دینی جماعتوں کے مینڈیٹ کی چوری کا خطرہ؟

دینی جماعتوں کے مینڈیٹ کی چوری کا خطرہ؟
دینی جماعتوں کے مینڈیٹ کی چوری کا خطرہ؟

جمعیت علمائے اسلام اور مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اپنے اخباری بیان میں کہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں دینی جماعتیں اپنا مینڈیٹ چوری نہیں ہونے دیں گی۔انہوں نے کہا کہ آج دینی جماعتیں نئے عزم کے ساتھ میدانِ عمل میں آئی ہیں،ہم نہ تو مسلمانوں کو تقسیم ہونے دیں گے اور نہ ہی اپنی قوت کو منقسم ہونے دیں گے۔

مولانا فضل الرحمن کے اچھے عزائم کی ہم تحسین کرتے ہیں،لیکن حقیقت یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت خوش فہمیوں کے گلشن میں وقت گزارنے اور انتخابات کی آمد آمد پر متحدہ محاذ قائم کرنے کے عادی ہیں،انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں جب مذہبی جماعتوں کا محاذ قائم کیا تو اسے ایم ایم اے کا نام دیا گیا تھا۔

اس طرح مذہبی جماعتیں ’’ہم اٹھاتے، بچھاتے رہے بستر اپنا‘‘ کا مصداق بنی رہی ہیں۔ا س متحدہ محاذ کی برکات کا ہی یہ ثمر تھا کہ حضرت مولانا سراج الحق امیر جماعت اسلامی کو سینیٹ کے الیکشن میں تین ’’3،4‘‘ عدد ووٹوں کے اعزاز اور سرفرازی کا شرف حاصل ہوا ہے اور مولانا فضل الرحمن کی جماعت کے مرکزی رہنما مولانا عبدالغفور حیدری کو ڈپٹی چیئرمین کی کرسی خالی کر دینا پڑی ہے۔

توجہ طلب بات یہ ہے کہ معاشرے میں مذہبی جماعتوں کی عدم مقبولیت کے اسباب و محرکات کیا ہیں؟کیا وجہ ہے کہ جس صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ مولانا مفتی محمود رہے ہوں، اس صوبے میں جمعیت علمائے اسلام کیوں ہار گئی؟ اور حاجی، نمازی اور داڑھی والے عوام میں ایک داڑھی منڈا نوجوان عمران خاں کیوں کامیاب ہو گیا؟جبکہ مولانا فضل الرحمن اور ان کے جماعتی رہنماؤں نے عمران خان کو یہودیوں کا ایجنٹ اور گولڈ سمتھ کا داماد ہونے کا طعنہ دے کر اُس کے خلاف زبردست نفرت کی مہم چلائی تھی،بایں ہمہ علمائے کرام کے مقابلے میں ایک نوجوان عمران خاں کی کامیابی ضرور اپنا پس منظر رکھتی ہے۔

مولانا فضل الرحمن کو ہوائی گھوڑے سے اُتر کر آنکھیں کھول کر صورتِ حال کا مشاہدہ کرنا چاہئے کہ انتخابات کے مرحلے میں مذہبی جماعتیں کیوں شکست کھا جاتی اور ان کی ضمانتیں کیوں ضبط ہو جاتی ہیں؟اور مذہبی جماعتیں سیاسی جماعتوں کی چھتری کے سائے تلے گوش�ۂ عافیت تلاش کرنے اور ان سے وزارتوں اور چیئرمینی کے منصبوں کی سودے بازی پر کمر باندھنے پر کیوں تیار رہتی ہیں؟

مولانا فضل الرحمن کی یہ بھی عادت ہے کہ ہر سال کراچی میں اسلام زندہ باد کانفرنس منعقد کر کے توقع رکھتے ہیں کہ ان کانفرنسوں کی وجہ سے پورے مُلک میں جمعیت علمائے اسلام کو کامیابی حاصل ہو جائے گی اور چند نعروں ہی سے مُلک میں اسلام کا دور دورہ ہو جائے گا،جبکہ اِسی کراچی میں1953ء کی تحریک ختم نبوتؐ سے قبل مشرقی اور مغربی پاکستان کے جلیل القدر علماء و مشائخ نے23نکات پر مشتمل دستوری سفارشات مرتب کی تھیں،جن کی اساس پر1973ء کا اسلامی دستور منظور ہوا تھا، علماء و مشائخ کے اس تاریخی اجلاس کے بعد آج تک دوبارہ اسلامی دستور کے نفاد کے سلسلے میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء ومشائخ کا کوئی اجلاس منعقد نہیں ہو سکا،کیا اس کی وضاحت کی جا سکتی ہے؟کیا مذہبی جماعتوں(بالخصوص) ختم نبوتؐ کے نام پر سرگرم عمل دھڑوں کو متحد نہیں کیا جا سکتا؟ جبکہ آئندہ انتخابات کے موقع پر مسلم لیگ کے مخالف ختم نبوتؐ کے مقدس نام کا حربہ استعمال کرنے پر کمر بستہ نظر آتے ہیں اور لوگوں کے مذہبی جذبات ابھار کر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ایسے نازک حالات میں ختم نبوت کے نام پر سرگرم عمل جماعتوں کو اپنی ازسر نو شیرازہ بندی کرنی چاہئے،ورنہ گزشتہ دِنوں جن لوگوں نے ختم نبوتؐ کے زیر عنوان دھرنے کا حربہ استعمال کیا تھا، وہ پھر ایسی ہی صورت نمایاں کر سکتے ہیں۔مذہبی جماعتوں کو ووٹ کے چوری ہونے کے سدِ باب پر توجہ دینے کی بجائے ان میں وحدت، بلکہ باہمی ادغام کی شکل اختیار کر لینی چاہئے۔

آئندہ کی بساطِ سیاست پر ضرور نگاہ رکھنی چاہئے،کیونکہ سیاسی مفاد پرست لوگ مذہبی رہنماؤں کا تعاون لے کر اپنا مقصد پورا کرنے پر ہمہ وقت کمر بستہ رہتے ہیں،قیامِ پاکستان سے قبل بھی ان مفاد پرست سیاست دانوں نے مذہب کے مقدس نام سے کام لیا تھا۔جب پاکستان بن گیا تو انہوں نے نہ صرف آنکھیں پھیر لیں، بلکہ اُلٹا مذہبی جماعتوں اور رہنماؤں کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کر کے اُنہیں معاشرے میں ناگفتنی مقام دینے کی مذموم کوشش کی تھی، یہی صورتِ حال ان دِنوں درپیش ہے، سیاسی مفاد پرست علمائے کرام اور دینی جماعتوں کا تعاون حاصل کر کے مقصد برآری میں کامیاب ہو جاتے ہیں،بعد میں ان کی بات سننا تو درکنار ان کی جانب توجہ دینے کی بھی زحمت گوارا نہیں کرتے۔اندریں صورتِ حال علمائے کرام اور دینی جماعتوں کو اپنے اندر اتحاد و یگانگت کی صورت پیدا کرنے اور اپنے دھڑے اور گروپ ختم کر کے ایک جماعت کے پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو جانا چاہئے ورنہ ان جماعتوں کو جو نقصان پہنچے گا وہ رہا اپنی جگہ،ان کی وجہ سے اسلام کے مقدس مقاصد کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے،جس کے سدباب کی کوشش کرنی چاہئے اور مینڈیٹ چوری ہونے پر فکر مند نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ مینڈیٹ ہو گا تو چوری کا خطرہ دا من گیر ہو گا، جب مذہبی جماعتوں کو گنتی کے ووٹ ملیں گے تو چوری کا خطرہ کیونکر ہو گا؟مذہبی جماعتوں کو دینی مدرسوں کے طالب علموں کے اجتماع میں ہی اسلام زندہ باد کے نعروں پر انحصار کرنے کے بجائے عوام کی تائید و حمایت پر توجہ دینی چاہئے۔ اس وقت مذہبی جماعتیں مقدس نام سے چندہ لینے میں کامیاب ہیں،لیکن ووٹوں سے ان کے ڈبے خالی رہتے ہیں۔

فاعتبرو ایا اولی الابصار

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...