وطن میں گرفتار ، نیب نے نواز شریف ، مریم کو جہا ز کے اندر سے حراست میں لیا ، خصوصی طیارے میں راولپنڈی منتقل ، استقبال کیلئے آنیوالے کارکنوں کی پولیس سے جھڑپیں ، شیلنگ ، درجنوں زخمی ، سینکڑوں گرفتار ، موبائل سروس معطل رہی 

وطن میں گرفتار ، نیب نے نواز شریف ، مریم کو جہا ز کے اندر سے حراست میں لیا ، ...

لاہور،راولپنڈی(رپورٹنگ ٹیم )سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو لاہور ائیر پورٹ سے گرفتار کرلیا گیا۔نواز شریف اور مریم نواز نجی طیارے کی پرواز ای وائی 243 کے ذریعے لاہور ایئرپورٹ پہنچے ۔ ان کے ساتھ 40 کے قریب (ن) لیگی رہنما بھی لندن سے لاہور پہنچے ۔پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی مدد سے نیب نے نواز شریف اور مریم نوا زکو طیارے کے اندر سے گرفتار کرلیا،طیارے کے اندر لیگی کارکنوں اور رینجرز میں ہاتھا پائی بھی ہوئی،ایف آئی اے نے دونوں کے پاسپورٹ قبضے میں لیکرخصوصی طیارے میں راولپنڈی منتقل کردیا گیا۔جہاں سے نوازشریف کواڈیالہ جیل جبکہ مریم نوازکو سہالہ ریسٹ ہاؤس میں منتقل کردیاگیا ،انتظامیہ نے سہالہ ریسٹ کوغیر معینہ مدت کیلئے سب جیل قرا ردینے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے ۔ اڈیالہ جیل کے اطراف میں سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے اڈیالہ جیل کے اطراف کئی مقامات پر کنٹینرز رکھ کر سڑکیں بھی بلاک کر دی گئیں ۔6رکنی خصوصی میڈیکل بورڈ نے جیل میں نواز شریف اور مریم نواز کا طبی معائنہ کیا۔نجی ٹی وی کے مطابق نواز شریف اور مریم نواز کو الگ سکواڈ کے ذریعے اڈیالہ جیل پہنچایا گیا ،طبی معائنے کے بعد مریم نواز شریف کو سہالہ ریسٹ ہاؤس منتقل کر دیا جائے گا ۔

نواشریف گرفتار

لاہور،فیصل آباد ،راولپنڈی،اسلام آباد، وزیرآباد، ڈسکہ،ہیڈمرالہ،نارنگ منڈی، سیدوالا ، جڑانوالہ، قصور،گجرات ،ساہیوال(رپورٹنگ ٹیم ،نمائندگان پاکستان )سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی آمد سے قبل لاہور اور اسلام آباد میں سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ،سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر لاہور کی شاہراہوں پر بڑی تعداد میں کنٹینرز رکھے گئے تھے ۔میٹرو بس سروس بھی معطل رہی ۔پنجاب کی نگران حکومت نے سکیورٹی صورتحال کو جواز بنا کر گزشتہ روز پنجاب میں انٹرنیٹ ،موبائل فون سروس ،وائی فائی اور سوشل میڈیا کو سہ پہر ایک بجے سے رات گئے تک بند رکھا جس کے نتیجے میں پنجاب کے لوگوں کا ملک بھر سے رابطہ منقطع رہا ۔راوی پل سمیت لاہور کے داخلی خارجی راستوں اور ائیر پورٹ کا مکمل کنٹرول رینجرز کے حوالے کیا گیا جنہوں نے ائیر پورٹ کی حدود میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے یہاں تک کہ ایسے مسافر جنہوں نے اندرون و بیرون ملک مختلف فلائٹس کے ذریعے روانہ ہونا تھا انہیں سخت تلاشی ،ٹکٹ اور پاسپورٹ چیک کرنے کے بعد ائیر پورٹ کے اندر جانے کی اجازت دی گئی۔نواز شریف اور مریم نواز کا لاہور ائیر پورٹ پر استقبال کرنے کیلئے گزشتہ روز لاہور سمیت پنجاب بھر سے ن لیگی رہنماؤں کی قیادت نے لیگی کارکنان نے ائیر پورٹ کا رْخ کیا تو انہیں مختلف مقامات پر پولیس کی جانب سے رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا،راوی پل ،شاہدرہ ،مال روڈ ،جوڑے پل پر پولیس اور ن لیگ کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں اور پتھراؤ بھی ہوا ۔راوی کے پل پر جب لاہورمیں داخل ہونیوالے قافلوں کو روکا گیا تو سخت مزاحمت کے بعد کچھ دیر کیلئے علاقہ میدان جنگ بن گیا ،درجنوں کارکن لاٹھی چارج سے زخمی ہو گئے ۔مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان راول ٹول پلازہ پر تصادم ، تین پولیس اہلکار زخمی، پولیس کی جانب سے آنسو گیس اور لاٹھی چارج جبکہ کارکنان نے پولیس کی وین کا کباڑ بنا دیا۔ پولیس نے بتایا کہ لیگی کارکنوں نے پولیس کی گاڑی کو نقصان پہنچایا جس کے بعد تصادم میں تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن میں ایک اے ایس آئی اور دو پولیس کانسٹیبل شامل ہیں۔جوڑے پل پر سابق سپیکرقومی اسمبلی ایاز صادق اور دیگر مسلم لیگی کا رکنوں کے درمیان تصادم کے با عث پولیس اہلکاروں نے دوڑیں لگادیں جبکہ رینجرز کے ساتھ تصادم میں مسلم لیگی کارکنوں نیرینجرز اہلکاروں پر بھی پتھراؤکیا جس سے رینجرز کا ایک اہلکار کے سر میں پتھر لگنے سے اس کا سر پھٹ گیا اور وہ خون میں لت پت ہو گیا ۔سہ پہر ساڑھے چار بجے ن لیگ کی مرکزی ریلی لاہوری گیٹ سے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی قیادت میں ائیر پورٹ کی جانب روانہ ہوئی تو ہزاروں افراد پر مشتمل اس جلوس کو مال روڈ پر چڑھنے کیلئے پولیس کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا تاہم انار کلی پر رکاوٹیں توڑ کراور کنٹینر ہٹا کر ما ل روڈ پر پہنچے ،جہاں پولیس کی بھاری نفری نے انہیں پسپا کر دیا ۔ مال روڈ پر دو مقامات پر وکلاء اور شہریوں کی طرف سے استقبالیہ کیمپ لگائے تھے جہاں شیر شیر آیا کے نعرے بلند ہوتے رہے ۔ ریلی میں مریم اورنگزیب ،طلال چوہدری، مصدق ملک،احسن اقبال ، گلگت بلتستان کے وزیر اعلی حفیظ الرحمن ،آزاد کشمیر کے وزیر اعظم فاروق حیدر ،سابق سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال،سابق مشیر وزیر اعلی پنجاب رانا ارشد اور جاوید ہاشمی سمیت دیگر رہنماوں شامل تھے ۔ریلی کے ہمراہ پیدل چلنے والے کارکنوں نے شہباز شریف کی گاڑی کو گھیرے میں لئے رکھا ،کارکنوں نے جذباتی انداز میں نعرے لگاکر یکجہتی کا اظہار کیا، شہباز شریف ہاتھ ہلا کر شکریہ ادا کرتے رہے۔دوسری طرف پولیس کی جانب سے لیگی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ بھی جاری رہی ،شہباز شریف انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے اٹھائے جانیوالے اقدامات سے متعلق پارٹی رہنماؤں سے لمحہ بہ لمحہ آگاہی حاصل کرتے اور کارکنوں کو مکمل پر امن رہنے اور اشتعال میں نہ آنے کے پیغامات بھی بھجواتے رہے ۔لاہور کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کئے گئے سکیورٹی اقدامات کے پیش نظر شہر میں چھٹی کا سماں رہا ۔سرکاری ملازمین نے شہر میں لگائے جانیوالے کنٹینروں کو بنیاد بنا کر دفاتر پہنچنے سے گریز کیا اور گھروں میں بیٹھے رہے ،دفاتر میں حاضری انتہائی کم رہی ۔ادھرضلعی انتظامیہ لاہور نے موقف اختیار کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے 13جولائی کو کسی جلسہ یا ریلی کیلئے کوئی اجازت طلب نہیں کی گئی ۔مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے نام مراسلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے مطابق ایک سیاسی جماعت یا امیدوار کو جلسہ یا ریلی کو منعقد کر نے کیلئے تین دن پہلے مطلع کر نا ضروری ہے،تین دن پہلے مطلع کرنے کا مقصد جلسہ یا ریلی کے مناسب سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنانا اور سکیورٹی اداروں سے جلسہ یا ریلی کے مقام کی رپورٹ لینا ہے مگر مسلم لیگ (ن) نے تین دن پہلے 13جولائی 2018ء کو جلسہ یا ریلی سے متعلق ضلعی انتظامیہ کو مطلع نہ کیا ہے۔جس کے بعد آئی جی پنجاب نے ڈپٹی کمشنرکومراسلہ جاری کیا جس میں مسلم لیگ ن کے رہنماوں کی نظربندی کے احکامات دئیے ۔پنجاب پولیس نے مسلم (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق ،خواجہ سلمان رفیق،خواجہ عمران نذیر،ملک سیف الملوک کھوکھر ،میاں مرغوب،بلال یاسین ،وحید عالم خان ،حاجی رانا بختیارسمیت دیگر لیگی رہنماؤں کو کو 30دن کیلئے نظر بند کرنے کے احکامات جاری کردیے ۔دوسری طرف پارٹی قائد نواز شریف کے استقبال کیلئے آنیوالے لیگی رہنماؤں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔معتبر ذرائع کے مطابق فیصل آباد سے گرفتار ہونے والے (ن) لیگی رہنماؤں اور کارکنوں کی تعداد200تک پہنچ گئی زیادہ تر کارکنوں کو گذشتہ شام لاہور جانے کیلئے کشمیر پل پر رکے ہوئے قافلوں میں سے گرفتار کیا گیا. دریں اثناء باخبر ذرائع کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ سابق ایم پی اے میاں اجمل آصف اور سابق ایم پی اے شفیق گجر کی نظر بندی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جبکہ سابق ایم این اے میاں عبدالمنان کی نظر بندی پر بھی غور کیا گیا ہے. قافلے کے شرکاء منتشر ہو گئے معلوم ہوا ہے کہ سابق ایم پی اے شفیق گجر کے بھائی سابق ریجنل چیئرمین اپٹپما حبیب احمد گجر کو بھی گرفتا رکر لیا گیا ہے میاں منان بھی کشمیر پر پہنچ چکے تھے جہاں ان کے علاوہ 2اہم رہنما رانا ثناء اللہ اقلیتی رہنما خلیل طاہر سندھو شیخ اعجاز احمد اور شفیق گجر بھی موجود تھے۔وزیرآبادکے گردونواح چیمہ کالونی ،سکندر پورہ،بستی قدرت آباد،ڈھونیکی،غلام محمدکالونی،بھروکی چیمہ ،چیمہ کالونی کے کئی ایک مقامات پرچھاپے مار پولیس نے مسلم لیگی رہنماؤں سمیت درجنوں کارکنوں کوگرفتارکرلیا،ڈسکہ پولیس نے مختلف علاقوں میں کنٹینرزلگا کر راستے بند کر دیئے گئے اورمسلم لیگ ن یوتھ ونگ کے تحصیل صدر امجد بٹ کو گرفتار کر لیا،پولیس تھانہ ہیڈمرالہ سے سابق وزیراعظم میاں محمدنوازشریف کے استقبال کے لئے لاہورجانے والے مسلم لیگی کارکنان کسان کونسلریوسی مچھرالہ ملک امجدشہزاد،جنرل کونسلریوسی ہیڈمرالہ عزیزبٹ،کسان کونسلریوسی ہیڈمرالہ امین کسانہ اورپولیس تھانہ کوٹلی سیدامیرنے جنرل کونسلرمحمدیونس کوگرفتارکرلیا۔نواز شریف کی وطن واپسی پر استقبال کیلئے گجرات سے جانیوالے قافلوں کو دریائے چناب پرروک لیا گیا مسلم لیگی کارکنوں کی طرف سے مزاحمت اور پولیس کے ساتھ مبینہ ہاتھ پائی کرنے پرسابق ممبر قومی اسمبلی چوہدری مبشر حسین ‘ سابق مشیر وزیراعلی پنجاب نوابزادہ طاہر الملک ‘سابق ایم پی ایز حاجی عمران ظفر‘ معین نواز وڑئچ اور نوابزادہ حیدر مہدی ،سابق ممبر صوبائی اسمبلی چوہدری شبیر احمد کوٹلہ ممبر جو صوبائی اسمبلی کے امیدوار بھی ہیں سمیت درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ اس موقع پر قافلے کے شرکا کی طرف سے پولیس پر پتھراؤ اور نعرے بازی بھی کی گئی جنہیں منتشر کرنے کیلئے پولیس کی طرف سے نہ صرف لاٹھی چارج کیا گیابلکہ لیگی رہنماؤں کی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔مسلم لیگ ن ساہیوال کے مقامی قائدین وسابق ممبران اسمبلی پیر سید عمران احمدشاہ ‘ملک ندیم کامران ‘ محمدارشد ملک ‘ چوہدری طفیل جٹ اور ضلعی جنرل سیکرٹری راؤ نذرفرید ایڈووکیٹ کی قیادت میں درجنوں کارکنوں کا قافلہ سپریم ہاؤس سے پیدل لاہور کیلئے روانہ ہوا تو پولیس نے انہیں روکا جس پر کارکنا ن اورپولیس کی دھکم پیل اور ہاتھا پائی کے دوران سابق ایم این اے طفیل جٹ زخمی ہو گئے ۔ پولیس نے راؤ نذر فرید سمیت درجنوں کارکنان کو گرفتارکرلیا۔پیر سید عمران احمدشاہ ‘ملک ندیم کامران اور محمدارشد ملک سپریم ہاؤس کے پچھلے دروازے سے گاڑی پر لاہور روانہ ہوگئے۔نارنگ پولیس نے کالا خطائی سٹیشن سے جنرل کونسلر مسلم لیگی رہنما محمد رمضان ،سابق سٹی ناظم چودھری غلام عباس گجر ،چودھری اعظم علی باجوہ،حماد نومی ،میاں امتیاز،شیخ خرم شہزاداوررمضان گجر ، پولیس تھانہ سیدوالا نے ڈی ایس پی سرکل بڑا گھر اور ایلیٹ پولیس کے ہمراہ صبح 6بجے سے ہی پی پی 134 سے ن لیگ کے نامزدامیدوار آغا علی حید ر خاں ،آغا رضا حید ر ، آغا عباس حیدر ، کارکنا ن رانا محسن سلطان ، رانا احسن الطاف ، رائے ولایت،وقاص کاکڑ سمیت چھ درجن کارکنوں کو گرفتارکرلیا۔پولیس تھا نہ سٹی جڑانوالہ ، تھا نہ صدر، تھا نہ ستیا نہ، تھا نہ لنڈیا نوالہ، تھا نہ رو ڈالہ روڈ ، تھا بلو چنی، تھا نہ کھرڑیانوالہ نے کریک ڈا ؤن کر تے ہو ئے 100سے زا ئد کار کنا ن کو حرا ست میں لے لیا گیا حلقہ این اے 102سے امید وا ر قو می اسمبلی طلال چو ہدری ، امید وا ر صو بائی اسمبلی پی پی99چو ہدری اکبر گجر، امید وا ر101را ئے حیدر علی خا ں کھرل سینکڑو ں کا رکنو ں کے ہمراہ را ت گئے ہی لا ہو ر پہنچنے میں کامیا ب ہو گئے۔ جبکہ پی پی 99سے امید وا ر چو ہدری اکبر گجرکے بیٹے عدیل گجر کی قیا دت میں ہزا رو ں کا رکنو ں کا قا فلہ بیسو ں گا ڑیوں پر سوا ر ہو کر مکو آ نہ سے برا ستہ جڑانوالہ لا ہو رجا رہا تھا کہ جھال پل پر ڈی ایس پی عثمان چو ہدری ، ڈی ایس پی کھرڑیانوالہ جی اے چیمہ کی قیا دت میں سینکڑو ں پولیس اہلکا رو ں نے قا فلہ کو روک لیا ۔

گرفتاریاں

لاہور،لندن،ابوظہبی (جنرل رپورٹر ،نیوزایجنسیاں) سابق وزیراعظم نواز شریف نے لندن سے پاکستان روانگی کے موقع پر طیارے میں ریکارڈ کیے گئے ویڈیو پیغام میں کہا کہ پاکستان اس وقت فیصلہ کن موڑ پر ہے، جو میرے بس میں ہے اور تھا وہ میں کرچکا ہوں، معلوم ہے کہ سزا ہوئی ہے اور مجھے جیل لے جایا جائے گا۔عوام میرے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالیں اور قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلیں اور ملک کی تقدیر بدلیں، یہ موقعے بار بار نہیں آئیں گے۔ نواز شریف نے اپنا فرض نبھا دیا۔ اب آپ کی باری ہے !۔ نواز شریف نے کہا ہے کہ کوئی بھی میرے عزم کو کم نہیں کرسکتا،میں گرفتاری دینے کیلئے تیار ہوں ،جہاں سے مرضی گرفتار کرلیں، ’’ووٹ کو عزت دو ‘‘کیلئے میں خود پاکستان پہنچ رہا ہوں، ملک بھر میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں، نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کو استعفیٰ دے دینا چاہیے یا انہیں ہٹادیا جائے،پنجاب کے عوام کو نگران وزیر اعلیٰ پر اعتماد نہیں رہا، اگر الیکشن کی ساکھ نہیں رہے گی تو اس کے نتائج کون مانے گا۔ انہوں نے کہا کہ سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ابوظہبی پہنچ کر فلائٹ ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر کا شکار ہو گئی ہے، میں حیران ہوں کہ پہلے تو ایسا کبھی نہیں ہوا،آج یہ سب کیوں ہوا؟ یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ووٹ کو عزت دینے کیلئے نکلا ہوں، اس میں میڈیا ڈر کرپیچھے ہٹ رہا ہے جب عوام نہیں ڈر رہے تو پھر میڈیا کو بھی آگے بڑھنا چاہیے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ نواز شریف نے کہا کہ پاکستان میدان جنگ بنا ہوا ہے اور دس دن بعد انتخابات ہیں، ایسا دنیا میں کوئی ملک نہیں کر سکتا صرف پاکستان ہی کرسکتا ہے اور گزشتہ 70 سال میں پاکستان نے کئی نقشے تبدیل کئے،جو کچھ بھی پنجاب میں ہو رہا ہے ایسا کسی صوبے میں نہیں۔انہوں نے کہا کہ میں اپنی بیمار اہلیہ کو ہسپتال میں تشویشناک حالت میں چھوڑ کر آرہا ہوں، جس مقصد کیلئے میں آرہا ہوں وہ سب کو معلوم ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم آگے بڑھ رہی ہے، ہمارے امیدواروں کی وفاداریاں تبدیل کروا کر جیپ میں ڈالا جا رہا ہے، میرے ساتھ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے، سب کو معلوم ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ اگر پانچ ٹی وی چینلز بھی ساتھ کھڑے ہو جائیں تو یہ صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی میرے عزم کو کم نہیں کرسکتا اور قوم کا بھی یہی جذبہ ہے اور ایسا جذبہ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھامیں نے ملک کو قوم کی خاطر سٹینڈ لیا۔نواز شریف نے کہا کہ میں اپنا کام کر رہا ہوں، اپنی جدوجہد کو آخری حد تک لے کر جا رہا ہوں ‘ میں نے جو اقدامات اٹھانے تھے اٹھا لئے ہیں،میں پاکستان کا قرض چکانے کیلئے آ رہا ہوں جو مجھ پر واجب ہے اور عوام پر بھی واجب ہے۔25جولائی کو نتائج سب کے سامنے آ جائیں گے۔دوسری طرف مسلم لیگ (ن)کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کے کارکنوں کو گرفتار کرنیوالے 26 جولائی کو جیلوں میں ہوں گے۔لاہور کے علاقے بھٹہ چوک میں انتخابی جلسے سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف ملک بچانے کیلئے آئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور پولیس کو واضح کہنا چاہتا ہوں وقت ایک جیسا نہیں رہتا، جب ہماری حکومت آئے گی تو آپ لوگوں کوانصاف کے کٹہرے میں لیکر آئیں گے۔ شہباز شریف نے کہا کہ پولیس نگران وزیراعلیٰ اور دیگر کی ہدایت پر ہمارے کارکنان کو گرفتار کر رہی ہے اور یہ گرفتاریاں اور نظربندیاں انتخابات سے قبل دھاندلی اورالیکشن کو داغدار کرنے کو شش ہے ۔عمران کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا عمران خان نیازی کو سیاست تو آتی نہیں اب انسانیت بھی بھول گئے ، انسانوں کو جانور کہنا کسی بھی طرح زیب نہیں دیتا، عوام کی تذلیل برداشت نہیں کریں گے ۔یاد رہے عمران خان نے ایک جلسے کے دوران خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف کے استقبال کیلئے جانے والوں کو گدھا کہا تھا۔نوازشریف

Back to

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...