اراضی پر غیر قانونی قبضہ ، متعلقہ اتھارٹیز کی ریکارڈ سمیت طلبی

اراضی پر غیر قانونی قبضہ ، متعلقہ اتھارٹیز کی ریکارڈ سمیت طلبی

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے دو مختلف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے مزاربی بی پاکدامن اور جلو موڑ میں واقع مسیحی قبرستان کی اراضی پر قبضہ کیخلاف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ اتھارٹیز کو مکمل رپورٹس کے ساتھ طلب کر لیا۔تفصیلات کے مطابق بی بی پاک دامن کی 72 کنال اراضی پر غیر قانونی قبضے کے خلاف درخواست پر محکمہ اوقاف کے سیکرٹری کو مکمل رپورٹ کے ساتھ طلب کر لیاہے۔جسٹس علی اکبر قریشی نے کیس کی سماعت کی ،درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر مومن ملک عدالت میں پیش ہوئے ،درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ قبضہ مافیا نے ناجائز طور پر بی بی پاک دامن کی 72 کنال اراضی پر قبضہ کر رکھا ہے جبکہ بی بی پاک دامن کی 72 کنال اراضی پر ناجائز مکانات اور دکانیں تعمیر کیں گئی ہیں۔درخواست گزار نے استدعا کی عدالت بی بی پاک دامن کے اطراف میں چار دیواری کرنے کا بھی حکم دے کر بی بی پاک دامن کی72 کنال اراضی خالی کروانے کے احکامات جاری کرے،عدالت نے محکمہ اوقاف سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 16 جولائی تک ملتوی کر دی۔اسی طرح مسیحی قبرستان کی اراضی پر مبینہ غیر قانونی قبضہ کے خلاف دائردرخواست پر بھی لاہور ہائیکورٹ نے لاہورکے کمشنر،ڈی سی اورمتعلقہ تحصیلدار کو 16جولائی کوریکارڈ سمیت طلب کرلیاہے۔عدالت نے اس کیس میں سیٹھ عابد کو بھی طلبی کے نوٹس جاری کئے ہیں ۔جسٹس علی اکبر قریشی نے منظور مسیح کی جانب سے دائر اس درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ قبرستان کی ایک انچ بھی اراضی پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ جلوموڑ کے علاقہ میں مسیحی قبرستان 11کنال16مرلہ پر محیط ہے جبکہ اس وقت قبرستان کے لئے صرف5کنال جگہ رہ چکی ہے ،جلوموڑ کے پٹواری نے عدالت میں بیان دیا کہ قبرستان کی 6کنال 11مرلہ اراضی پر با اثر افرد نے فصل کاشت کررکھی ہے ،عدالت کے استفسار پر پٹواری نے بتایا کہ فصل سیٹھ عابد نے کاشت کررکھی ہے ۔عدالت نے مذکورہ حکم کے ساتھ کیس کی مزید سماعت 16جولائی تک ملتوی کردی ۔

بی بی پاکدامن اراضی

مزید : صفحہ آخر