خدا کے لئے ہندوستانی مسلمانوں پر رحم کیجئے

خدا کے لئے ہندوستانی مسلمانوں پر رحم کیجئے
خدا کے لئے ہندوستانی مسلمانوں پر رحم کیجئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

روزنامہ پاکستان میں 29جون کو مشہور مذہبی اور سیاسی رہنما جناب حافظ سعید کا ایک بیان شائع ہوا ہے کہ مودی مسلمانوں کا قتل عام بند کرے ورنہ انڈیا میں کئی پاکستان اور بنیں گے۔

مزید فرمایا کہ بھارتی مسلمانوں کو بھی بیدار کرکے ایسی تحریک چلائیں گے کہ مودی کی نیندیں حرام ہو جائیں گی‘‘۔۔۔ یہ دونوں بیانات اس اعتبار سے انتہائی خطرناک ہیں کہ ہندوستان کے مسلمان آج کل اپنی تاریخ کے بدترین حالات سے نبردآزما ہیں اور یہ دونوں بیانات ان کے لئے سخت نقصان دہ ہیں ان کی مشکلات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ قرآن کے اسلوب میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اے مسلمانو تم وہ بات کہتے کیوں ہو جو کر نہیں سکتے۔

صورتِ حال یہ ہے کہ بی جے پی نے ہندوستان کی بیشتر ریاستوں میں حکومتیں بنا لی ہیں، انہوں نے مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا ہے اور جگہ جگہ مسلم کش فسادات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

اپریل گزشتہ میں بہار کے ضلع نوائیدا میں ایک ہفتے تک مسلمانوں کے خلاف فسادات جاری رہے، جس کے نتیجے میں چار مسلمان شہید اور درجنوں شدید زخمی ہوئے، جبکہ مسلمانوں کے ایک ہزار سے زیادہ مکانات، دکانیں اور مساجد جلا دی گئیں۔

مئی میں اورنگ آباد میں ہزاروں ہندو بلوائیوں نے پانچ مسلم محلوں کو کئی گھنٹے تک گھیرے میں لئے رکھا اور مکانوں اور دکانوں کو آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں 132مکان جل کر کھنڈر بن گئے اور ایک سو سے زیادہ گاڑیاں اور ٹھیلے جل گئے، جبکہ ایک نوجوان شہید ہو گیا اور 56 شدید زخمی ہوئے۔ جزوی کرفیو کے باوجود ہندو شرپسندوں کی کارروائیاں جاری رہیں۔

انتہا پسند ہندو تنظیموں کی ’’ہندو گاؤں‘‘ مہم تیز کر دی گئی ہے اور ایک سال میں چھ سو دیہات کو’’ہندو گاؤں‘‘ قرار دے کر وہاں سے مسلمانوں کو نکال دیا گیا ہے اور اس خبر نے تو مجھے لرزا کے رکھ دیا ہے (روزنامہ پاکستان یکم جولائی) کہ میرٹھ میں مسلمان خوف کا شکار ہو کر اپنے آبائی گھر فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور مسلمانوں نے اپنے مکانوں کے باہر ’’گھر برائے فروخت‘‘ کے بینر آویزاں کر دیئے ہیں۔

یہ صورتِ حال ظاہر ہے انتہائی گھمبیر ہے اور اگر خدانخواستہ ہندوستانی مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس بے قابوہو گیا اور وہ بے چارے جان بچانے کی خاطر ہجرت پر مجبور ہو گئے اور انہوں نے پاکستان کا رخ کر لیا، جبکہ معاملہ ہزاروں لاکھوں کا نہیں، بیس پچیس کروڑ کا ہے، تو تصور کیا جا سکتا ہے کہ نقشہ کیا بنے گا۔ پاکستان جو پہلے ہی مسائل در مسائل کا شکار ہے، ایسی صورتِ حال سے دوچار ہو جائے گا، جس کے تصور ہی سے ہول آنے لگتا ہے۔

چنانچہ اس مسئلے سے نپٹنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ ہم ہندوستان اور ہندوؤں کے خلاف نعرہ بازی کریں اور انہیں مسلمانوں کے خلاف مزید مشتعل کریں، بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس آگ کو بجھانے کی کوئی صورت اختیار کی جائے۔

یاد آیا صدر ایوب خان نے مشہور قانون دان اے کے بروہی کو ہندوستان میں سفیر مقرر کیا تھا، مگر وہ چھ ماہ کے بعد ہی استعفا دے کر واپس آگئے تھے۔

انہیں اعتراض یہ تھا کہ پاکستان میں ہندوستان کے خلاف جو نعرے بازی کی جاتی ہے، یہ وہاں مسلمانوں کے خون میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہی بات مشہور مسلمان اداکار دلیپ کمار (محمد یوسف خان) نے وزیراعظم مودی کے پاس بیٹھ کر ٹیلی فون پر نوازشریف صاحب کو بتائی تھی کہ پاک و ہند کے تعلقات بگڑتے ہیں تو ہندوستان میں مسلمانوں کا گھروں سے باہر نکلنا محال ہو جاتا ہے۔

اور آج کل تو وہاں مسلمانوں پر گویا قیادت ٹوٹ پڑی ہے اور محض ظاہری شناخت پر بغیر کسی قصور کے انہیں زدوکوب کیا جاتا ہے۔اس صورتِ حال میں اس قسم کے بیان دینا کہ ہندوستان میں اور بھی پاکستان بنیں گے اور یہ کہ ہم ہندوستانی مسلمانوں کو بیدار کرکے ایسی تحریک چلائیں گے جو مودی کی نیندیں حرام کر دے گی، انتہا درجے کی ناعاقبت اندیشی ہے اور یہ ہندوستانی مسلمانوں کی خیرخواہی نہیں، بدترین دشمنی ہے۔

میری حافظ صاحب سے مودبانہ گزارش ہے کہ براہ کرم وہ ہندوستانی مسلمانوں پر رحم فرمائیں، انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں اور جلتی پر تیل نہ گرائیں۔

وہ ہندوستان میں مزید پاکستان بنانے کا منصوبہ نہ بنائیں، بلکہ وطن عزیز پاکستان کی خیر منائیں، جو بے مثال قسم کے داخلی اور خارجی خطرات میں گھرا ہوا ہے، دنیا میں جس کا کوئی دوست نہیں، جس کی معیشت ڈانواں ڈول ہے، جہاں سیاسی انتشار بے پناہ ہے اور جہاں کی اخلاقی اور دینی حالت زوال کی آخری حدوں کو چھو رہی ہے!

مزید : رائے /کالم