سینیٹ میں سیاسی گرفتاریوں پر احتجاج ، حکومت نیب پر شدید تنقید

سینیٹ میں سیاسی گرفتاریوں پر احتجاج ، حکومت نیب پر شدید تنقید

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)مختلف سیاسی جماعتوں کے سینٹرز کی حکومت پر شدید تنقید، نگران حکومت جانبدار اور انتخابات کو متنازع بنانے کی ذمہ دار قرار،نگران حکومت انتخابات میں دھاندلی کیلئے بنائی گئی،حکمرانوں نے انتخابات کو متنازع بنا دیا ، سیاستدانوں اور سیاسی ورکرز کو گرفتار کیا جا رہا ہے جبکہ کالعدم تنظیموں کے200 سے زائد امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، دشمنوں نے انتخابات کو سبوتاژ کرنے کیلئے تمام قوتوں کو متحرک کر دیا ہے مگر نگران حکومت کونواز شریف کی گرفتاری کے علاوہ کچھ نظر نہیں آرہا،ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے ، نگران حکومت نے ایک طرف نیب کو متحرک کیا ہوا ہے جو شخص ان کو پسند نہیں ہوتا اس کو نیب کے حوالے کر دیتے ہیں،الیکشن متنازع سے متنازع ہوتا جا رہا ہے،سینیٹ اجلاس میں نکتہ اعتراض پر رضا ربانی،میر حاصل خان بزنجو،شیری رحمان،رحمان ملک ،سعدیا عباسی،مشتاق احمد ،برسٹر سیف،جہانزیب جمالدینی،طاہر بزنجو و دیگر کا اظہار خیال، مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو سیکورٹی خدشات ہیں، چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا سے رپورٹ طلب کر لی ہے،امن و امان کیلئے نگران حکومت صوبوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے،سینیٹ میں نگران وفاقی وزیر داخلہ محمد اعظم خان کا اظہار خیال، علاوہ ازیں نگران وزیر اطلاعات کا میڈیا بلیک آؤٹ پر مستعفی ہونے سے انکار،کسی بھی چینل پر پابندی کے حوالے سے کوئی ہدایات جاری نہیں کیں،پیمرا کے نئے قوانین کے تحت حکومت پیمرا کو کوئی ہدایات جاری نہیں کر سکتی،سید علی ظفر۔تفصیلات کے مطابق جمعہ کو سینیٹ اجلاس میں رضا ربانی نے کہا کہ آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کرانا نگران حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سیکورٹی ان کی پہلی ذمہ داری ہے۔ بتایا جائے سیکورٹی کے لئے کیا اقدامات کئے گئے۔ ایک جماعت کے سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ سینکڑوں کنٹینر لگا کر لاہور کو بند کر دیا گیا۔ کالعدم تنظیموں کے200 سے زائد امیدوار خیبر پختونخوا اور پنجاب سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں سے کسی نے تشدد کی مذمت نہیں کی۔ سینیٹر مشتاق خان نے کہا کہ ہارون بلور پر حملہ دہشت گردی کا بدترین واقعہ ہے،حملہ کرنے والے پاکستان اور اسلام کے دشمن ہیں۔ عبدالرحمان ملک نے کہا کہ نگران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان رابطے کا فقدان ہے۔ خالد خراسانی نے ہارون بلور پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ نگران حکومت کا یہ کام نہیں کہ وہ سیاستدانوں کا احتساب کرے ، احتساب آنے والی حکومت کرے۔ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ اس حوالے سے پہلے ہی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو خط لکھ دیا ہے کہ سیاستدانوں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے۔ شبلی فراز نے کہا کہ اگر ہم نے جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے تو تمام سیاسی جماعتوں کو لیول پلے فیلڈ ملنا چاہیے، بیرسٹر سیف نے کہا کہ جب بھی ملک میں الیکشن ہوتے ہیں تو اس سے قبل سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، شیری رحمان نے کہا کہ بدقسمتی سے اپوزیشن کے بینچوں میں بھی افسردگی پھیل رہی ہے، لندن میں حالات اتنے خراب ہیں کہ ہمارے بچوں کو پولیس گرفتار کر رہی ہے، نواز شریف کے ساتھ ہمارا سیاسی اختلاف ضرور ہے مگر ہم حق اور سچ کی بات کرتے ہیں، نواز لیگ نے ساڑھے چار سال پارلیمان کوبے توقیر کیا جس کا خمیازہ وہ آج بھگت رہے ہیں، ہمارا مسلم لیگ (ن) سے سیاسی اختلاف ہے لیکن لندن میں ان کے اپارٹمنٹس کے باہر مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں سینیٹ میں نگران وزیر اطلاعات و نشریات بیرسٹر سید علی ظفر نے میڈیا بلیک آؤٹ پر مستعفٰی ہونے سے انکار کر تے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی چینل پر پابندی کے حوالے سے کوئی ہدایات جاری نہیں کیں،پیمرا کے نئے قوانین کے تحت حکومت پیمرا کو کوئی ہدایات جاری نہیں کر سکتی،پیمراخودمختار ہے،نگران حکومت کسی کے ساتھ نہیں بلکہ غیر جانبدارہے،آزادانہ، شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے، جس کے لئے الیکشن کمیشن کو ہر ممکن معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ دریں اثنا نگران وفاقی وزیر داخلہ محمد اعظم خان نے کہا ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو سیکورٹی خدشات ہیں لیکن ہارون بلور کو سیکورٹی کا کوئی تھریٹ نہیں تھا، اے این پی کی جانب سے اس جلسہ کی اجازت نہیں لی گئی تھی اور نہ ہی خود سیکورٹی کے کوئی انتظامات کئے گئے تھے، اکرم درانی حملے میں محفوظ رہے ہیں،اس حوالے سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے،امن و امان کیلئے نگران حکومت صوبوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے۔

سینیٹ

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...