عدلیہ کا تاریک دور (1)

عدلیہ کا تاریک دور (1)
 عدلیہ کا تاریک دور (1)

  

میری بڑی بیٹی اپنی فیملی کے ساتھ دبئی میں رہائش پذیر تھی اور ایک انٹرنیشنل بینکHSBC میں بڑے عہدے پر فائز تھی۔ وہ اکثر مجھے آنے کا کہتی رہتی تھی، لیکن کام کی زیادتی کی وجہ سے مَیں اس سے مل نہیں پاتی تھی۔

میرا اپنی بیٹی اور نواسوں کو دیکھنے کا وقت صرف ہائی کورٹ کی چھٹیوں میں ملتا تھا۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ فلک شیر صاحب کی ریٹائرمنٹ نزدیک آ رہی تھی اور کچھ ایسا ہوا کہ لاہور ہائی کورٹ کے کچھ جج سپریم کورٹ تعینات ہو گئے اور میرا نام سنیارٹی لسٹ میں دوسرے نمبر پر آ گیا۔سنیارٹی میں میرا نمبر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ بننے کا تھا۔ تمام وکلاء اور احباب یہی بات کرتے تھے کہ اب آپ پاکستان کی تاریخ کی پہلی خاتون چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ہوں گے۔ تجزیئے لکھے جا رہے تھے کہ مَیں واحد خاتون تھی، جو آئینی شقوں اور سنیارٹی کو پورا کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے عہدے پر آ سکتی تھی۔ دوسری طرف جنرل پرویز مشرف بھی خواتین کی نمائندگی کے علم بردار بنے ہوئے تھے۔

ایک بات تو واضح تھی کہ میرے قانون، انصاف اور انسانی حقوق پر مبنی فیصلوں کو دیکھتے ہوئے مجھے کوئی آئینی کیس نہیں دیا جاتا تھا اور تمام سول، فوجداری اور فیملی کیسز میرے پاس آتے تھے۔پرویز مشرف صاحب کے لئے مجھے نظر انداز کرنا مشکل کام تھا۔ ایک شام ایک صاحب میرے گھر آئے اور کہنے لگے کہ آپ کے لئے ایک پیغام لایا ہوں۔آپ اپنی مرضی کے فیصلے کرتی ہیں اور ایک زمانے میں بے نظیر بھٹو کے نزدیک رہ چکی ہیں۔

حکومت چاہتی ہے کہ آپ تحریری طور پر واضح کر دیں کہ جو فیصلہ ہم آپ کو لکھوا کر بھجوائیں گے، آپ من و عن اس پر عمل کریں گی اور اپنا استعفیٰ گارنٹی کے طور پر ہمیں دیں گی اور اگر کسی آئینی کیس پر لکھا ہوا فیصلہ آپ کے پاس آیا تو آپ اسی کی روشنی میں کیس کا فیصلہ کریں گی۔مجھے بہت غصہ آیا اور حیرانگی بھی ہوئی۔

مَیں نے اس سے کہا کہ کیا کسی حکومت نے کبھی چیف جسٹس کو تعینات کرنے سے پہلے اس سے گارنٹی کے طور پر استعفیٰ طلب کیا ہے یا اسے پہلے سے لکھے ہوئے فیصلوں پر دستخط کرنے کی گارنٹی مانگی ہے،جو بات آپ کر رہے ہیں وہ توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔کیوں نہ مَیں آپ کو توہین عدالت میں گرفتار کروا دوں۔ آپ ابھی یہاں سے چلے جائیں۔

مجھے سمجھ آ گئی کہ حکومت اپنا کٹھ پتلی چیف جسٹس تعینات کرنا چاہتی ہے،لیکن مجھے اِس کی پرواہ نہیں تھی۔ بیٹی بضد تھی کہ مَیں اپنے نواسے کے جنم دن پر شرکت کرنے دبئی آؤں،لہٰذا مَیں نے چھٹیاں لیں اور ٹکٹ بُک کروا لی۔میری فلائٹ سے ایک دن پہلے جسٹس افتخار حسین چودھری میری عدالت کے ریٹائیرنگ روم میں آئے اور کہنے لگے فخر النساء مَیں آپ کی جگہ پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ بن رہا ہوں۔اگر آپ کو نظر اندازکرتے ہیں تو عورت ہونے کے ناطے ایک بڑا ایشو بنتا ہے۔اگر آپ اِس فیصلے کو چیلنج کئے بغیر قبول کرتی ہیں تو شاید حکومت آپ کو سپریم کورٹ کے جج کے طور پر تعینات کر دے۔اس طرح آئینی ضرورت بھی پوری ہوتی ہے اور آپ کو بھی سپریم کورٹ میں خواتین کی نمائندگی کا موقع مل جائے گا۔مَیں حیران تھی، کیونکہ جسٹس افتخار حسین چودھری سنیارٹی میں مجھ سے جونیئر تھے۔ مَیں نے ان سے کہا کہ اگر آپ آئین کو نظر انداز کر کے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ بنتے ہیں تو مَیں آپ کی تقرری کو چیلنج کروں گی۔وہ خاموش ہو گئے اور چلے گئے۔مَیں ذہنی طور پر بہت پریشان تھی۔ یہ ایسی باتیں تھی جن کا ذکر مَیں کِسی کے ساتھ نہیں کر سکتی تھی۔

اب اپنے ساتھی ججز پر بھی یقین چلا گیا تھا۔ حکومت اپنا من پسند چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ تعینات کرنا چاہتی تھی اور مَیں اس کے راستے کا پتھر تھی۔

مجھے supersede کرنے پر بڑا ایشو بنتا تھا اور مَیں حکومت کی شرائط کو پورا کرنے سے انکاری تھی یہ ضمیر کی آواز تھی۔مَیں نے اپنے شوہر سے اس کا ذکر کیا وہ کہنے لگے کہ تمہیں جانتا ہوں تم ضمیر کے خلاف کوئی کام کر کے خوش نہیں رہ سکتی ہو۔ وہ کرو جو تمہارا ضمیر کہے، مَیں تمہارے ساتھ ہوں۔ان کے یہ کہنے سے میرے دِل کو بہت دلاسا ہوا اور ہمت بندھی۔

ستمبر 2002ء میں چیف جسٹس فلک شیر صاحب ریٹائر ہوئے اور جنرل مشرف نے جسٹس افتخار حسین کے بھائی کو جو کہ اسمبلی کے ممبر تھے اپنے ساتھ ملایا اور کچھ سینئر جج صاحبان کو سپریم کورٹ بھیج دیا۔

مجھے سپریم کورٹ نہ بھیجا اور supersede کر کے جسٹس افتخار حسین چودھری کو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ تعینات کر دیا۔ اخبارات میں اس ناانصافی کے خلاف بہت سی خبریں شائع ہوئیں، قاضی فائز عیسیٰ نے ’’ڈان‘‘ اخبار میں لکھا کہ ایک خاتون جج بطور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کیوں تعینات نہیں ہو سکتی۔مَیں نے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے بے انصافی کر کے عدلیہ کو کلنک کا ٹیکہ لگا دیا ہے۔ اس وقت شیخ ریاض صاحب چیف جسٹس آف پاکستان تھے، انہیں یہ بات بہت بُری لگی۔

اسی اثناء میں دہلی ایک جوڈیشل کانفرنس میں اور انہوں نے مجھے ذاتی طور پر سپیشل دعوت نامہ ارسال کیا،جبکہ دعوت نامہ انہیں چیف جسٹس آف پاکستان کی معرفت ارسال کرنا چاہئے تھا۔ مجھے کانفرنس میں شرکت کی اجازت نہ ملی، بلکہ مجھے ایک ہفتہ کے لئے ملتان بنچ بھجوا دیا گیا۔میرے ملتان پہنچنے کے دوسرے دن مجھے ایک نوٹیفکیشن موصول ہوا کہ مَیں چیئرمین ماحولیات پاکستان بنا دی گئی ہوں۔

مَیں حیران رہ گئی،مجھ سے تو پوچھا ہی نہیں گیا تھا اور آئین پاکستان کے مطابق ایک حاضر سروس جسٹس کی مرضی کے بغیر کی گئی تعیناتی غلط اقدام تھا۔ مَیں راتوں رات لاہور پہنچ گئی۔ اگلے روز مُلک کے تمام بڑے اخبارات میں شہ سرخی شائع ہوئی کہ حکومت نے مجھے چیئرمین ماحولیات پاکستان تعینات کر دیا ہے۔

جسٹس افتخار حسین چودھری نے مجھے فون کیا اور مبارکباد دی اور کہا کہ بی بی آپ کو بہترین امپورٹڈ کاریں ملیں گی،آپ کی تنخواہ آپ کی موجودہ تنخواہ سے چار گناہ زائد ہو گی اور آپ پورے پاکستان کی ماحولیات کی چیئرمین ہوں گی۔ آپ کو اِس عہدے کی مراعات کا اندازہ نہیں ہے۔آپ نے میری بات نہیں مانی اور ہمیں مجبوراًیہ اقدام اٹھانا پڑا،لیکن پھر بھی آپ کا خیال رکھا گیا ہے۔

مَیں نے کہا کہ آئین کے مطابق اس عہدے کے لئے مجھ سے نہیں پوچھا گیا، لہٰذا مَیں اس عہدہ کو قبول نہیں کرتی ہوں۔ مَیں نے اخبارات کو فون کر کے اپنا موقف بیان کر دیا۔

ایک بھونچال آیا ہوا تھا۔ وکلاء اور ججز صاحبان کا موضوعِ بحث میرا انکار تھا کہ میرے انکار کے بعد کیا مَیں اپنے موجودہ عہدے پر قائم رہ سکتی ہوں یا نہیں؟ مَیں نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر اپنے ضمیر کی آواز کو سننے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

مجھے اس بات کی پرواہ نہیں تھی کہ مَیں ایک مراعات والا عہدہ چھوڑ رہی تھی، جس کے نتیجے میں شاید مَیں عدلیہ میں بطور جج لاہور ہائی کورٹ نہ رہتی۔ اس دن مجھے یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ مجھے اپنی عدالت جانا ہے یا نہیں جانا ہے۔

چیف جسٹس افتخار حسین چودھری نے میری کاز لسٹ اور روسٹر بھی منسوخ کر دیا تھا۔میرا تمام دفتر کا سٹاف گومگو کی کیفیت میں تھا اور میرے گھر کا فون مستقل بج رہا تھا۔صحافی میرا موقف لینا چاہتے تھے۔

وکلاء اور ساتھی ججز صاحبان حیرانگی کی کیفیت میں تھے اور مجھ سے اظہارِ یکجہتی کر رہے تھے۔اس دن احساس ہوا کہ جب انسان ضمیر کی آواز سنتا ہے تو لوگ اس کا ساتھ دیتے ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ نے میرا ساتھ دیا اور چیف جسٹس آف پاکستان شیخ ریاض صاحب دہلی کانفرنس میں شرکت کے لئے چلے گئے۔ان کی جگہ قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان منیر اے شیخ تعینات ہو گئے۔

مَیں نے موقع کو دیکھتے ہوئے اپنی غیر آئینی تعیناتی برائے چیئرمین ماحولیات پاکستان کے خلاف ایک پٹیشن سپریم کورٹ میں دائر کر دی، جو کہ جسٹس منیر اے شیخ اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر کے ڈویژن بنچ میں لگی۔ڈویژن بنچ نے فیصلہ دیا کہ یہ بدترین قسم کی غیر آئینی حرکت ہے، کل کو آپ ہائی کورٹ کے کسی بھی جج کو کہیں بھی پھینک دیں گے۔ قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان نے فوری طور پر فیصلہ معطل کر کے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو حکم دیا کہ وہ میری کاز لسٹ فی الفور بحال کریں۔

مَیں گھر جانے سے پہلے نماز کے لئے مصلّے پر بیٹھی تھی کہ ایک وکیل نے اندر آنے کی اجازت مانگی اور مجھے کہا کہ میڈم بہت بڑی خوشخبری ہے، سپریم کورٹ نے آپ کا بطور چیئرمین ماحولیات پاکستان کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا ہے۔ اُس وکیل کے جانے کے بعد مَیں سجدے میں گر گئی۔ آج مَیں نے خدا کو دیکھ لیا تھا۔

اب احساس ہو رہا تھا کہ مَیں حکومت کے لئے کتنا بڑا مسئلہ تھی اور وہ مجھے ہٹانے کے لئے کس حد تک جا سکتے تھے،لیکن مَیں بھی کیا کرتی اپنے ضمیر کی قیدی تھی۔

ساری عمر آئین کی پاسداری، جمہوریت کی بحالی، عدلیہ کی بالادستی کے لئے جیلیں کاٹیں،ذاتی زندگی داؤ پر لگائی اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا تھا اور عدلیہ میں آ کر قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا تھا۔

اگر عہدہ بھی چلا جاتا تو دُکھ نہ ہوتا یہ عہدہ میرے پاس چل کر آیا تھا، مَیں نے کبھی اس کی خواہش نہیں کی تھی۔پرویز مشرف پہلے ڈکٹیٹر نہیں تھے،مَیں نے تو جنرل ضیاء الحق کے دور کا ظلم تھی برداشت کیا تھا۔

پرویز مشرف کی سب سے بڑی ناکامی آئینی اداروں کو تباہ کرنا تھا۔ وہ اپنے عہدے کے تحفظ کے لئے ہر طرح کی بے ضابطگی اور کرپٹ لوگوں سے سمجھوتا کرنے کے لئے تیار تھے۔مجھے آج بھی اس سوال کا جواب نہیں ملا کہ اگر وہ کوئی بے ضابطگی نہیں کرنا چاہتے تھے تو اُنہیں مجھ سے کیا ڈر تھا؟ (جاری ہے)

مزید : رائے /کالم