم اے کے نام سے الیکشن میں حصہ لینے کے لئے گروپ بنایا اس میں مولانا فضل الرحمن اور جماعت اسلامی ہی دو بڑی پارٹیاں ہیں۔ تو ذرا ایم ایم اے میں مولانا فضل الرحمن کا حصہ دیکھیں، مولانا فضل الرحمن خود دو بھائی اور ایک بیٹا الیکشن میں حصہ لیں گے، ایک بھائی مولانا عطاء الرحمن پہلے ہی سینیٹر ہے اس کے علاوہ اپنی رشتہ دار خواتین کو قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے لئے ٹکٹ جاری کئے ہیں، مالِ مفت دلِ بے رحم والی مثال، اول خویشاں بعد درویشاں کی مثالیں صادق آتی ہیں، یعنی پہلے اپنوں کو تقسیم کرکے گر کچھ بچ جائے تو پھر مانگنے والوں کو دے دو، یہاں یہ بات لکھتے چلیں کہ (ن) لیگ میں بے شمار معتبر لوگوں نے اپنے گھر کے تمام افراد مع خواتین کو نامزد کیا، اگر حساب کتاب لکھا جائے تو (ن) لیگ کے تمام لوگوں نے خاندان در خاندان ٹکٹ دیئے ہیں چلو اب کوئی ڈیمانڈ نہیں لیکن سابقہ ریکارڈ بھی ایسا ہی ہے اس طرح پی پی پی کے لیڈروں نے بھی اپنے اپنے خاندان کو ٹکٹیں بانٹی ہیں۔

غرضیکہ تمام سیاسی پارٹیوں نے اپنے اپنے افراد کو نوازا ہے۔پاکستان میں بڑے لائق فائق لوگ موجود ہیں، پڑھے لکھے ہیں لیکن الیکشن میں حصہ لینا ان کے بس کا روگ نہیں، الیکشن دولت کا کھیل ہے،میرٹ کی تباہی کیوں ہے، میرٹ پر کون سا کام ہوا ہے جس طرف دیکھو کرپشن ہی کرپشن سے اگر کرپشن نہ ہو تو پھر کون سا جادو کا کھیل ہے کہ 5 سالوں میں 7 سالوں میں انسان کروڑ پتی ہوجائے، محلات تعمیر ہوجائیں، زمینیں خریدلی جائیں پٹرول پمپ بھی لگ جائیں، لینڈ کروزریں بھی محلات میں کھڑی ہوجائیں، اور ذرائع آمدن بھی کوئی نظر نہ آئے نہ کوئی شوگر ملیں نہ ٹیکسٹائل نہ کالج سکول نہ فیکٹریاں تو کیا حکمران یا انتظامیہ نہیں جانتی؟ سب جانتی ہے، مگر سب حصہ دار ہوتے ہیں،بہرحال موضوع کی طرف آتا ہوں، 2018ء کے انتخابات میں بھی ہمیں ایک بار پھر مذہبی جماعتوں کی سیاست کے مختلف مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

ایم ایم اے میں 5جماعتیں ہیں، دو کا ذکر پہلے کرچکا ہوں جبکہ باقی تین جماعتوں کی پوزیشن کمزور ہے، جماعت اسلامی نے بھی اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں، ان میں کچھ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران رہ چکے ہیں، بہت ہی کم لوگ ہیں جو الیکشن میں حصہ لیتے ہیں چونکہ جماعت میں بھی چند برائے نام امیدوار الیکشن کا خرچہ برداشت کرسکتے ہیں، باقی اہلِ حدیث کے معزز حضرات ن لیگ کے حمایت یافتہ ہوتے ہیں، اس میں بھی شاید دو گروپ ہیں ابھی تک تو صرف ایک ہی گروپ کے حضرات (ن) لیگ کی حمایت سے ممبران بنے ہیں، 2018ء کے الیکشن میں دو اور مذہبی جماعتیں فعال نظر آتی ہیں ایک جماعت تحریک لبیک ہے یہ جماعت دو سال سے سامنے آئی ہے، اس کے اس وقت دو دھڑے ہیں، اول دھڑا خادم حسین رضوی کا ہے اور دوسرا اشرف جلالی کا ہے، تحریک لبیک نے اپنی انتخابی حیثیت کو منوایا ہے، گزشتہ ایک سال میں جو غالباً دس ضمنی الیکشن ہوئے ان میں اس نے آٹھ سے پندرہ ہزار ووٹ لے کر پہلے سے موجود مذہبی جماعتوں سے بہتر پوزیشن ظاہر کی الیکشن کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ جماعت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے جو ان کی کمزوری کا سبب ہے۔

دوسری جماعت ملی مسلم لیگ ہے جسے جماعت الدعوہ اور حافظ سعید کی حمایت حاصل ہے لیکن یہ جماعت الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ نہیں ، اس وجہ سے حالیہ انتخابات میں اللہ اکبر تحریک کے نام سے انتخابی عمل میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، عمومی طور پر حافظ سعید کے حامی نواز شریف کا ووٹ بنک سمجھا جاتا ہے لیکن اب وہ اپنی الگ شناخت پر الیکشن لڑ رہے ہیں اور یہ بھی ن لیگ کے ووٹر کو تقسیم کرسکتے ہیں، تحریک لبیک یا رسول اللہؐ اور اللہ اکبر نے اپنے آپ کو ایم ایم اے کا حصہ بنانے کے بجائے اپنی اپنی شناخت پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، اس طرح تین بڑی قوتیں ایم ایم اے، تحریک لبیک اور اللہ اکبر سیاسی میدان میں موجود ہیں، تینوں جماعتوں یا اتحاد نے پورے ملک میں بیشتر قومی اور صوبائی حلقوں سے امیدواروں کا اعلان کیا ہے اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک طرف مذہبی جماعتوں کا مقابلہ (ن) لیگ، پیپلز پارٹی اور تحریک سے ہوگا، یہی مذہبی جماعتیں اپنی ہی مذہبی جماعتوں کے مدمقابل بھی کھڑی ہوں گی، جو مذہبی ووٹ کی تقسیم کا سبب بنے گا، ایم ایم اے کی سیاسی حکمت عملی تو یہی ہے کہ وہ اس اتحاد کے باو جود دونوں بڑی سیاسی جماعتوں (ن) لیگ اور پی ٹی آئی میں سے کسی کے ساتھ اتحاد یا سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرکے الیکشن میں حصہ لیں، لیکن ابھی تک ان کو اس میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

مولانا فضل الرحمن جن کا زیادہ سیاسی جھکاؤ نواز شریف کی طرف ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ کم سے کم خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے مقابلے میں (ن) لیگ سے اتحاد کا امکان پیدا کرتے لیکن ایسا نہیں ہوسکا جبکہ جماعت اسلامی کی کوشش تھی کہ وہ پنجاب کی حد تک (ن) لیگ سے مفاہمت کا راستہ نکالتی لیکن ابھی تک ان کو بھی کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی، (ن) لیگ ماضی میں مذہبی جماعتوں کے ساتھ اتحادی سیاست کرتی رہی ہے جبکہ عمران کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی بھی انتخابی ایڈجسٹمنٹ کے حامی نہیں، ایم ایم اے کا الیکشن 2018ء میں اصل معرکہ خیبر پختونخوا میں ہے جہاں اس کا مقابلہ پی ٹی آئی سے ہے اور مولانا فضل الرحمن، عمران خان ایک دوسرے کے سخت حریف سمجھتے جاتے ہیں، خود ایم ایم اے باہمی اختلافات کا شکار ہے، ٹکٹوں کی تقسیم میں جماعت اسلامی کے مقابلے میں جے یو آئی کو برتری حاصل ہے۔ جماعت اسلامی کو ٹکٹوں کی تقسیم میں نظر انداز کرنے پر کافی تحفظات ہیں، مذہبی جماعتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت بڑی سیاسی جماعتیں جن میں پی پی پی، ن لیگ اور پی ٹی آئی نے عملی طور پر ان مذہبی جماعتوں کی سیاست سے فاصلے رکھے ہوئے ہیں، ماضی میں جس طرح ان مذہبی جماعتوں کو پذیرائی حاصل ہوئی تھی، اب حالات کافی مختلف نظر آتے ہیں، ان چند مذہبی لوگوں کا کردار عوام کے سامنے بہتر نہیں رہا، وہ مذہب کا نام لے کر دوسرے لوگوں کی طرح اپنے مفادات حاصل کرتے رہے، ماضی میں ملنے والے ووٹوں کے مقابلے میں اب مذہبی جماعتوں کا ووٹ بینک مزید کم ہوا ہے، قومی سیاست میں مذہبی جماعتوں کا رویہ عوام کے سامنے کچھ بہتر نہیں رہا، جیسے ہماری جمہوری سیاست میں سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادتیں جمہوریت قانون کی حکمرانی اور شفاف حکمرانی جیسے نعروں کو اپنی سیاسی مفادات میں بطور ہتھیار استعمال کرتی ہیں، ایسے ہی مذہبی جماعتیں اسلام اور دین کو بطور ہتھیار استعمال کرتی ہیں اور جائز نا جائز مفادات حاصل کرتی رہی ہیں، مولانا فضل الرحمن کے بارے میں عوام خوب جانتے ہیں کہ وہ ہر حکومت میں فٹ ہوتے ہیں تو پھر اسلام اور مذہب کہاں گئے؟

مزید : رائے /کالم