بنوں ریموٹ کنٹرول دھماکے کے مجرموں کو بہر صورت کیفرکردار تک پہنچایا جائیگا : دوسٹ خان

بنوں ریموٹ کنٹرول دھماکے کے مجرموں کو بہر صورت کیفرکردار تک پہنچایا جائیگا : ...

پشاور( سٹاف رپورٹر)نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) دوست محمد خان نے بنوں میں ریمورٹ کنٹرول بم دھماکے کی تفتیش کے لئے سات اراکین پر مشتمل جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی ہے ۔اُنہوں نے ٹیم کو فوری طور پر بنوں روانہ ہونے ، سانحہ کے حقائق اکھٹا کرنے اور مجرموں کو جلد ازجلد انصا ف کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی ہے اور کہاکہ دہشت گرد اور مجرم سزا سے نہیں بچ پائیں گے اُنہیں بہر صورت کیفرکردار تک پہنچایا جا ئے گا۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں نگران صوبائی کابینہ کے ہنگامی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔نگران صوبائی وزراء اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔نگران وزیراعلیٰ نے بنوں میں سابق وفاقی وزیر اکرم خان درانی کے قافلے پرحملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ اجلاس میں واقعہ کے شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی گئی اور لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہارکیا گیا ۔نگران وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ صوبہ بھر میں کہیں بھی سیکیورٹی کی روٹین میں خلل نہیں پڑنا چاہیئے ۔ اُنہوں نے شہداء اورزخمیوں کیلئے فوری طور پر معاوضے کا اعلان کیا جبکہ زخمیوں کے لئے بہترین سہولیات اور خصوصی ایمبولنسز کی فراہمی یقینی بنانے اورشدید زخمیوں کیلئے ہیلی کاپٹر کی فراہمی کی ہدایت کی۔ نگران وزیر اعلیٰ نے یکے بعد دیگرے دہشت گردی کے دو سانحات اور نازک صورتحال کے پیش نظر پشاور برن سنٹر کو فوری طور پر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔اُنہوں نے محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کو ہدایت کی کہ صوبے کے تمام اضلا ع میں کسی بھی سانحے کی صورت میں متعلقہ تحصیل ہیڈکوارٹر اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں سے امداد ی ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ کی جائے تاکہ زخمیوں کو بلا تاخیر طبی امداد فراہم کی جا سکے ۔ اجلاس میں سیکیورٹی کے اقدامات ، سابقہ فیصلوں پر عملدرآمد اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا گیااور بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر متعلقہ حکام کو مستعدرہنے کی ہدایت کی گئی ۔ نگران وزیراعلیٰ نے صوبے کے تمام اضلاع خصوصاً حساس علاقوں میں سیاسی رہنماؤں اور امیدواروں کے جلسوں، جلوسوں اور کارنر میٹنگز وغیرہ پر گہری نظر رکھنے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے الیکشن میں حصہ لینے والے قومی لیڈرز اور امیدواروں کو یکساں تحفظ دینے کی ہدایت کی تاکہ نگران صوبائی حکومت کی غیر جانبداری کو مجروح ہونے سے بھی بچایا جا سکے اور تمام اُمیدواروں کو یکساں میدان فراہم کیا جا سکے ۔اُنہوں نے سیاسی رہنماؤں کے آنے جانے کے روٹس پر سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات اور متعلقہ حکام کو لیڈرز کے ساتھ رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔اُنہوں نے کہاکہ بھرپور سیکیورٹی کیلئے جلسے، جلوسوں کے منتظمین سے پیشگی اطلاع لینا ناگزیر ہے۔سیاسی رہنماؤں سے بیک وقت مختلف اجتماعات سے گریز کرنے کی درخواست کی جائے کیونکہ ایک ہی علاقے میں ایک وقت میں دو تین اجتماعات سے سکیورٹی اور توجہ تقسیم ہو جاتی ہے ۔دوست محمد خان نے سیکیورٹی کے سلسلے میں ایس او پیز پر انکی روح کے مطابق عملدرآمد کی ہدایت اور کہاکہ انتظامیہ اور سیاسی رہنماؤں دونوں کی طرف سے ذمہ دارانہ رویے کی ضرورت ہے۔منظور شدہ ایس اوپیز پر عملدرآمد میں رتی بھر غفلت کی بھی گنجائش نہیں۔نگران وزیراعلیٰ نے نازک حالات میں پولیس کو زیادہ محتاط اور ہر وقت چوکنا رہنے کی ضرورت پر زور دیااور کہا کہ ایس ایچ اوز اپنی حدود میں مشکوک حرکات و سکنات اور چھوٹے یا بڑے ہر قسم کے اجتماعات سے با خبر رہیں۔اجلاس کو یکہ توت دھماکے کی تا حال تحقیقات پر مبنی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔نگران وزیر اعلیٰ نے علاقے میں کارنر میٹنگز اور دیگر سرگرمیوں کی جیو فینسنگ کی ہدایت کی اور تحقیقات کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔نگران وزیر اعلیٰ نے پیشگی معلومات اکٹھا کرنے کے اداروں کے درمیان رابطہ موثر کرنے کی ہدایت کی اور کہاکہ پیشگی اطلاعات اکٹھا کرنے اور انکے تبادلے سے دہشتگردی کے منصوبوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔بہتر سیکیورٹی قومی مسئلہ ہے ،کوتاہی، غفلت اور لا پروائی سے قومی سانحے جنم لیتے ہیں اسلئے ہم سکیورٹی کے معاملات پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔اُنہوں نے واضح کیا کہ نگران حکومت کی غیر جانبداری میں شک نہیں پڑنے دیں گے۔قیام امن حتمی ہدف ہے، پر امن انتخابات میں خلل نہیں ڈالنے دیں گے۔اختیارات کو اپنے لئے نہیں عوام کی فلاح و بہبود میں استعمال کرنا پروفیشنل ازم ہے۔انہوں نے پشاور اور بنوں سانحات کی جیو فینسنگ فوری طور پر مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہاکہ دہشتگردی کے لئے ہونے والی کمیونیکیشن سے threat levelکا اندازہ لگاکر دہشتگردی کو روکا جا سکتا ہے اور اس عمل سے نارمل اور ابنارمل سرگرمیوں کا پتہ چلے گا۔مختلف پہلو ؤں کی تحقیق سے جرائم کے پیچھے عوامل اور مقاصد کا پتہ چلتا ہے اور آنے والے سانحات سے بچا جا سکتا ہے۔اداروں کو force multipliersکیلئے وسائل ہونے چاہئیں،مانیٹرنگ اور نگرانی مؤثر ہونی چاہئے۔اُنہوں نے کہاکہ کرایہ داروں کے قانون پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔نگران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ تفتیش کی جدید ٹیکنیکس سے متعلق تفصیلی گائیڈ لائن پہلے سے دے چکے ہیں جن پر عملدرآمد سے سیکیورٹی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔اُنہوں نے انکشاف کیا کہ وفاقی حکومت اُن کے اصرار پر تین ہزار تین سو اڑتیس جوانوں پر مشتمل چھیاسی پلاٹون صوبے کو واپس دینے کی ہدایت جاری کر چکی ہے جبکہ وفاقی وزیر داخلہ آزاد کشمیر سے پولیس کے پانچ سو تربیت یافتہ جوان بھی صوبے کو دے رہے ہیں جس سے صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال مزید بہتر کرنے میں مدد ملے گی ۔ اُنہوں نے کہاکہ صوبے کو واپس ملنے والی ایف سی اور آزاد کشمیر سے ملنے والی پولیس کو صوبے کے حساس ترین علاقوں میں تعینات کیا جائے گا۔ اُنہوں نے کہاکہ دہشتگردی کی جڑیں اکھاڑنے اور مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے ہینڈ لرز اور سہولت کاروں کا بے نقاب کرنا ناگزیر ہے۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...