سینیٹ۔۔۔ الیکشن کے بارے میں تحفظات اور خدشات

سینیٹ۔۔۔ الیکشن کے بارے میں تحفظات اور خدشات

سینیٹر میاں رضا ربانی(سابق چیئرمین سینیٹ) نے کہا ہے کہ عام انتخابات وقت سے پہلے ہی متنازع بن چکے ہیں،جس کی وجہ اِن میں مداخلت اور الیکشن کمیشن کے آئینی کردار میں ناکامی ہے، 25 جولائی کو انتخابات نہ ہونے اور انہیں ملتوی کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، نیب کو صرف دوجماعتیں نظر آ رہی ہیں، جبکہ اُسے تیسری جماعت نظر نہیں آ رہی، سینیٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے میاں رضا ربانی نے کہا کہ عدالت نے ایک(سابق) آمر کو انتخاب لڑنے کی اجازت دی، آرٹیکل چھ کے مجرم کو ایسا کرنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے۔ پرویز مشرف مُلک میں واپس نہیں آئے، جس کی وجہ سے فیصلہ واپس لے لیا گیا۔رضا ربانی نے کہا الیکشن کمیشن کی طرف سے پولنگ کا وقت(ایک گھنٹہ) بڑھانا بھی سوالیہ نشان ہے، دیگر جماعتیں بھی انتخابی عمل میں حصہ لے رہی ہیں، کیوں ان جماعتوں سے اِس معاملے پر مشاورت نہیں کی گئی،نگران حکومت کے متعلقہ وزراء کو اِن سوالات کے جوابات دینے چاہئیں۔ الیکشن کے حوالے سے جو بھی سوالات اُٹھ رہے ہیں اُن پر غور کے لئے کمیٹی آف دی ہول ہاؤس کا اجلاس بلایا جائے۔انہوں نے الیکشن کمیشن کے حکام کو بریفنگ کے لئے سینیٹ میں طلب کرنے کا مطالبہ بھی کیا،لوگوں کو ہراساں کرنے کے مطالبے کا جواب دیا جائے۔اوچ شریف میں بلاول کے قافلے کو روکا گیا، انتخابات میں فوج کی تعیناتی اور اسے اختیار دینا ایک اہم معاملہ ہے۔ الیکشن کمیشن فوج کو دیئے گئے اختیارات سے متعلق ایوانِ بالا کو اعتماد میں لے، سیکرٹری الیکشن کمیشن نے انتخابات میں مداخلت سے متعلق بیان دیا اور پھر اُسے واپس لے لیا، اِس لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ انہوں نے اپنا بیان واپس کیوں لیا۔انہوں نے کہا پیپلزپارٹی کے امیدواروں پر انتخابات سے دستبردار ہونے یا پھر سیاسی جماعت تبدیل کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے،جس پر پارٹی کو تشویش ہے انہوں نے سوال کیا، نگران حکومت کہاں ہے اور کیا کر رہی ہے؟ ان کے وزیر آ کر بتائیں کہ اُن کے انتخابی امیدواروں پر دباؤ کیوں ڈالا جا رہا ہے؟

اب جبکہ پولنگ صرف دس روز کے فاصلے پر ہے پارلیمینٹ کے ایوانِ بالا میں رضا ربانی کا یہ اظہارِ خیال جہاں لمحہ فکریہ ہے وہاں الیکشن کمیشن اور نگران حکومت سے انہوں نے جو جوابات طلب کئے ہیں اُن کا فوری طور پر جواب ملنا ضروری ہے۔رضا ربانی نے اُن کی جماعت کے امیدواروں سے پارٹی وفا داریاں تبدیل کرانے کی جو بات کی ہے ایسی شکایات مسلم لیگ(ن) کے امیدواروں کے متعلق بھی منظر عام پر آ چکی ہیں اور اب تک اِس سلسلے میں کوئی تسلی بخش وضاحت سامنے نہیں آئی، کیونکہ یہ کام بڑی فن کارانہ چابک دستی سے کیا جا رہا ہے اور جب کوئی شکایت کرتا ہے تو اُسے جھٹلانے کے لئے بہت سے جوازات بھی سامنے موجود ہوتے ہیں،لیکن ایک سینئر سیاست دان، نے جو سینیٹ کے چیئرمین کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں اور مُلک کے قائم مقام صدر بھی کئی بار رہے، کی طرف سے اِس قسم کی شکایت کا سامنے آنا کوئی معمولی بات نہیں ہے، بہتر یہ ہے کہ حکومت کے ذمہ دار وزاء، سینیٹ کے فلور پر جا کر اس کی وضاحت کریں۔اُن کا یہ سوال بھی بے محل نہیں ہے کہ یہ انتخابات اپنے انعقاد سے پہلے ہی متنازع ہو رہے ہیں،اِس لئے جن امور کی نشاندہی جناب رضا ربانی نے کی ہے اگر اُن کی تسلی بخش وضاحت سامنے نہیں آتی تو پھر انتخابات پر لگا ہوا سوالیہ نشان بڑا ہوتا رہے گا اور انتخابات کے انعقاد کے بعد بھی ان کی حیثیت مشتبہ ہوتی رہے گی۔ یہ درست ہے کہ ہمارے ہاں انتخابی نتائج کو خوش دلی سے تسلیم کرنے کی روایت نہیں اور2013ء کے انتخابات کو تو آج تک تسلیم نہیں کیا گیا، حالانکہ سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل جوڈیشل کمیشن یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ ان انتخابات میں دھاندلی نہیں ہوئی،لیکن جنہوں نے یہ الزام لگایا اور جو اِس الزام لگانے میں اُن کے ساتھ شریک تھے انہوں نے اِس کے باوجود اپنی رائے پر کوئی شرمساری ظاہر نہ کی، ابھی گزشتہ روز ہی لاہور کے حلقہ این اے125کے بارے میں سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اِس حلقے میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی تھی،یہاں خواجہ سعد رفیق نے تحریک انصاف کے حامد خان کو ہرایا تھا،اِس فیصلے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہارنے والے لوگ ہمیشہ الزام کا سہارا لیتے ہیں تاہم رضا ربانی تو الیکشن سے پہلے ہی انتخابات کو متنازعہ بنائے جانے کی بات کر رہے ہیں، ایسا کیوں ہو رہا ہے اِس کا جواب دینا الیکشن کمیشن کا فرض بنتا ہے، بعض جگہوں پر ایسی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ تمام امیدواروں کے لئے کھیل کا میدان یکساں ہموار نہیں ہے، پسِ پردہ کوششیں بھی اس کی چغلی کھاتی ہیں کہ معتوب جماعت کے امیدواروں کے ساتھ مختلف سلوک کیا جا رہا ہے اور جس جماعت کے سر پر دستِ شفقت رکھا گیا ہے اُس کے امیدواروں سے سلوک نہ صرف مختلف انداز میں کیا جا رہا ہے،بلکہ ایسا ہوتا ہوا نظر بھی آ رہا ہے۔

مقامِ اطمینان ہے کہ جس دن رضا ربانی سینیٹ میں الیکشن کے بارے میں اپنے خدشات اور تحفظات کا اظہار کر رہے تھے اُسی روز چیف جسٹس جناب جسٹس ثاقب نثار برسرِ عدالت یہ ریمارکس دے رہے تھے کہ ہمیں اپنی لیڈر شپ کا اعتماد بحال کرنا ہے، کسی کی ساکھ اور عزتِ نفس متاثر نہیں ہونے دیں گے،اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ آصف علی زرداری اور فریال تالپور ملزم نہیں، اُن کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیا نہ اُنہیں طلب کیا، ایف آئی اے بھی اُنہیں الیکشن تک نہ بلائے،اِس سے قبل دونوں کے نام ای سی ایل میں ڈال دیئے گئے تھے، جبکہ سپریم کورٹ نے ایسا کوئی حکم دیا ہی نہیں تھا، تو پھر سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں کیا گیا، اس کی تحقیقات بھی ایف آئی اے کو کرنی چاہئے کہ کہیں اس کے کچھ افسر شاہ سے زیادہ شاہ پرستی کا طرزِ عمل تو نہیں اپنا رہے۔گزشتہ روز خود آصف علی زرداری نے بھی کہا تھا کہ یہ انتخابات کا وقت ہے احتساب پہلے ہونا چاہئے تھا یا الیکشن کے بعد،اچھا ہوا جناب چیف جسٹس نے حکم جاری کر دیا کہ ایف آئی اے آصف علی زرداری کو الیکشن تک نہ بلائے،ویسے اگر ایسا ہی حکم دوسرے لوگوں کے بارے میں جاری کر دیا جاتا، جن کو نیب نے طلب کر رکھا ہے یا طلب کر رہا ہے اور وہ بھی الیکشن لڑ رہے ہیں تو اچھا ہوتا اور یہ تاثر بنانے میں مدد ملتی کہ تمام کھلاڑیوں کے لئے یکساں ہموار میدان مہیا کیا جا رہا ہے۔ اگر انتظامیہ کے بارے میں ایسا تاثر نہیں بن پایا تو عدلیہ کے بارے میں ضرور بن جاتا، آصف علی زرداری نے کہا تھا نوٹس ڈیڑھ کروڑ کا، ڈھنڈورا چالیس ارب کا پیٹا جا رہا ہے،اگر ایسا ہے تو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ ایسا ڈھنڈورچی کون ہے اور اُس کا مقصد کیا تھا؟ اور اِس قسم کا انکشاف اچانک کیوں ہونے لگا،کیونکہ جن کیسوں کا حوالہ آ رہا ہے وہ تو تازہ نہیں ماضی سے تعلق رکھتے ہیں،یہ سارے امور ایسے ہیں کہ الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کو اس پر ایسی پالیسی بنانی چاہئے جس میں ہر کسی کے ساتھ یکساں سلوک کی ضمانت موجود ہو، بہتر ہے چیف الیکشن کمشنر کو سینیٹ میں طلب کیا جائے اور وہ وہاں جا کر تحفظات دور کریں، کیونکہ اس وقت یہی منتخب اور معتبر فورم ہے جہاں ایسے معاملات پر کھل کر بات ہو سکتی ہے۔

ڈیموں کی تعمیر، تاخیر نہ کی جائے!

مُلک کو درپیش پانی کی قلت کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش نے دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر شروع کرانے کی ترغیب دی۔ چیف جسٹس نے نہ صرف فنڈ قائم کیا،بلکہ ایک عملدرآمد کمیٹی بھی بنا دی،اس کے سربراہ واپڈا کے موجودہ چیئرمین ہیں، کمیٹی نے تجاویز مرتب کر کے24جولائی تک عدالت عظمیٰ میں جمع کرانا ہیں، اِس کمیٹی کا پہلا اجلاس گزشتہ روز ہوا،اِس میں مختلف تجاویز زیر غور آئیں اور اُن کے مطابق پانچ ذیلی کمیٹیاں تشکیل دے کر الگ الگ رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت کی، کمیٹی کے سربراہ اور واپڈا چیف کا کہنا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم بہت مفید منصوبہ ہے، اِس کی تعمیر کے بعد9.3ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہو گی اور 5300 میگاواٹ سستی بجلی بھی میسر آ جائے گی، مہمند ڈیم کی تعمیر بھی شروع ہونا ہے۔

جہاں تک دیامر بھاشا ڈیم کا تعلق ہے، تو اس کی تعمیر کا پہلا سنگ بنیاد دس سال قبل رکھا گیا اور یہ منصوبہ تب سے اب تک رکاوٹوں کا شکار رہا ہے۔ایک وجہ ڈیم کے لئے حاصل کی جانے والی اراضی کا حصول اور معاوضے کی ادائیگی، جبکہ ایک اور رکاوٹ عالمی معاونت تھی۔ جہاں تک اراضی کے حصول کا تعلق ہے تو یہ معاملہ مقامی افراد اور محکمے یا حکومت کے درمیان تھا، لیکن محکمانہ تساہل اور حکومتی لاپرواہی کے باعث یہ معاملہ طے نہ پا سکا، اب بھی سب سے پہلے اِس تنازعہ کو نمٹانے کی ضرورت ہو گی، پھر بھارتی پروپیگنڈے کا بھی موثر جواب دینا ہو گا،جو دُنیا بھر میں اِس مقام کو متنازع قرار دے کر عالمی ڈونر ایجنسیوں کو معاونت سے روکتا رہا ہے، حالانکہ جرم اُس نے خود کیا۔ مقبوضہ کشمیر اقوامِ عالم کے بڑے پلیٹ فارم اقوام متحدہ میں بھی ایجنڈے پر متنازع مسئلے کے طور پر موجود ہے، خود بھارتی حکومت نے ڈیم بنائے اور پاکستان کا اعتراض موجود ہے، تاہم دیامر، بھاشا ڈیم کا علاقہ گلگت، بلتستان کا ہے جو مجاہدین کا آزاد کرایا گیا علاقہ ہے۔ بہرحال عمل درآمد کمیٹی اور واپڈا کو ان تمام امور سے عہدہ برآ ہونا ہو گا اور جتنا جلد ہو سکے بہتر ہے کہ پہلے ہی تاخیر زیادہ ہو چکی۔

یہ ذکر کرتے ہوئے اِس امر کی طرف بھی توجہ دلانا ضروری ہے کہ اِن دو منصوبوں کے علاوہ بھی کئی اور منصوبے زیر تجویز اور زیر تکمیل ہیں۔سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے داسو کے مقام پر داسو ڈیم کے لئے سنگ بنیاد رکھا تھا، جب ناران گئے تو عوامی مطالبے پر وادئ کاغان میں دریائے کنہار پر ایک سو میگاواٹ کا پاور ہاؤس بنانے کا حکم بھی دیا تھا۔ یوں اور بھی منصوبے ہیں، جبکہ ’’رن آف ریور‘‘ کے مطابق چھوٹے چھوٹے بجلی گھر بھی بنائے جا سکتے ہیں، اب اگر ادھر توجہ مبذول کی گئی ہے تو پھر یہ سب منصوبے مکمل کئے جانے چاہئیں،جبکہ کالا باغ ڈیم پر اتفاق کی کوشش بھی شروع کی جائے۔

مزید : رائے /اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...