مستونگ ، بنوں بھی لہو لہو ، خودکش دھماکہ میں بی اے پی رہنما سراج رئیسانی سمیت 130، سابق وزیر اعلٰی کے پی کے اکرم درانی کے قافلہ پر موٹر سائیکل بم دھماکہ میں 4شہید ، سیکڑوں افراد زخمی

مستونگ ، بنوں بھی لہو لہو ، خودکش دھماکہ میں بی اے پی رہنما سراج رئیسانی سمیت ...

مستونگ، کوئٹہ ، راولپنڈی (بیورورپورٹ ،مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) انتخابی مہم کے دوران خودکش دھماکے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار نوابزادہ سراج رئیسانی سمیت سمیت 130افرادشہید جبکہ163سے زائد زخمی ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق جمعہ کو مستونگ کے علاقے درینگڑھ میں واقع کلی بمبور میں سراج رئیسانی کی انتخابی مہم کے سلسلے میں ایک چار دیوار ی میں کارنر میٹنگ جاری تھی جس وقت نوابزادہ سراج رئیسانی سٹیج پر تقریر کرنے کیلئے آرہے تھے اور شرکاء کی ایک بڑی تعداد انکے ہمراہ کھڑی تھی ، خود کش بمبار نے قریب آکر خود کو دھماکے سے اڑا دیا، کلی بمبور میں ہونیوالے خودکش دھماکے کا مقام ایک چار دیواری کے اندر تھا جہاں پر پنڈال بنایا گیا تھا اور اس جگہ پر کسی قسم کا واک تھر وگیٹ یا سرکاری سکیورٹی موجود نہیں تھی ،دھماکے کے بعد ضلع مستونگ کے سرکاری ہسپتالوں نواب غوث بخش میموریل ہسپتال اور ڈی ایچ کیو مستونگ میں موجود 8میں سے صرف 4ایمبولینس کارآمد تھیں ،دھماکے میں زخمی ہونیوالے نوابزادہ سراج رئیسانی کو بھی پرائیویٹ گاڑی میں سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کیا گیا ،جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے ،مستونگ میں موجود ذرائع نے بتایاواقعہ میں شہید ہونیوالے افراد میں سے بڑی تعداد پرکانی قبائل سے تعلق رکھتی ہے جنہوں نے نوابزادہ سراج رئیسانی کی انتخابی مہم کے سلسلے میں کارنر میٹنگ کا اہتمام کیا تھا ،واقعہ کے بعد کوئٹہ کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی جبکہ ہسپتال میں موجود افراد کو منتشر ہونے کی بھی ہدایت کی گئی تاکہ کسی بھی قسم کی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے،ڈپٹی کمشنر مستونگ کے مطابق سراج رئیسانی کو زخمی حالت میں علاج کیلئے کوئٹہ منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔مستونگ دھماکے کے بعد کوئٹہ کے سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی، چھٹی پر موجود ڈاکٹروں اور طبی عملے کو واپس طلب کرلیا گیا ۔ڈپٹی کمشنر مستونگ کے مطابق دھماکے کے بیشتر زخمیوں کو کوئٹہ کے اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے جبکہ ترجمان سول ہسپتال کوئٹہ کا کہنا ہے مستونگ دھماکے کے 53 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق مستونگ واقعے میں شہادتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث سول ہسپتال کوئٹہ کے مردہ خانے میں میتیں رکھنے کی جگہ کم پڑگئی ہے اور مردہ خانے کے علاوہ شعبہ حادثات میں بھی میتیں رکھی ہوئی ہیں۔یاد رہے نواب زادہ سراج رئیسانی بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار تھے اور حلقہ پی بی 35 مستونگ سے الیکشن میں حصہ لے رہے تھے جبکہ وہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی کے چھوٹے بھائی تھے۔بم ڈسپوزل اسکواڈ نے بھی مستونگ دھماکا خود کش قرار دیا ہے جبکہ بی ڈی ایس کے مطابق دھماکے میں 16 سے 20 کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔دوسری جانب چیف الیکشن کمیشنر سردار محمد رضا نے مستونگ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے نگران وزیر اعلی بلوچستان، آئی جی پولیس اور چیف سیکریٹری بلوچستان سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے تمام امیدواروں کو بلاامتیاز سکیورٹی فراہم کرنے انتخابات کے ماحول کو پر امن اور سازگار بنانے کی ہدایت کی ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مستونگ میں دہشت گرد حملے کی مذمت کی اور واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا۔اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا پاکستان انتہائی مخلص اور قابل سیاستدان سراج رئیسانی سے محروم ہوگیا۔ جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے کی دشمن قوتوں کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی اور تمام پاکستانی متحد ہوکر دشمن قوتوں کو شکست دیں گے۔بلوچستان کے نگران وزیر اعلیٰ علاؤ الدین مری نے مستونگ دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا دہشتگردی کے واقعات انتخابات کرانے کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے اور سانحہ درینگڑھ میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔ شہید نوابزادہ سراج رئیسانی محب وطن سیاستدان تھے اور وہ ملک میں استحکام پیدا کرنے کیلئے کام کررہے تھے جبکہ وہ قومی اتحاد اور ملک کی سلامتی کے علمبردار تھے۔حکومت بلوچستان نے سانحہ مستونگ پر2 روزہ سوگ کا اعلان کیا جس کے باعث سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہیگا۔بلوچستان عوامی پارٹی نے سانحہ مستونگ پر 3 دن کے سوگ کا اعلان کرتے ہوئے انتخابی سرگرمیاں معطل کردیں۔ پارٹی کے سربراہ جام کمال کا کہنا تھا کل کوئٹہ میں بلوچستان عوامی پارٹی کاجلسہ منسوخ کردیا گیا ہے جبکہ سراج رئیسانی محب وطن رہنما تھے ۔مستونگ دھماکے کے بعد کوئٹہ شہر میں انتخابی مہم معطل ہوگئی امیدواروں نے نوابزادہ سراج رئیسانی کی شہادت کے بعد اپنی مہم کو سوگ کی وجہ سے معطل کرنے کا اعلان کیا ،کوئٹہ سمیت مستونگ کے بازار اور دیگر کاروباری علاقے بھی دھماکے کے بعد بند ہوگئے جبکہ دونوں شہروں کی فضاء سوگوار رہی ۔ واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ۔ علاوہ ازیں خاندانی ذرائع کے مطابق نوابزادہ میرسراج رئیسانی شہید کی نماز جنازہ آج سہ پہر تین بجے ساراوان ہاؤس میں ادا کی جائے گی اور تدفین مستونگ شہداء قبرستان میں کی جائے گی۔

مستونگ دھماکہ

بنوں ،پشاور(نیوز ایجنسیاں) جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ کے پی کے اوراین اے 35سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے مدمقابل امیدوار اکرم خان درانی کے قافلے پر بم حملے میں4 افراد شہید ،25 سے زائدزخمی ہوگئے جن میں تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ جمعہ کو پولیس کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ کے پی کے اکرم خان درانی انتخابی جلسے میں شرکت کیلئے جارہے تھے ،اس دوران راستے میں موٹرسائیکل میں نصب بم زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجہ میں 4افراد موقع پر جاں بحق اور تین پولیس اہلکاروں سمیت 35افراد زخمی ہو گئے ،جبکہ اکرم خان درانی مکمل طور پر محفوظ رہے ، واقعہ کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں جنہوں نے عام شہریوں کے ساتھ مل کر پرائیویٹ گاڑیو ں میں جاں بحق اور زخمی افراد کو ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچایا ،پولیس کے مطابق دھماکا بنوں کے مضا فا تی علاقے حوید میں ہوا،دھماکے کے بعد نجی ٹی وی سے گفتگو میں اکرم خان درانی نے اپنی خیریت کی اطلاع دیتے ہوئے کہا وہ بالکل محفوظ ہیں، لیکن ان کے 4 ساتھی شہید ہوئے۔ اللہ نے بچایا ، دھماکا ان کی جیپ کے ٹائر کیساتھ ہوا، جس سے ان کی گاڑی کے ٹائر، شیشے اور باڈی تباہ ہوگئی۔اکرم خان درانی کا مزید کہنا تھا جلسہ گاہ کے اندر سکیورٹی اچھی تھی اور اسٹیج کیساتھ خاردار تاریں بھی لگائی گئی تھیں۔علاوہ از یں نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے بنوں اور مستونگ دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشتگردی کے واقعہ میں شہید افراد کے لواحقین سے ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی،آصف علی زرداری نے بھی اکرم درانی پر بم حملے کی مذمت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعاکی۔عمران خان نے اکرم خان درانی کے قافلے پر حملے کی مذمت اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہارافسو س کرتے ہوئے کہا انتخابی مرحلے کے دوران دشمن عدم استحکام کا خواہاں ہے،سپیکر قومی اسمبلی سردار ایا ز صادق نے بنوں اور مستونگ میں بم دھما کوں کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ۔ شہباز شریف نے بھی دونوں دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اکرم خان درانی کے انتخابی قافلے پر حملہ افسوسناک ہے۔ علاوہ ازیں چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا نے اکرم خان درانی پر حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا ،آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا سے واقعہ پر رپورٹ طلب کرلی۔ دریں اثنانگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) دوست محمد خان نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں نگران صوبائی کابینہ کے ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بنوں میں ریمورٹ کنٹرول بم دھماکے کی تفتیش کیلئے سات اراکین پر مشتمل جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی ہے ۔انہوں نے ٹیم کو فوری طور پر بنوں روانہ ہونے ، سانحہ کے حقائق اکھٹا کرنے اور مجرموں کو جلد انصا ف کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی اور کہادہشت گرد اور مجرم سزا سے نہیں بچ پائیں گے اُنہیں بہر صورت کیفرکردار تک پہنچایا جا ئے گا۔انتخابی سرگرمیوں پر 7 دن میں 4 دہشت گرد حملے ہوئے ہیں جس میں 2 امیدواروں ہارون بلور اور سراج رئیسانی سمیت 140 سے زائد افراد جاں بحق اور 130 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔7 جولائی کو بنوں میں پی کے 89 سے متحدہ مجلس عمل کے امیدوار ملک شیریں پر انتخابی مہم کے دوران ان کے قافلے کے قریب حملہ ہوا تھا جس میں 7 افراد زخمی ہوئے تھے۔خیبرپختونخوا کے علاقے بنوں میں بھی ایم ایم اے کے امیدوار اکرم خان درانی کی انتخابی مہم کو بھی نشانہ بنایا گیا اور جلسے کے بعد ان کے قافلے کے قریب دھماکے میں 4 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ گزشتہ دنوں پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار بیرسٹر ہارون بلور بھی کارنر میٹنگ کے دوران خودکش دھماکے میں شہید ہوگئے تھے جب کہ اس حملے میں 22 افراد شہید اور متعدد

مزید : صفحہ اول